Tuesday , August 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مولانا عبداللہ قریشی الازہری کا انتقال ایک ناقابل تلافی نقصان

مولانا عبداللہ قریشی الازہری کا انتقال ایک ناقابل تلافی نقصان

گلبرگہ۔/12ڈسمبر، ( فیکس ) مصباح القراء حضرت مولانا حافظ و قاری محمد عبداللہ قریشی الازہری نائب شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ حیدرآباد کے انتقال سے قراء اور علماء میں ایک ایسا خلاء پیدا ہوگیا ہے جس کو پُر کرنا دشوار ہے۔ مولانا خوش اخلاق، ملنسار، زبان عربی ادب کے ماہر تھے فن قرأت کی باریکیوں سے واقفیت رکھتے تھے اور کلام اپک کی اس طرح تلاوت کرتے کہ سامعین پر ایک طرح کا سکتہ طاری ہوجاتا ۔ حضرت ممدوح خوش طبع ہونے کے ساتھ ساتھ عاجزی و انکساری کے پیکر تھے۔ تکبر، خودپسندی سے عاری تھے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ نیز دوران عرس شریف قطب الاقطاب حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ میں منعقد ہونے والے جلسہ قرأت و نعت میں اپنے شاگردوں کے ساتھ بارگاہ کی دعوت پر حاضر ہوتے اور قرأت کلام پاک سے زائرین حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ کو محظوظ فرماتے اور یہ سلسلہ سالہا سال سے جاری تھا۔ ’ موت العالم موت العالم ‘ کے مصداقت موصوف کا انتقال پُرملال طبقہ علماء کرام و قراء صاحبین کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے جس کی پابجائی مشکل نظر آتی ہے اور قابل ترین علماء کرام کے انتقال سے جو خلاء پیدا ہوتا ہے اس کا بدل مشکل ہوتا ہے۔ نیز موصوف بحیثیت جامعہ نظامیہ کے شیخ الادب، نائب شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ کی پُرخلوص انداز میں خدمات انجام دی ہیں۔ اہل علم، طلبہ جامعہ نظامیہ اور ارباب جامعہ نظامیہ ہمیشہ یاد کرتے رہیں گے۔ ان کی علمی خدمات ان کی شخصیت کو یاددلاتی رہے گی۔

TOPPOPULARRECENT