Wednesday , August 23 2017
Home / اداریہ / مویشیوں کی تجارت قانون معطل

مویشیوں کی تجارت قانون معطل

مودی حکومت نے ملک میں نوٹ بندی سے بازار بندی تک معاشی اُتھل پتھل کے جو فیصلے کئے تھے اس کے منفی اثرات سے خود حکمراں پارٹی کی تاجر برادری پریشان دکھائی دیتی ہے ۔ نوٹ بندی کا مسئلہ برداشت کرلیا گیا لیکن مویشیوں کی فروخت اور ان کے کاروبار پر پابندی نے ہندوستان بھر میں ایک بڑے روزگار کو ٹھپ کردیا تھا ۔ اس تناظر میں داخل کردہ درخواستوں پر سپریم کورٹ نے ہندوستان بھر میں مویشیوں کی خرید و فروخت اور بیف کی تجارت پر پابندی کے مجوزہ قانون کو معطل کردیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا جارہا ہے ، اس سے لاکھوں افراد کے روزگار کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی ۔ حکومت کے احکامات کی وجہ سے ملک میں گائے کے ذبح کرنے پر پابندی کے علاوہ بھینسوں اور اونٹوں کی تجارت کو بھی روکنا مقصد تھا ۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ یہ قانون ملک میں گوشت اور چمڑے کی صنعت کو متاثر کرے گا جس سے لاکھوں افراد کا روزگار بھی متاثر ہوگا۔ ٹاملناڈو میں مدراس ہائیکورٹ نے پہلے ہی اس قانون کو معطل کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اسی حکم کو برقرار رکھتے ہوئے ملک بھر میں بیف کی تجارت پر پابندی کے حکم کو معطل کردیا ۔ حکومت نے بظاہر اس قانون میں ترمیم کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔ مرکز کے مویشیوں کی فروخت پر پابندی کے قانون سے ملک کی کئی ریاستوں نے عدم اتفاق کیا تھا ۔ ہندوستان سالانہ چارارب ڈالر کی مالیت کا بیف اکسپورٹ کرتا ہے ۔ جج نے عوام کے روزگار کو متاثر کرنے والی حکومت کے فیصلہ کو ناپسند کیا ہے۔ جج کا فیصلہ دراصل عوام کی فتح ہے ۔ مرکز میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد سے ملک بھر میں گاؤ رکھشکوں کی اندھادھند کارروائیوں نے ملک کے سیکولر کردار کو مسخ کردیا ہے۔ مسلمانوں کو بیف کھانے یا بیف رکھنے اور مویشیوں کی منتقلی کے بہانے زدوکوب کرکے ہلاک کردیا جارہا ہے ۔ ہریانہ ٹرین میں محمد جنید نامی 17 سالہ نوجوان کی موت کے بعد ہندوستان کا سیکولر طبقہ سڑکوں پر نکل آیا تھا اور حکومت اور اس کی فرقہ پرست حامی تنظیموں کے خلاف ہندوؤں نے پرامن مظاہرے کئے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ کے ذریعہ مویشیوں کی تجارت پر پابندی کے قانون کو معطل کیا ہے تو مودی حکومت کو عدالت کے حکم اور اس ردعمل کے تناظر میں قانون سازی کرنے پر غور کرنا ہوگا ۔ مودی حکومت نے 25 مئی کو مویشیوں کی فروخت پر پابندی لگاکر ملک کو معاشی سست روی کا شکار بنادیا تھا ۔ حکومت اب اگسٹ تک اپنے قانون پر نظرثانی کرے گی ۔ چیف جسٹس جے اے کھیر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے مرکز کے اس قانون کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کردہ درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے 30 مئی کو مدراس ہائیکورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھا ۔ حکومت کی جانب سے بیف پر پابندی نے اس تجارت سے وابستہ افراد کو اور چمڑے کے تاجروں کو شدید نقصانات سے دوچار کردیا تھا ۔ اس کے علاوہ گاؤ دہشت گردوں کے تشدد نے عام شہریوں کو خوف زدہ بنادیا ہے۔ مویشیوں کی فروخت پر پابندی سے کسانوں کا بھی بھاری خسارہ ہورہا تھا کیونکہ عمر رسیدہ اور کھیتی باڑی کے لئے غیرموزوں مویشیوں کی فروخت ہی ان کی ذرائع آمدنی تھی لیکن مرکز نے ان کی روٹی روزی کو چھین لیا تھا ۔ کئی ریاستوں کے ہفتہ واری بازاروں میں مویشیوں کی تجارت خرید و فروخت ہوتی ہے ، یہ میٹ ٹریڈرس کے لئے دراصل آمدنی کا ذریعہ ہے۔ مرکز نے اپنے متنازعہ قوانین اور قواعد و ضوابط وضع کئے ہیں کہ اس سے ملک بھر میں معیشت متاثر ہوئی ہے ۔ ملک میں ہر سال 3.4کروڑ مویشیوں کی پیدائش ہوتی ہے اور مرکز کی پابندی سے سالانہ تقریباً 27 کروڑ مویشیوں کا اضافہ ہوگا ۔ ان کی دیکھ بھال اور چارہ پر آنے والے مصارف کروڑ ہا روپئے سے تجاوز کریں گے ۔ مویشیوں کی دیکھ بھال کے لئے گجرات حکومت نے گاؤ شالے بنائے ہیں جس پر 10 لاکھ کروڑ روپئے خرچ ہورہے ہیں ۔ جانوروں کو ذبح کرنے کا عمل بند کرنے سے ان جانوروں کی پرورش کیلئے پانچ لاکھ ایکر اراضی کی ضرورت ہوگی اور چارہ کا بندوبست کرنا مشکل ہوگا کیونکہ ضرورت سے زیادہ مویشیوں کی پرورش کے لئے ہندوستان کی سرزمین چارہ پیدا کرنے سے قاصر ہے۔

TOPPOPULARRECENT