Tuesday , August 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / مولانا قاضی سید محبوب حسین نقشبندی کا سانحۂ ارتحال

مولانا قاضی سید محبوب حسین نقشبندی کا سانحۂ ارتحال

شہر حیدرآباد ، صحبت یافتہ علماء سے محروم ہورہا ہے
گزشتہ ہفتہ ،سیاست مذہبی ایڈیشن کے کالم ’پیغام اسلام‘ کے لئے اپنا مضمون ختم نہیں کیا تھا کہ ہردلعزیز استاذ ، استاذ العلماء حضرت مولانا سیدقاضی محبوب حسین نقشبندی رحمتہ اﷲ علیہ سابقہ نائب شیخ التفسیر جامعہ نظامیہ و سابقہ امام مکہ مسجد کی انتقال کی خبر آئی ۔ ایک سکتہ طاری ہوگیا ، قلم رُک گیا، آنسو رواں دواں ہوگئے ، حضرت کا محبت بھرا انداز ، مشفقانہ لارڈ و پیار آنکھوں میں گھومنے لگا ، دیارِغیر میں کون ہوتا ہے جس سے مرحوم کے محاسن و کمالات کا ذکر خیر کرکے غمگین دل کو تسلی دی جائے ، کوئی دوست نہیں ہوتا جس سے طالب علمی کے دور کے واقعات کو یاد کرکے غم کو ہلکا کیا جائے اور مرحوم کے آخری دیدار سے اپنی آنکھوں کو روشن کرے ، نماز جنازہ میں شریک ہوکر اپنی وابستگی کا ثبوت دے ۔

حضرت قبلہ علیہ الرحمۃ کا دور لگ بھگ حضرت مولانا حافظ عبداﷲ قریشی الازہری سابقہ نائب شیخ الجامعہ و خطیب مکہ مسجد علیہ الرحمۃ کا دور ہے ۔ آپ نے حفظ قرآن مجید کے بعد اپنی تمام تر تعلیم کی تکمیل جامعہ نظامیہ میں اجلۂ شیوخ کرام کی نگرانی میں تکمیل کی ۔ آپ کے دور کے اساتذہ میں حضرت مفتی محمد رحیم الدین ، حضرت مفتی محمد عبدالحمید ، شیخ الحدیث حکیم محمد حسین ، حضرت سید ابراہیم ادیبؔ رحھم اﷲ جیسی عبقری شخصیات شامل ہیں۔ آپ اپنے نام کے مظہر تھے ۔ سادات گھرانے سے تعلق رکھتے ، سادات گھرانہ کے صفات آپ میں بدرجہ اتم موجود تھے ، آپ ابتدائی ہی سے اساتذہ ، طلبہ ، ہر طبقہ و گروپ میں محبوب و پسندیدہ رہے ۔ آپ کو اجلۂ اساتذہ سے حد درجہ قربت تھی ۔ حضرت قبلہ علیہ الرحمۃ فرمایا کرتے کہ حضرت سید ابراہیم ادیب رضوی علیہ الرحمۃ جنکی ادبیت ، بزرگی ، جلالت شان تمام علمی حلقوں میں معروف و مشہور ہے نے آپ سے فرمایا تھا کہ ان کے انتقال کے بعد رات کے ایک حصہ میں ان کی قبر پر آئیں وہ ان کو تعلیم دیا کریں گے ۔ ہم نے حضرت قبلہ سے عرض کیا کہ کیا آپ نے کبھی تجربہ کی خاطر رات کے حصہ میں حضرت قبلہ کی مزار پر حاضری دی یا نہیں ؟ حضرت نے فرمایا نہیں ۔ وہ اپنے اساتذہ کے نہایت ادب کرنے والے تھے ، باوجود پیرانہ سالی کے حضرت صدر الشیوخ علامہ سید طاہر رضوی صاحب قبلہ رحمۃ اللہ علیہ کے روبرو ایسے بیٹھتے جیسے کوئی کم عمر طالبعلم ہے ۔ اور فرمایا کرتے تمہارے والد تین ہیں ، (۱) وہ جس نے تمہیں جنم دیا (۲) وہ جس نے تمہیں تعلیم دی ، (۳) وہ جس نے تمہیں اپنی بیٹی دی ۔ ان میں سے بہترین وہ ہے جس نے تمہیں تعلیم دی ۔ اور آپ فرمایا کرتے : رب رب ہی ہوتا ہے اگرچہ وہ نزول کرے اور بندہ بندہ ہی ہوتا ہے اگرچہ وہ ترقی کے منازل طئے کرلے۔
آپ جامعہ نظامیہ اور شہر حیدرآباد کے قدیم علماء کی نشانیوں میں سے ایک تھے ۔ حیدرآباد کے علماء میں وضعداری اور وجہات کے ساتھ ، سادگی ، ملنساری ، بے تکلفی نظر آئیگی ۔ آپ کا سینہ حسد ، بغض جیسی آلائشوں سے پاک و منور تھا ۔ آج عالمی سطح پر بعض نامور علمی شخصیتوں میں ہم رقابت اور مخالف کی تنقید پر قلبی تکلیف کو محسوس کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں حضرت قبلہ علیہ الرحمہ کا قلب مبارک اپنے پرائے سب کے لئے پاک و صاف تھا ۔ ہمارے علماء کی سب سے بڑی خوبی وخود نمائی سے خود کو دور رکھنا تھا ۔ وہ کبھی اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے ، وہ بھی مخاطب و سامع پر اپنا شخصی اثر ڈالنے کی کوشش نہیں کرتے ، تکلف و تصنع سے دور ہوتے، حوارین کو جمع نہیں کرتے ۔ یہی صفات حضرت قبلہ میں بدرجہ اتم موجود تھے ۔ قرآن مجید سے گہرا لگاؤ رہا ، کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت فرماتے ، جوانی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت نے فرمایا تھا کہ صبح سے شام تک مکمل قرآن مجید آپ نے سنایا تھا ۔ ہمیشہ فرمایا کرتے : تم میں بہترین وہ شخص ہے جس نے قرآن مجید کو سیکھا اور اس کی تعلیم دی ۔ آپ کی ذات گرامی اس حدیث پاک کی عملہ نمونہ تھی ۔

