Friday , September 22 2017
Home / مضامین / مویشی تجارت پر امتناع کے لازمی نتائج معیشت کی تباہی، ہجوم کی حکمرانی !

مویشی تجارت پر امتناع کے لازمی نتائج معیشت کی تباہی، ہجوم کی حکمرانی !

 

پروفیسر شاہ منظور عالم
حالیہ عرصہ کی تبدیلیوں میں یہ مشاہدہ ہوا ہے کہ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حکومت ہند کے بعض فیصلے یا تو عام آدمی کیلئے شدید مشکلات کا موجب بنے یا پھر صورتحال کو فرقہ وارانہ بناگئے اور ہجوم کو تشدد برپا کرنے کا حوصلہ بخشے۔ نوٹ بندی اور مویشیوں کے فروخت اور ذبیحہ پر عمومی امتناع بادی النظر میں اسی طرح کے دو فیصلے ہیں جن کا حال میں این ڈی اے حکومت نے اعلان کیا ہے۔ ان سے عوام کو غیرمعمولی زحمت اور مشکل پیش آئی ہے۔ زائد از 100 جانیں نوٹ بندی کی وجہ سے تلف ہوئیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں مویشیوں کے فروخت اور ذبیحہ پر امتناع کا اصل نشانہ مسلم اقلیت ہے۔ اسی مسئلہ پر ان سطور میں روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مویشیوں کے فروخت اور ذبیحہ پر امتناع
مویشیوں کے فروخت اور ذبیحہ پر امتناع کے سماجی و معاشی نتائج و عواقب پر غور کرنے سے قبل ہم معلومات حاصل کرنا چاہیں گے کہ آخر کب ہندو مذہب میں گائے کو مقدس جانور قرار دیا گیا۔ کیا اس کا کوئی حوالہ ویدوں، اُپنیشدوں، گیتا، رامائن یا کوئی دیگر معتبر مذہبی کتاب میں ہے؟ وزارتِ ماحولیات، حکومت ہند نے جانوروں پر مظالم کے انسداد سے متعلق قانون اور مویشی منڈیوں کو باقاعدہ بنانے کے قواعد 2017ء کے تحت ایک اعلامیہ 31 مئی کو جاری کرتے ہوئے مویشیوں بشمول بیلوں، گایوں، بھینسوں، بچھڑوں اور اونٹوں کے فروخت اور ذبیحہ پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس اعلامیہ نے مویشیوں کی تجارت یا خرید و فروخت اور ان کو ذبح کرنے پر مکمل امتناع لاگو کردیا ہے۔ یہ اعلامیہ غیردستوری ہے کیونکہ افزائش مویشیان اور جانوروں، مویشیوں یا دیگر چوپایوں کی تجارت ریاستی موضوع (معاملہ) ہے۔
ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اس اعلامیہ کا اصل مقصد مسلمانوں کو ہراساں کرنا اور انھیں اپنی کھانے کی عادتوں کو بدلنے پر مجبور کردینا ہے۔ یہ قواعد بنانے والوں نے اس کے تمام شاخسانوں کے اعتبار سے اس کے عواقب و نتائج پر غوروخوض نہیں کیا۔ وہ اس حقیقت کو نظرانداز کرگئے کہ یہ اقدام ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچائے گا، دیہی علاقوں میں کسانوں اور اراضی مالکین کی آمدنی پر بہت بُرا اثر ڈالے گا۔ انھوں نے مسلمانوں اور دلتوں کی بیف کھانے کی عادت کو اپنے ذہنوں پر مسلط کررکھا ہے اور کسی طرح اسے روکنے بضد ہیں۔ لہٰذا یہ قواعدیوں سمجھئے کہ ایک مشن کے ساتھ لاگو کئے گئے ہیں۔

تجارتِ مویشیان پر امتناع اور گاؤ رکشا کی سرگرمی میں اضافہ
اس قاعدہ کے افسوسناک نتائج میں سے ہے کہ بی جے پی، آر ایس ایس، بجرنگ دل اور ان کی معاون تنظیموں سے وابستہ متعصب جنونی حامیوں یا نام نہاد گاؤ رکشکوں نے بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں جھوٹے اور من گھڑت الزامات پر مسلمانوں کے خلاف تشدد کا سلسلہ چھیڑ رکھا ہے۔ مسلمانوں کو دہشت زدہ کیا گیا اور سفاکانہ انداز میں قتل کیا گیا۔ دادری (یو پی) میں محمد اخلاق پر اپنے ریفریجریٹر میں بیف رکھنے کا غلط الزام غنڈوں کے ہجوم نے عائد کرتے ہوئے ان کا قتل کردیا۔ اسی طرح راجستھان کے بھاولپور میں پہلوخان کو کسی قانونی جواز کے بغیر اتنا زدوکوب کیا گیا کہ وہ بھی ہلاک ہوگیا۔ محمد جنید کو ہریانہ کے بلبگڑھ اسٹیشن کے پاس ٹرین میں شدید مار پیٹ کی گئی اور ساتھی مسافروں نے اسے چاقو گھونپ کر موت کی نیند سلا دیا، محض اس لئے کہ وہ بیف کھاتا تھا۔ حال ہی میں ناگپور کے مضافات میں بی جے پی ورکر سلیم شاہ کو کچھ بیف لیجانے پر زدوکوب کیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں دراصل ہجوم کا غلبہ ہے، جہاں دلتوں کو بھی دہشت زدہ کرتے ہوئے ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سہارنپور، یو پی میں ہجوم نے ایک دلت گاؤں پر حملہ کرتے ہوئے ایک شخص کو ہلاک کردیا۔ قبل ازیں گجرات کے ضلع اُونا میں ایک دلت کو مار مار کر قتل کردیا گیا۔

