Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد اردو یونیورسٹی میں دوسرے دن بھی احتجاج

مولانا آزاد اردو یونیورسٹی میں دوسرے دن بھی احتجاج

مطالبات کی تکمیل اور بے قاعدگیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
حیدرآباد۔/13اکٹوبر، ( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں اساتذہ اور طلباء کی جانب سے گزشتہ دو دن سے جاری احتجاج آج بھی جاری رہا اور منظم انداز میں اپنے مطالبات کی تکمیل اور بے قاعدگیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے کیلئے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دی ہے۔ صدر ٹیچرس اسوسی ایشن ابوالکلام کو جے اے سی کا صدر مقرر کیا گیا جبکہ جوائنٹ رجسٹرار ڈاکٹر منور حسین کو سکریٹری کی ذمہ داری دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں سابق وائس چانسلر کو یونیورسٹی مدعو کرنے اور نئی عمارت کا افتتاح کرانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔ جے اے سی کا ماننا ہے کہ جو شخص یونیورسٹی میں مبینہ بے قاعدگیوں کیلئے ذمہ دار ہے اور جن کے سبب یونیورسٹی ترقی کی بجائے تنزل کا شکار ہوگئی انہیں مدعو کرتے ہوئے طلباء اور اساتذہ کے جذبات کو مجروح کیا گیا۔ جے اے سی قائدین نے کہا کہ جن افراد پر سابق وائس چانسلر کے احسانات ہیں انہوں نے بڑھ چڑھ کر انتظامات میں حصہ لیا اور احتجاجی اساتذہ اور طلباء پر بیرونی غنڈہ عناصر کے ذریعہ حملے کرائے گئے۔ یونیورسٹی کے احاطے میں غنڈہ عناصر کو طلب کرنے کیلئے پروکٹر اور چیف وارڈن کے استعفی کی مانگ کی گئی۔ طلباء کے نمائندوں نے بتایا کہ سابق وائس چانسلر اور ان کے حواری اس قدر خوفزدہ تھے کہ انہوں نے سابق وائس چانسلر کیلئے شہر کے ایک خانگی کلب میں قیام کا انتظام کیا تھا۔ اسی دوران طلباء نے یونیورسٹی حکام کے رویہ کے خلاف آج بھی احتجاج کو جاری رکھا اور یونیورسٹی میں کام کاج عملاً مفلوج ہوگیا۔ انچارج وائس چانسلر اور رجسٹرار کی جانب سے طلباء کو احتجاج سے دستبردار کرانے کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق وائس چانسلر کے بعض حامیوں نے جو یونیورسٹی میں قواعد کے خلاف اہم عہدوں پر فائز کئے گئے وہ پولیس کے ذریعہ احتجاج کو کچلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ احتجاجی اساتذہ اور طلباء کو دھمکانے کیلئے بھاری تعداد میں پولیس کو یونیورسٹی کے باہر تعینات کیا گیا ہے جو طلباء اور اساتذہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ طلباء نے پولیس کو طلب کرنے پر سخت احتجاج کیا۔ احتجاجی  اساتذہ اور طلباء کا کہناہے کہ یونیورسٹی میں پیش آئے ناخوشگوار واقعات کیلئے انچارج وائس چانسلر اور رجسٹرار راست طور پر ذمہ دار ہیں لہذا انہیں فوری مستعفی ہونا چاہیئے۔ طلباء اور اساتذہ پر حملے کیلئے ذمہ دار پروکٹر اور چیف وارڈن کے استعفی تک احتجاج جاری رکھنے کی دھمکی دی گئی۔ یونیورسٹی میں آج بھی کشیدہ ماحول برقرار رہا۔ طلباء اور اساتذہ کی برہمی کو دیکھتے ہوئے سابق وائس چانسلر اور موجودہ انچارج وائس چانسلر کے حواری یا تو یونیورسٹی سے غیر حاضر رہے یا پھر اپنے چیمبرس میں بند رہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی ایسے افراد کی فہرست تیار کررہی ہے جنہیں قواعد کی خلاف ورزی کے ذریعہ تقرر کیا گیا جن میں بعض ایسے عہدے بھی شامل ہیں جو یونیورسٹی میں پہلے موجود نہیں تھے۔ اس کے علاوہ کئی افراد کو اہلیت کے بغیر نہ صرف تقرر کیا گیا بلکہ انہیں ترقی دی گئی۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ بے قاعدگیوں کے علاوہ اردو یونیورسٹی سے اردو زبان کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ اسی دوران یونیورسٹی کے چانسلر ظفر سریش والا نے طلباء اور اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ تحمل سے کام لیں اور یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر ہونے نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے وائس چانسلر کے تقرر کے بعد حالات معمول پر آجائیں گے۔ ظفر سریش والا نے کہا کہ انہیں طلباء اور اساتذہ کی جانب سے یونیورسٹی حکام کے خلاف کئی شکایات وصول ہوئی ہیں اور وہ گڑبڑ کے ذمہ دار افراد کے خلاف ضروری کارروائی کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT