Tuesday , September 19 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کی سرگرمیوں کو وسعت دینے جامع حکمت عملی

مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کی سرگرمیوں کو وسعت دینے جامع حکمت عملی

دینی مدارس کے طلبہ کے لیے بریج کورس ، چانسلر یونیورسٹی جناب ظفر سریش والا کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد ۔ /26 اکٹوبر (سیاست نیوز) مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے چانسلر ظفر سریش والا نے کہا کہ یونیورسٹی کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کیلئے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں یونیورسٹی کے کلاسیس قائم کئے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ پہلی مرتبہ اردو یونیورسٹی نے دینی مدارس کے طلباء کیلئے بریج کورس کا آغاز کیا ۔ جس کے تحت وہ مولانا آزاد یونیورسٹی سے ڈگری کورس کی تکمیل کرسکتے ہیں ۔ ظفر سریش والا نے بتایا کہ بریج کورس کے تحت منتخب پہلے بیاچ کی تعلیم کا آغاز ہوچکا ہے ۔ ظفر سریش والا نے آج یونیورسٹی حکام کے ساتھ گزشتہ ایک سال کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور ہدایت دی کہ مکمل شفافیت کے ساتھ یونیورسٹی کے قیام کے مقاصد کی تکمیل پر توجہ دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران وائس چانسلر ڈاکٹر اسلم پرویز نے یونیورسٹی کے معیار کو بلند کرنے کیلئے جو مساعی کی ہے اس سے وہ مطمئین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی مختلف کورسیس کے ذریعہ ملک بھر میں اپنی منفرد شناخت رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کے طلباء کو عصری تعلیم سے جوڑنا کسی کارنامہ سے کم نہیں ۔ اردو یونیورسٹی نے دیگر یونیورسٹیز کیلئے ایک مثال قائم کی ہے ۔ پاکستان میں بھی دینی مدارس کو عصری تعلیم سے وابستہ کرنے کیلئے اس طرح کی کوئی تجویز نہیں ہے ۔  چانسلر نے بتایا کہ 14 دینی مدارس کے طلباء کو بریج کورس کی تکمیل کے ذریعہ گریجویشن کیلئے منتخب کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت سے 205 کروڑ روپئے حاصل کئے گئے ہیں تاکہ یونیورسٹی کی ترقی اور مختلف پراجکٹس پر خرچ کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ 2010 ء میں یونیورسٹی کی ڈگری کو غیرمسلمہ قرار دیدیا گیا تھا اور یہ سلسلہ 3 سال تک جاری رہا ۔ گزشتہ سال نومبر میں یونیورسٹی کی ڈگری کو دوبارہ مسلمہ حیثیت حاصل ہوئی ہے ۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ تین سال تک سینکڑوں کی تعداد میں طلباء کا مستقبل تاریک ہوا ہے اور اس کیلئے وہ کسی کو ذمہ دار ٹھہرانا نہیں چاہتے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان تین برسوں کی ڈگری کو مسلمہ حیثیت حاصل ہو ۔ اس کے لئے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے بات چیت جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے قیام کے بعد سے کئی کورسیس غیر مسلمہ رہے اور طلباء کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا لیکن انہوں نے چانسلر کی حیثیت سے جائزہ لینے کے بعد طلباء کے مستقبل کو بچانے کی حتی المقدور کوشش کی ہے ۔ ظفر سریش والا نے کہا کہ مرکزی وزارت اقلیتی امور میں 1200 کروڑ روپئے مولانا آزاد فنڈ کے تحت موجود ہیں اور وہ اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ یونیورسٹی کیلئے اس میں سے فنڈس حاصل کئے جائیں تاکہ انفراسٹرکچر کی تکمیل ہوسکے ۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے مرکزی مقام نامپلی میں واقع حج ہاؤز کی دو منزلوں کو تلنگانہ حکومت نے اردو یونیورسٹی کیلئے الاٹ کرنے کا پیشکش کیا ہے ۔ اس عمارت میں ایڈمنسٹریٹیو آفس قائم کیا جائے گا تاکہ طلباء کو داخلے اور دیگر امور کے سلسلے میں طویل فاصلہ طئے کرتے ہوئے یونیورسٹی پہونچنے کی ضرورت نہ پڑے ۔ انہوں نے بتایا کہ مدھیہ پردیش ، راجستھان میں حکومتوں کی جانب سے یونیورسٹی کے برانچس کیلئے اراضی الاٹ کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ تلنگانہ کے کریم نگر ضلع میں یونیورسٹی برانچ کیلئے اراضی الاٹ کی گئی ۔ انہوں نے کہا فاصلاتی تعلیم کے کورسیس شروع کرنے کیلئے سیٹلائیٹ سے استفادہ کی تجویز ہے اور اس سلسلے میں سرگرم کوششیں جاری ہیں ۔ اردو یونیورسٹی مختلف اہم کورسیس فاصلاتی طرز پر شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں کیونکہ اس سلسلے میں طلباء کی جانب سے کافی عرصہ سے مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ یونیورسٹی کے 50 سے زائد طلباء کیلئے انہوں نے انڈسٹرئیل ٹور کا اہتمام کیا تھا جس کے تحت ریلائینس ریفائنریز ممبئی کا دورہ کرایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی اسٹاک ایکسچینج کے حکام نے بھی اردو یونیورسٹی کے طلباء کے استقبال کیلئے رضامندی ظاہر کردی ہے ۔ اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد کا مقصد طلباء کو نامور صنعتی اداروں میں روزگار کی سہولتیں فراہم کرنا ہے ۔ ظفر سریش والا نے امید ظاہر کی کہ چانسلر کی حیثیت سے ان کی مابقی میعاد کی تکمیل تک وہ یونیورسٹی کو ملک کی نامور یونیورسٹی میں تبدیل کر

TOPPOPULARRECENT