حضرت قبلہ علیہ الرحمہ کے انتقال سے ایک عہد اور ایک تاریخ کا خاتمہ ہوا ہے۔ نئی نسل قدیم تاریخی تسلسل سے محروم ہوگئی ۔ حضرت قبلہ علیہ الرحمۃ کی ذات گرامی تمام علماء میں کسی امتیازات کی بناء ممتاز تھی ۔ جب آپ تفسیر قرآن مجید کا درس دیتے تو سارے جامعہ میں آپ کی آواز گونجتی تھی ۔ دوران درس جب رحمت کی آیات کا تذکرہ آتا تو اس وقت بڑی رقت آپ پر طاری ہوتی اور نہایت لارڈ و پیار سے خدا سے اس کی رحمت کا واسطہ دیکر بڑی عاجزانہ انداز میں ایسی مناجات کرتے جیسے ایک چھوٹا باادب لڑکا اپنی مدعا کی طلب میں اپنے مانباپ کے ساتھ پیار و محبت اور عزت و احترام لارڈ و پیار سے کوئی چیز طلب کرتا ہے جس طرح معصوم بچوں کا اسلوب کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مانباپ ، سرپرست اور بڑے ان کو ’’نہیں ‘‘ نہیں کہہ سکتے ۔ یہی طرز و اسلوب حضرت قبلہ علیہ الرحمہ کا ہوا کرتا اور جب عذاب اور جلال کی آیات آتی تو ایسی پرجوش خطاب فرماتے کہ تمام طلبہ کے دل کو جھنجوڑ دیتے ۔ طلباء بلکہ ساری فضاء میں خوف کے اثرات نمایاں ہوتے ۔
ارشاد الٰہی ہے : یقینا مومن وہ لوگ ہیں جب اﷲ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں۔ ( سورۃ الانفال ۸؍۲)

ہماری سعادت مندی ہے کہ ان بزرگوں کے قدموں میں وقت گزرانے کا موقعہ ملا جن کو ہم نے ان آیات قرآنیہ کا عملی نمونہ پایا ہے ۔ حضرت مولانا مفتی محمد ولی اﷲ قادری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا مفتی ابراہیم خلیل الہاشمی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ حضرت مولانا سید محبوب حسین قبلہ رحمۃ اﷲ علیہ کی ذات گرامی انہی افراد میں سے تھیں جن پر قرآنی آیات کی تلاوت کے ساتھ خوف الٰہی کے آثار ظاہر ہوتے ۔ بطور خاص حضرت قبلہ علیہ الرحمہ کی خوبی یہ تھی کہ وہ فجر سے کافی وقت پہلے بالکل ہشاش و بشاش بیدار ہوتے اور رات کے اس سناٹے میں اپنے پروردگار عالم کے ساتھ خاص مناجات و سرگوشی فرماتے ۔ یہ وہ صفات عالیہ ہیں جو نبوت و ولایت کے صفات و آثار ہیںاور ہمارے اساتذہ و علماء اس زیور سے آراستہ تھے ۔ علم الفاظ و حروف کا نام نہیں ، علم قلب پر پیدا ہونے والی خشیت و اثرات کا نام ہے ۔ اس لئے حضرت قبلہ علیہ الرحمہ ہمیشہ دعاء کرتے : اے اﷲ ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہیں دیتا ۔
آپ درس کے دوران ہمیشہ طلباء کی تربیت اور باطنی اصلاح پر کافی توجہہ فرماتے اور باربار پرزور لہجے میں فرماتے : سنو! انسان کے جسم میں ایک خون کا لوتھڑا ہے جب وہ سدھر جاتا ہے تو جسم سدھر جاتا ہے اور جب وہ بگڑجاتا ہے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے سنو ! وہ دل ہے ۔
ہمیشہ اپنے درس میں للہیت و اخلاص کی تلقین فرماتے اور یہ حدیث کثرت سے ذکر فرماتے : اﷲ سبحانہ و تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اعمال کونہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے ۔ تقویٰ زندگی کا مقصد ہے اور آپ طلبہ کو تقویٰ کے حصول کی ترغیب دیتے اور فرماتے ’’جہاد میں سب سے سخت ترین جہاد خواہش نفس سے جہاد کرنا ہے ۔ کسی انسان کو کسی چیز نے باعزت نہیں بنایا سوائے تقویٰ و پرہیز گاری کے ۔
آپ کا جسم ورزشی تھا ، قد اونچا نہ تھا ، اعضا و جوارح مضبوط جوڑ تھے ۔ گول چہرہ ، بلند پیشانی ، گھنی داڑھی ، جالی کی ٹوئی پر چھوٹا عمامہ باندھے ہوئے اونچے نمبر کی سیاہ فریم کی عینک ، ململ کے کرتے پر قدیم طرز کی شیروانی ، ڈھیلا ٹخنوں سے اوپر پاجامہ ، سیکل پر سوار ، چہرہ پرنور و پرجلال ، انداز و لب و لہجہ ایسا کہ روتے کو بھی ہنسادے ۔ محفل بارونق و پرمزاح ، آواز گرجدار ، دل نرم و نازک ۔ پیرانہ سالی و ضعیفی کے باوجود حواس و اعضاء سلامت ، کمزوری و ناتوانی نے حالیہ چند سال سے گھر میں محدود کردیا تھا ۔ وہ محدث دکن حضرت عبداﷲ شاہ نقشبندی مجددی و قادری رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے ۔ ایک مرتبہ جوانی میں طہارت کے لئے حضرت کی مسجد چلے گے ، حضرت قبلہ تشریف فرما تھے ، دور کونے میں بیٹھ گئے ۔ کچھ لوگ مرید ہونے کے لئے آئے تو حضرت ابوالحسنات محدث دکن علیہ الرحمۃ نے آپ سے فرمایاآپ بھی مرید ہوجائے۔ پھول لانے کی اجازت طلب کی جس پر حضرت محدث دکن نے فرمایا ’’آپ خود پھول ہیں‘‘ اور ارادات میں شامل فرمایا ۔ آپ کو نقشبندی چمن میں تدفین کی آرزو تھی ۔ ایک مرتبہ حضرت قبلہ علیہ الرحمہ نے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد خواجہ شریف مدظلہ العالی کے ہمراہ اس فقیر راقم الحروف کو ساتھ لیا اور اس وقت کے سجادہ نشین حضرت ابوالفیض سید عطاء اﷲ شاہ نقشبندی مجددی و قادری علیہ الرحمہ سے قبر کے لئے جگہ کی خواہش ظاہر کی جس پر سجادہ نشین علیہ االرحمہ نے تیقن د یا اور درازی عمر کی دعا کی ۔ الحمدﷲ آپ کے منشاء کے مطابق آپ ۸۴ برس کی عمر میں اپنے پیر و مرشد کی آرامگاہ کے قریب میں موقوعہ نقشبندی چمن مصری گنج مدفون ہوئے ۔ آپ ہمیشہ یہ دعاء فرماتے : اے اﷲ ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں غم و رنج سے ، عاجزی و کاہلی سے ، بزدلی اور بخالت اور قرض اور افراد کے غلبہ و قہر سے ۔ اے اﷲ ! حضرت قبلہ کی مغفرت فرما اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما ۔ آمین ۔

TOPPOPULARRECENT