Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد کے سیاسی افکار پر عمل آوری کی ضرورت

مولانا آزاد کے سیاسی افکار پر عمل آوری کی ضرورت

پروفیسر اشتیاق ظلی کا آزاد میموریل لکچر۔ نہ صرف ملک بلکہ ملک میں رہنے والے بھی ہمارے: ڈاکٹر اسلم پرویز
حیدرآباد11؍ نومبر (پریس نوٹ) مولانا ابوالکلام آزاد ایک ہمہ پہلو شخصیت کا نام ہے۔ دور اندیشی و سیاسی بصیرت پر مبنی ان کے افکار کی اہمیت موجودہ حالات میں پھر ایک بار بڑھ گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں آج مولانا آزاد کے یوم پیدائش اور قومی یومِ تعلیم پر ممتاز مورخ پروفیسر اشتیاق احمد ظلی، ڈائرکٹر شبلی اکیڈیمی، اعظم گڑھ نے کیا۔ وہ ’’مولانا آزاد کے سیاسی افکار‘‘ کے زیر عنوان آزاد میموریل لکچر دے رہے تھے۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے صدارت کی۔ اردو یونیورسٹی میں جاری ایک ہفتہ طویل یوم آزاد تقاریب کے اختتام پر آج صبح ڈی ڈی ای آڈیٹوریم میں اس لکچر کا اہتمام عمل میں آیا۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ نہ صرف یہ ملک بلکہ ملک میں رہنے والے بھی ہمارے ہیں۔ مولاناآزاد نے اسی بات کا عملی درس دیا تھا۔ پروفیسر ظلی نے کہا کہ مولانا آزاد کے سیاسی افکار گہری سیاسی شعور اور مطالعہ کا نتیجہ تھے۔ انہوں نے جذباتیت کے بجائے تاریخ کے واقعیت پسندانہ تجزیہ اور مطالعہ کو اپنا رہبر و رہنما بنایا۔ اس سفر میں علامہ شبلی نعمانی جیسی عظیم شخصیت کی سرپرستی انہیں حاصل رہی۔ ایک باشعور شہری کی حیثیت سے ملک کے موجودہ حالات پر نظر ڈالیں تو بے ساختہ مولانا آزاد کی یاد آتی ہے۔ انہوں نے آزادی سے قبل جو کچھ کہا تھا سچ ثابت ہوا۔ ماضی کے گہرے مطالعہ اور صحیح تجزیہ کے ساتھ ساتھ حال پر نظر ہی سے اس طرح کی بصیرت حاصل ہوتی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد ابتداء میں سرسید سے متاثر تھے۔ انہوں نے اپنے پہلے اخبار لسان الصدق میں اس کا برملا اعتراف بھی کیا۔ 1920 میں جب مولانا آزاد گاندھی جی سے ملے تو وہ ہندو -مسلم اتحاد کا سنہری دور تھا۔ اس وقت خلافت تحریک زوروں پر تھی اور گاندھی جی بھی اس کی تائید کر رہے تھے۔ انہوں نے منجملہ دوسری پیشن گوئیوں کے یہ بھی کہا تھا کہ بنگال، پاکستان سے الگ ہوجائے گا۔ حالانکہ وہ تقسیم ہند کے مخالف تھے لیکن لوگ ہوشمندی کے بجائے جذباتی نعروں میں بہہ گئے تھے۔ مولانا آزاد ہر چیز کو مذہب کے پیرائے میں دیکھتے اور پرکھتے تھے۔ پروفیسر ظلی نے کہا کہ مولانا آزاد کو لوگوں نے امام الہند تو مانا لیکن قائد اعظم کسی اور کو مانا۔ جب لوگ جوق درجوق پاکستان جا رہے تھے تو جامع مسجد میں مولانا نے اپنا وہ خطبہ دیا جس نے کئی افراد کے بڑھتے قدموں کو روک دیا۔ جناب انیس احسن اعظمی نے خیر مقدم کیا۔ ڈاکٹر آمنہ تحسین نے بحسن و خوبی کاروائی چلائی اور مہمانِ خصوصی کا تعارف کروایا۔ جناب میر ایوب علی خان، میڈیا کنسلٹنٹ نے شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT