Monday , September 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / مولانا مفتی عبداﷲ قرموشی ؒمعرفت الٰہی کا سرچشمہ

مولانا مفتی عبداﷲ قرموشی ؒمعرفت الٰہی کا سرچشمہ

مولانا مفتی عبداللہ بن احمد القرموشی المعروف بہ محوی شاہ نوری چشتی قادری رحمتہ اﷲ علیہ علم و تقویٰ کے پیکر ،للہیت اور معرفت الٰہی کا سرچشمہ تھے۔مولانا مرحوم جامعہ نظامیہ کے ایک ایسے عالم جلیل تھے جو شریعت ، طریقت اور عصری علوم کے جامعہ کے مانند تھے ، آپؒ نے علمی فیضان سے ہزارہا لوگوں کی ہر موڑ پر رہنمائی فرمائی اور کئی تشنگان علم کو عرصہ دراز تک سیراب کرتے رہے۔ آپؒ کو عصر جدید کے سرسید کے حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے ۔ آپؒ عرصہ دراز تک نوریہ عربک کالج کے پرنسپل رہے۔ آپؒ کے عصری علوم کا کارنامہ القرموشی ایجوکیشنل سوسائٹی کا قیام ہے۔ آپؒ قبل نماز جمعہ جامع مسجد بارکس میں پند و نصائح سے بھرپور واعظ فرمایا کرتے تھے ۔ آپؒ کی سرپرستی میں دو دہے قبل بارکس میں مرکزی عظیم الشان جلسہ میلاد النبی ﷺ کی ابتداء ہوئی اورآپ کی سرپرستی میں کئی ایک ادارے پھلے پھولے ۔ آپؒ کے علمی فیضان سے ہزارہا تشنگان علم سیراب ہوا کرتے تھے ۔ آپؒ کی ذات ایک انجمن تھی ، آپ کی شخصیت ہر مکتب فکر کیلئے قابل قبول تھی ۔ آپ ادارہ سبیل الخیر بارکس کی خاموش خدمت انجام دیا کرتے تھے ۔ آپ کا اہم کارنامہ ادارہ شادی فنڈ بارکس کا قیام ہے ۔ اس پرآشوب دور میں جب لڑکیوں کی شادی ایک اہم مسئلہ بن گئی تھی ایسے وقت میں مولانا مرحوم نے وقت کی نبض کو پہچانتے ہوئے نادار و مساکین لڑکیوں کی شادی کیلئے ’’ادارہ شادی فنڈ بارکس ‘‘ کا قیام عمل میں لایا ۔ آپؒ ادارہ تعاون برائے بنی ہاشم بارکس کی ترقی و ترویج کیلئے ہمیشہ مفید مشوروں سے نوازتے۔ حقیقت و معرفت کا یہ آفتاب ۴؍ ذی الحجہ۱۴۳۲؁ ہجری کو غروب ہوگیا ۔ نماز جنازہ جامع مسجد بارکس میں مولانا مفتی محمد عظیم الدین صاحب مفتی جامعہ نظامیہ نے پڑھائی ۔ آپؒ کا چھٹواں عرس شریف نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ ’’مسکن محویہ‘‘ فاروق نگر ، جمال بنڈہ میں ۴ ذی الحجہ کو مقرر ہے ۔

TOPPOPULARRECENT