اس سارے معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ غنڈے قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہیں اور جو کوئی ان کی مخالفت کرے اسے پیٹ ڈالتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے حکام کچھ مداخلت نہیں کرتے کہ ان مجرمین کو گرفتار کرتے ہوئے سزا دی جائے۔ ایک حالیہ واقعہ میں ہریانہ کے امبالا کنٹونمنٹ کے قریب ایک ٹرین میں کسی معذور شخص نے تین نوجوانوں سے جو اُسی کمپارٹمنٹ میں تھے سگریٹ نوشی نہ کرنے کی خواہش کی۔ نوجوانوں نے سنی اَن سنی کردی۔ جب اُس نے دوبارہ ٹوکا تو نوجوانوں نے اس کی پٹائی کرڈالی اور جیسے ہی امبالا کنٹونمنٹ پہنچے، اسے ٹرین سے باہر پھینک دیا۔ بڑی حیرانی ہے کہ اس طرح کے تمام عناصر مجرمانہ حرکتوں کا ارتکاب بے دھڑک اور بلا خوف و خطر کررہے ہیں اور انھیں سزا نہیں دی جارہی ہے حالانکہ مویشیوں کی تجارت سے متعلق امتناع پر سپریم کورٹ کا حکم التوا ہے اور وزیراعظم نے گاؤرکشکوں پر سخت وارننگ دی ہے۔ یہ خطرناک رجحان ہے اور ریاستوں و مرکز دونوں جگہ لا اینڈ آرڈر کے حکام کیلئے گہری تشویش کا سبب ہے۔ لاقانونیت، گاؤ رکشکوں کی دہشت گردی اور ہجوم کی حکمرانی میں شدت سے اضافہ ہورہا ہے اور ملک کی شبیہہ بُری طرح بگڑ رہی ہے۔ ہندوستان میں امن اور بھائی چارہ کو یقینی بنانے کیلئے اس رجحان کو کچلنا پڑے گا۔ وزیراعظم جہاں بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کا خاتمہ کرنے پر زور دے رہے ہیں ، وہیں انھیں داخلی سطح پر خود اپنی پارٹی کے حامیوں اور نام نہاد گاؤ رکشکوں کی مسلسل دہشت گردی سے صرفِ نظر نہیں کرنا چاہئے۔
مویشیوں کی فروخت اور ان کو ذبح کرنے پر امتناع چمڑے کی صنعتوں کو قابل لحاظ نقصان پہنچانے کا موجب ہوگا۔ مویشی منڈی کی سست روی کی وجہ سے دباغ خانے جانوروں کی کھالوں کی قلت کی شکایت کررہے ہیں۔ ٹاملناڈو کے بعد اترپردیش چمڑا صنعت کیلئے بڑا مرکز ہے۔ یو پی میں یہ صنعت بے قاعدہ شعبہ کے تحت کام کرتی ہے۔ یو پی میں آگرہ دیسی منڈی کیلئے جوتا سازی کا سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں ایک دن میں جوتوں کی لاکھوں جوڑیاں تیار ہوتی ہیں۔ وہاں زائد از 4 ملین افراد کا روزگار ہے اور آگرہ کی تقریباً 40 فیصد آبادی کا اسی صنعت پر انحصار ہے۔
چمڑا صنعت کو ترقی کیلئے اہم شعبہ سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ اس کی زبردست برآمدی اور روزگار دلانے والی قوت ہے۔ موجودہ طور پر یہ 22 بلین ڈالر کی انڈسٹری ہے۔ وزیراعظم نے اسے بڑھا کر 2019ء تک 27 بلین ڈالر کا نشانہ رکھا ہے۔ مویشیوں کی تجارت اور ان کے ذبیحہ پر امتناع کی وجہ سے یہ نشانہ شاید پورا نہ ہوسکے گا۔

