Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / مولانا عبدالرحیم قریشی کا سانحہ اِرتحال

مولانا عبدالرحیم قریشی کا سانحہ اِرتحال

ملت کیلئے ناقابل فراموش خدمات، مسلمان نمائندہ شخصیت سے محروم ، نماز جنازہ میں کثیر تعداد شریک
حیدرآباد 14 جنوری (سیاست نیوز) صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت و جنرل سکریٹری کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا محمد عبدالرحیم قریشی کا آج علی الصبح بعمر 83 سال کیر ہاسپٹل نامپلی میں حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث انتقال ہوگیا۔ مولانا عبدالرحیم قریشی بزم اتحاد کے بانی اراکین کے علاوہ کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ کے بانی اراکین میں شمار کئے جاتے تھے۔ اُن کی زندگی کا بڑا حصہ تعمیر ملت کے لئے وقف رہا اور وہ ہمیشہ ملت مظلوم کی بے خوف و خطر نمائندگی کے لئے آگے رہا کرتے تھے۔ مولانا عبدالرحیم قریشی کی نماز جنازہ تاریخی مکہ مسجد میں بعد نماز عصر ادا کی گئی۔ نماز جنازہ مولانا مرحوم کے فرزند مولانا محمد متین قریشی نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات موجود تھیں۔ تدفین قبرستان عثمان شاہی افضل گنج میں عمل میں آئی۔ انتقال کی اطلاع کے ساتھ ہی مرحوم کی قیام گاہ پہنچ کر افرادِ خاندان سے اظہار تعزیت کرنے والوں میں جناب محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ ، جناب محمد علی شبیر قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل ، جناب اُتم کمار ریڈی صدر تلنگانہ پردیش کانگریس، جناب الحاج محمد سلیم رکن قانون ساز کونسل، جناب اَنجن کمار یادو سابق رکن پارلیمنٹ ، مولانا رحیم الدین انصاری ، جناب منیر الدین مختار، جناب عبدالقیوم خان ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو تلنگانہ، جناب محمد عمر جلیل آئی اے ایس پرنسپل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود، جناب محمد جلال الدین اکبر آئی ایف ایس ڈائریکٹر کمشنریٹ اقلیتی بہبود، پروفیسر ایس اے شکور کے علاوہ کئی اہم شخصیات شامل ہیں۔ مولانا عبدالرحیم قریشی نے محکمہ آڈیٹر جنرل میں سرکاری ملازمت ترک کرتے ہوئے کل ہند مجلس تعمیر ملت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ حالیہ عرصہ میں بابری مسجد کی تاریخ پر مدلل تحقیق پر مبنی کتابیں تصنیف کی تھیں۔ علاوہ ازیں اُن کے تحقیقی مضامین بھی اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ مولانا مرحوم کو بابری مسجد مقدمہ پر کافی عبور حاصل تھا اور وہ بحیثیت ایڈوکیٹ قانونی نکات پر باریک بینی سے جائزہ لیتے رہے تھے۔ ابتداء میں وہ تعمیر ملت کے زیراہتمام شائع ہونے والے ہفتہ وار معمار کے مدیر رہے۔ وہ تنظیم کی جانب سے شائع کئے جانے والے ہفت روزہ ’’شعور‘‘ کے طویل عرصہ تک مدیر رہے۔

TOPPOPULARRECENT