Friday , July 28 2017
Home / Top Stories / مویشیوں کی فروخت پر امتناع کا مسئلہ ‘ مرکز کو سپریم کورٹ کی نوٹس

مویشیوں کی فروخت پر امتناع کا مسئلہ ‘ مرکز کو سپریم کورٹ کی نوٹس

اندرون دو ہفتے جواب داخل کرنے کی ہدایت ۔ اعلامیہ سے عوام کے غذائی حق اور حق تجارت کی خلاف ورزی ۔ درخواست گذار کا ادعا
نئی دہلی 15 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے آم مرکزی حکومت سے اس کے اعلامیہ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر جواب طلب کیا ہے ۔ اس اعلامیہ کے ذریعہ مرکزی حکومت نے جانوروں کے بازاروں میں ذبیحہ کیلئے ان کی خرید و فروخت پر امتناع عائد کردیا تھا ۔ جسٹس آر کے اگروال اور جسٹس ایس کے کول پر مشتمل ایک تعطیلاتی بنچ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کی ہے اور اس سے کہا ہے کہ وہ اندرون دو ہفتے اپنا جواب داخل کرے ۔ یہ نوٹس مرکز کے اعلامیہ کو چیلنج کرنے والی دو علیحدہ درخواستوں پر جاری کی گئی ہے ۔ سپریم کورٹ نے اس مسئلہ پر آئندہ سماعت 11 جولائی کو مقرر کی ہے ۔ اڈیشنل سالیسٹر جنرل پی ایس نرسمہا نے مرکزی حکومت کی جانب سے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے بنچ سے کہا کہ اس اعلامیہ کی اجرائی کی اصل وجہ یہ ہے کہ مرکزی حکومت سارے ملک میں مویشیوں کی تجارت کو باقاعدہ بنانا چاہتی ہے ۔ انہوں نے عدالت سے مزید کہا کہ مدراس ہائیکورٹ نے حال ہی میں اس اعلامیہ پر عبوری حکم التوا بھی جاری کیا ہے ۔ ایک درخواست گذار نے اپنی درخواست میں یہ ادعا کیا ہے کہ مرکزی حکومت کے اس اعلامیہ میں جو احکام جاری کئے گئے ہیں وہ غیر دستوری ہیں کیونکہ ان کے نتیجہ میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے جن میں سوچ و فکر اور مذہب کی آزادی کے علاوہ زندگی گذارنے کے حق بھی شامل ہیں۔ مرکزی حکومت نے 26 مئی کو اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مویشیوں کے بازار سے جانوروں کی ذبیحہ کے مقصد سے خرید و فروخت پر امتناع عائد کردیا تھا ۔اس سلسلہ میں وزارت ماحولیات سے احکام جاری کئے گئے تھے ۔

ایک درخواست گذار حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے فہیم قریشی ہیں ۔ ان کا اپنی درخواست میں استدلال ہے کہ یہ اعلامیہ جانوروں کی قربانی کرنے کی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی میں جاری کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غذائی استعمال کیلئے جانوروں کے استعمال پر امتناع سے غذائی حق کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ شہریوں کو یہ حقوق دستور ہند میں فراہم کئے گئے ہیں۔ درخواست میں یہ بھی ادعا کیا گیا ہے کہ کیرالا ‘ مغربی بنگال ‘ تریپورہ اور کرناٹک جیسی ریاستوں نے بھی یہ کہا ہے کہ وہ مویشی مارکٹوں میں جانوروں کی ذبیحہ کیلئے خرید و فروخت پر مرکزی امتناع کو لاگو نہیں کرینگے ۔ ان ریاستوں کا کہنا تھا کہ اس امتناع کے نتیجہ میں جو لوگ مویشیوں کی تجارت میں ملوث رہتے ہیں ان کی زندگیاں متاثر ہونگی ۔ درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ غذائی استعمال کیلئے جانوروں کا ذبیحہ کیا جاتا ہے اور کچھ طبقات کی جانب سے جانوروں کے گوشت وغیرہ کی قربانی دی جاتی ہے یہ سب کچھ ان برادریوں کی ثقافتی شناخت کا مسئلہ ہے اور اس شناخت کی حفاظت قانونی طور پر کی جانی چاہئے ۔ درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ جانوروں کی فروخت ‘ خرید یا دوبارہ فروخت پر امتناع کے نتیجہ میں کسانوں پر بھاری معاشی بوجھ عائد ہوگا ۔ اس سے مویشیوں کے تاجر متاثر ہونگے جو آج کے دور میں اپنی چوں کا پیٹ بھرنا مشکل سمجھنے لگیں گے ۔ اس کے علاوہ کسانوں پر ان جانوروں کو خود غذا فراہم کرنے کا بوجھ عائد ہوگا کیونکہ قوانین کے مطابق جانوروں کو بھوکا نہیں رکھا جاسکتا ۔ اس کے علاوہ ان کی دیکھ بھال وغیرہ بھی ضروری ہوتی ہے ۔ درخواستوں کا جائزہ لینے کے بعد سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کی ہے اور اسے ہدایت دی کہ اندرون دو ہفتے اپنا جواب داخل کرے ۔

TOPPOPULARRECENT