این ڈی اے حکومت کا سیول سوسائٹیز کی مخالف اور اختلافِ رائے کو برداشت نہ کرنا
مویشیوں کی تجارت اور ان کو ذبح کرنے پر پابندی والے قواعد کا نفاذ اندھے مذہبی عقیدہ کا شاخسانہ ہے۔ اس معاملے میں ہندوستان کے کشادہ ذہنی پر مبنی اقدار کو پست کیا جارہا ہے۔ بی جے پی ، بجرنگ دل، آر ایس ایس اور ان کے ملحقہ تنظیموں سے وابستہ افراد میں تعصب اور ہٹ دھرمی اس قدر سرایت کرچکے ہیں کہ وہ کچھ بھی تنقید برداشت نہیں کرتے اور فوری ناقد کو قوم دشمن قرار دیتے ہیں۔ اس کا اندازہ انڈین فلم انسٹی ٹیوٹ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی کے اسٹوڈنٹس کے ساتھ نازیبا، ناشائستہ اور جارحانہ برتاؤ سے ہوجاتا ہے۔ اختلافِ رائے کو برداشت نہ کرنے کا جبری مظاہرہ این ڈی ٹی وی کے پروموٹرز پرانوے رائے اور رادھیکا رائے کی رہائشوں پر سی بی آئی دھاوؤں کے ذریعہ کیا گیا۔ میڈیا کی معزز شخصیت پر اس دھاوے کی آفاقی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔
مرکز کی بھارتیہ جنتا پارٹی زیرقیادت حکومت کے پاس سیول سوسائٹی کی سرگرمی یا اختلافِ رائے کی سیاست کا کوئی کام ہی نہیں۔ حکومت تو مذہبی لبادہ اوڑھی ہوئی محاذی تنظیموں کو ساتھ لے کر سیاسی منظر کے ساتھ ساتھ شہری سماج پر بھی قبضہ جمالینے کے درپے ہے۔ وہ اپنی زبردست سیاسی طاقت کے استعمال میں ہرگز نہیں ہچکچائے گی تاکہ اظہارِ خیال کی آزادی کو دبایا جائے اور شہریوں کی زندگیوں اور آزادیوں پر کنٹرول حاصل کرلیا جائے۔ وہ پس و پیش نہیں کرے گی کہ سکیولرازم کو حذف کرتے ہوئے اس کی جگہ مذہبی جنونیت کو اُبھارا جائے۔ وہ سکیولرازم کا صفایا اور جمہوریت کو گھٹا دینا چاہتی ہے۔ اگر وہ کامیاب ہوتی ہے تو جمہوری ہندوستان کی تاریخ میں سیاہ باب کا اضافہ ہوگا۔ حتی کہ سینئر شہریوں بشمول ریٹائرڈ اڈمیرلز اور جنرلز نے وزیراعظم کو موسومہ اپنے مکتوب مورخہ 30 جولائی 2017ء میں مسلمانوں اور دلتوں کو نشانہ بناتے ہوئے بے قابو گاؤ رکشکوں کے عدیم النظیر حملوں پر اپنے گہرے تاسف کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے صاف صاف لکھا، ’’ہم اب مزید نظرانداز نہیں کرسکتے۔ اگر ہم ہمارے دستور کے اپنائے گئے فراخدلانہ اور آزادانہ اقدار کے حق میں کھڑے نہ ہوں تو ہم سے اس ملک کی بدخدمتی کے مانند ہوجائے گا‘‘۔

ہندوستانی مسلمان کیا کریں
ہندوستان کی تاریخ کے اس نازک موڑ پر جہاں ہندوستانی تہذیب کے فراخدلانہ اور سکیولر اقدار پر مسلسل دباؤ ہے اور ہندوستانی مسلمانوں اور دلتوں کی گاؤ رکشکوں کے ہاتھوں بے رحمانہ زدوکوبی اور ہلاکت ہورہی ہے، ہندوستانی مسلمان تمام تر ظلم و ستم سہتے ہوئے خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے ہیں۔ تمام مکاتب فکر کے ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے اختلافات کے باوجود لازماً متحد ہوکر اس ملک میں ترقی پسند قوتوں کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہئے، جو اظہارِ خیال کی آزادی، سماجی ہم آہنگی، جمہوریت، ہندوستانی سکیولر اور ثقافتی اقدار کو بچانے اور ان کا تحفظ کرنے کی جدوجہد سے گزر رہی ہیں۔ ہم بی جے پی کے مذہبی انتہا پسندوں کو ہندوستان کے ثقافتی تانے بانے کو برباد کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، ورنہ ہم بے رحمی سے کچل دیئے جائیں گے۔ ہماری بہتری بلاشبہ ہندوستان کی ترقی پسند قوتوں کے ساتھ جڑی ہے۔ ہمیں ضرور بعض تحریکات جیسے ’’Not in My Name‘‘ کی بھرپور تائید و حمایت کرنا چاہئے جنھیں اس لئے شروع کیا گیا کہ ہمارے ملک میں جمہوریت، سکیولرازم، ثقافتی اقدار کا تحفظ اور انتشارپسند قوتوں کے خلاف مزاحمت کی جاسکے جو ہندوستان کی سماجی ہم آہنگی ، ثقافتی تنوع برباد کردینا چاہتے ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے سامنے راستہ واضح ہے اور کوئی دیگر متبادل نہیں۔
( مصنف ، سابق وائس چانسلر، یونیورسٹی آف کشمیر ہیں)

TOPPOPULARRECENT