Tuesday , October 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مولانا ابوالکلام آزاد کی تصانیف کے تلگو ترجمہ کا مشورہ

مولانا ابوالکلام آزاد کی تصانیف کے تلگو ترجمہ کا مشورہ

کریم نگر میں منعقدہ یوم پیدائش تقریب سے پروفیسر مجید بیدار کا خطاب
کریم نگر /15 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مولانا ابوالکلام آزاد ایک عظیم شخصیت کا نام ہے۔ ہندوستان کی آزادی اور تقسیم کے بعد ہندو۔ مسلم فسادات پھوٹ پڑے تھے، جسے روکنے کے لئے گاندھی جی نے مرن برت رکھا تھا۔ فسادات کا سلسلہ جب رکا تو جواہرلال نہرو اور ولبھ بھائی پٹیل نے گاندھی جی سے برت توڑنے کی درخواست کی تو انھوں نے جواب دیا کہ اگر مجھ سے مولانا آزاد آکر کہیں تو میں اپنا برت توڑ دوں گا اور مولانا کے ہاتھ سے پانی لے کر اپنا مرن برت توڑ دیا تھا۔ شاتا وہانہ یونیورسٹی میں پرنسپل سجاتا کی صدارت میں منعقدہ مولانا آزاد یوم پیدائش قومی یوم تعلیم تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر مجید بیدار نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ مولانا آزاد قومی یکجہتی کے علمبردار تھے اور ہندوستان کی تقسیم نہیں چاہتے تھے۔ مولانا نے تعلیمی نظام میں جو تبدیلی کی، اس کے نتیجے میں تعلیم عام ہوئی۔ آج ملک میں تین سو یونیورسٹیاں ہیں، جب کہ پاکستان میں آندھرا کے برابر صرف 17 یونیورسٹیاں بھی نہیں ہیں۔ مولانا نے تین زبانوں کو سیکھنے کے طریقے کو عام کیا اور تعلیم کو خانگیانے کی مخالفت کی تھی اور میں بھی اس کا سخت مخالف ہوں، کیونکہ تعلیم حاصل کرنے کا حق سبھی کو ہونا چاہئے۔ ہم نے سرکاری اسکولس میں تعلیم پائی ہے، اس وقت ایک کلاس کے کئی کئی سیکشن ہوتے تھے، لیکن آج سرکاری اسکولس میں بمشکل دو سیکشن بھی نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تعلیم امیر طبقہ تک محدود ہوتی جا رہی ہے، جو عوام کے لئے نقصاندہ ہے۔ خانگی اداروں کے حوالے کردیئے جانے سے تعلیم کے غلط نتائج نکل رہے ہیں۔ پہلے تعلیمی نصاب مردوں اور خواتین کے لئے علحدہ تھا، لیکن مولانا آزاد نے اس میں کافی تبدیلیاں کیں، جس کے نتیجے میں آج خواتین کی بڑی تعداد تعلیمی میدان میں پیش پیش ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ خاتون ایک خاندان کے سدھار کا ذریعہ بنتی ہے، جب کہ یہ کام مرد نہیں کرسکتا۔ مولانا آزاد ملک کے پہلے وزیر تعلیم تھے، اٹامک انرجی شعبہ کے صدر تھے، جس سے ان کی شخصیت، قابلیت اور تجربہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرنا اس وقت صحیح ہوگا، جب کہ ان کی سوچ اور ان کے پیغام پر عمل کیا جائے اور ان کی تصانیف کا بشمول تلگو دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ اس علاقہ میں تلگو زبان جاننے والے زیادہ ہیں، یو جی سی گرانٹ کی رقم جو عموماً پانچ لاکھ تک دی جاتی ہے، شاتا وہانہ یونیورسٹی میں یہ کام شروع کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ترجمہ کا کام تلگو اور انگریزی دونوں زبانوں میں ہونا چاہئے۔ قبل ازیں مولانا یوم پیدائش و یوم قومی تعلیم کی کنوینر صدر شعبہ اردو ڈاکٹر حمیرہ تسنیم نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ مولانا آزاد کا یوم پیدائش 11 نومبر ہے۔ انھوں نے مختصر طورپر مولانا کی پیدائش سے وفات تک کے واقعات پیش کئے اور کہا کہ وہ ایک عالم دین، مفسر قرآن، منصف، مبصر، سیاست داں، صحافی اور قابل شخص تھے۔ انھوں نے الہلال، البلاغ اور غبار خاطر کے ذریعہ قوم کو بیدار کیا تھا۔ تقریب میں شریک کومل ریڈی رجسٹرار، مسرور سلطانہ صدر شعبہ اردو آر آر کالج، پروفیسر ٹی بھرت کنٹرولر امتحانات اور صدارت پر فائز ایس سجاتا نے بھی مولانا آزاد کی زندگی پر روشنی ڈالی۔

TOPPOPULARRECENT