Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا ابوالکلام آزاد سے معنون آبی اسکیم مشن بھیگرتا میں تبدیل

مولانا ابوالکلام آزاد سے معنون آبی اسکیم مشن بھیگرتا میں تبدیل

وزیراعظم کے ہاتھوں تبدیل شدہ اسکیم افتتاح کی مذمت، اتم کمار ریڈی
حیدرآباد ۔ 4 اگست (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نے مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے موجود پانی کی اسکیم کا نام تبدیل کرکے مشن بھیگرتا سے موسوم کرنے کی سخت مذمت کی۔ وزیراعظم نریندرمودی کو ایک کھلا مکتوب ارسال کرتے ہوئے اس کا افتتاح کرنے کی سخت مذمت کی ہے۔ مکتوب میں کیپٹن اتم کمار ریڈی نے بتایا کہ پراجکٹ کے نام کی تبدیلی مجاہد آزادی اور ملک کے پہلے وزیرتعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی توہین ہے جس کی کانگریس کمیٹی مذمت کرتی ہے۔ کانگریس کے دورحکومت میں دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے عوام کو ایلم پلی ذخیرہ آب سے پہلے مرحلہ میں 10 ٹی ایم سی پانی سربراہ کرنے کیلئے 2008ء میں کاموں کا آغاز کیا گیا اور اس کیلئے 3350 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے۔ شہر حیدرآباد کی بڑھتی ہوئی آبادی کو پائپ لائن کے ذریعہ پانی سربراہ کرنے کیلئے تعمیری کاموں کا آغاز کیا گیا۔ 2008ء میں شروع کئے گئے اس پراجکٹ کیلئے مرکز نے ہڈکو کے ذریعہ مالی تعاون بھی فراہم کیا تھا۔ مارچ 2015ء تک یہ پراجکٹ مکمل ہوگیا ہے۔ اس پراجکٹ کیلئے ریاستی حکومت نے 1955 کروڑ روپئے خرچ کئے اور ہڈکو سے 1564 کروڑ حاصل کئے گئے تھے۔ پائپ لائن گذرنے کے راستوں میں موجود مواضعات کو بھی پانی سربراہ کرنے کی پیش کی گئی تھی۔ تاہم درمیان میں پانی روکنے سے حیدرآباد تک پانی پہنچنے میں دشواریاں ہونے کی تکنیکی رپورٹس وصول ہونے کے بعد حکومت نے اس تجویز کو مسترد کردیا تھا۔ پائپ لائن ضلع کریم نگر سے چیف منسٹر کے اسمبلی حلقہ گجویل سے ہوتے ہوئے حیدرآباد پہنچ رہے ہیں۔ یہ کانگریس کی واٹر اسکیم ہے۔ تاہم ٹی آر ایس حکومت اس کو اپنا کارنامہ قرار دے رہی ہے۔ صرف نام کی تبدیلی سے سارا اعزاز اپنے سر باندھنے کی کوشش کررہی ہے اس کی جھوٹی تشہیر کرتے ہوئے کے ٹی آر نے جی ایچ ایم سی کے انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کیا ہے۔ 2018ء تک ہر گھر کو نل کے ذریعہ پینے کا پانی سربراہ نہ کرنے کی صورت میں ووٹ نہ طلب کرنے کا بھی چیف منسٹرکے سی آر نے اعلان کیا ہے۔ حیدرآباد کو پانی سربراہ کرنے کے مقصد سے شروع کردہ پراجکٹ کو گجویل میں پانی سربراہ کرتے ہوئے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے اور وزیراعظم 7 اگست کو اس اسکیم کا افتتاح کررہے ہیں جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ وہ چاہتے تو قومی تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعہ اس کی تحقیقات کرالیں یا تلنگانہ بی جے پی یونٹ سے اس کی تفصیلات حاصل کریں اور اپنے دورے تلنگانہ کے موقع پر اس پراجکٹ کا افتتاح کریں۔ بغیر دوسری فلاحی اسکیمات میں حصہ دار بننے پر زور دیا اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واٹر اسکیم کا نام مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے دوبارہ موسوم کریں۔

TOPPOPULARRECENT