Thursday , August 24 2017
Home / سیاسیات / موہن بھاگوت کے بیان کے بہار پر منفی اثرات نہیں

موہن بھاگوت کے بیان کے بہار پر منفی اثرات نہیں

وزیراعظم مودی کو این ڈی اے کی شرمناک شکست کیلئے ذمہ دار قرار دینا غلط، راج ناتھ سنگھ کا بیان
نئی دہلی 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج اِن تبصروں کو مسترد کردیا کہ آر ایس ایس کے سرسنچالک موہن بھاگوت کا کوٹہ پر نظرثانی کا تبصرہ این ڈی اے کے انتخای امکانات پر بہار میں منفی اثرات مرتب کرنے کا ذمہ دار ہے۔ انھوں نے کہاکہ ’’عظیم اتحاد‘‘ کی سماجی مساوات کا نعرہ این ڈی اے کو مہنگا پڑا۔ راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی کو این ڈی اے کی شرمناک شکست کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ آر ایس ایس کے سربراہ نے صرف یہ کہا تھا کہ تحفظات جاری نہیں رکھے جانے چاہئے۔ یہ کوئی تباہ کون اور متنازعہ تبصرہ نہیں تھا۔ ہم اس کے بارے میں ایسا نہیں سوچتے۔ انھوں نے کہاکہ تحفظات جاری رہنے چاہئیں۔ موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ تحفظات کے نظام پر ازسرنو غور ضروری ہے تاکہ کوٹہ کے فوائد مستحق افراد کو پہونچ سکیں۔ اُن کے تبصرہ پر بہار انتخابات سے پہلے سیاسی طوفان اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔ مرکزی وزیرداخلہ نے کہاکہ مہا گٹھ بندھن کے سماجی مساوات کے نعرے سے بہار انتخابات پر اثر مرتب ہوا۔ وہ دیوالی ملن کے طور پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے۔ اُن سے این ڈی اے کی ناکامی کی وجوہات اور عظیم اتحاد کی کامیابی کی وجوہات کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔

مرکزی وزیرداخلہ اس سوال پر ہنس پڑے کہ کیا مودی کو اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ انھوں نے پوچھا کہ یہ کیسا سوال ہے۔ یہ بی جے پی کا نقصان ہے وزیراعظم کا نہیں۔ سابق صدر بی جے پی راجناتھ سنگھ نے صدر پارٹی امیت شاہ کے اُن کے عہدہ سے برطرف کئے جانے کے امکانات کی بھی تردید کی اور کہاکہ وہ مزید 6 سال صدر پارٹی برقرار رہیں گے۔ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ درحقیقت اُن کی میعاد کا صرف دیڑھ سال باقی ہے کیوں کہ جب وہ عہدہ سے مستعفی ہوئے تھے اور مرکزی وزیرداخلہ مقرر ہوئے تھے، اس کے بعد تین سال کی دو میعادوں کے لئے امیت شاہ کا تقرر کیا گیا تھا۔ راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ بی جے پی پارٹی کی انتخابی شکست کا تجزیہ اور اس کے بارے میں تحقیق کرے گی اور اسی کے مطابق اقدامات کئے جائیں گے۔ انھوں نے کہاکہ شکست اور فتح انتخابی عمل کا حصہ ہیں۔ ماضی میں ہم انتخابات میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں اور ہار بھی چکے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ اگر ہم مستقبل کا صرف ایک انتخابات کی بنیاد پر فیصلہ کرلیں تو یہ ناانصافی ہوگی۔ راج ناتھ سنگھ نے یہ اعتراف کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیاکہ انتخابی نتائج نے اُنھیں اُلجھن میں مبتلا کردیا ہے کیوں کہ وہ 50 انتخابی جلسوں سے خطاب کرچکے تھے۔ بعض پارٹی قائدین کے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ کرنے والے بیانات کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیرداخلہ نے کہاکہ اگر ملک میں کوئی سیکولر پارٹی ہے تو وہ بی جے پی ہے۔

TOPPOPULARRECENT