Wednesday , September 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مڈڈے میلس ورکرس کے ساتھ سوتیلا سلوک

مڈڈے میلس ورکرس کے ساتھ سوتیلا سلوک

حکومت کے خلاف 2 ستمبر کو احتجاج کا انتباہ، اجلاس سے ٹی چکراپانی کا خطاب
بودھن /23 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سی ای ٹی یو یونین کے زیر اہتمام آج بودھن ڈیویژن کے مدارس میں بچوں کو دوپہر کا کھانا سربراہ کرنے والے مڈڈے میل ورکرس کے ساتھ ایک اجلاس کا انعقاد عمل میں آیا۔ ضلع کے جنرل سکریٹری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت مڈڈے میل ورکرس کے ساتھ سوتیلا سلوک کر رہی ہے، لہذا ورکرس کے ساتھ غلط پالیسی اپنانے کے خلاف 2 ستمبر کو قومی سطح پر ایک دن ملک گیر احتجاج کا ورکرس نے فیصلہ کیا ہے۔ کامریڈ چکراپانی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے دوپہر کا کھانا سربراہ کرنے والے اداروں کو سال 2014-15ء کے دوران سالانہ 13,125 کروڑ روپئے بجٹ مختص کیا تھا، لیکن سال رواں 2015-16ء کے بجٹ میں تخفیف کرتے ہوئے اس سال صرف 8990 کروڑ روپئے مختص کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ روز بروز مہنگائی میں اصافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے پکوان ایجنسیوں کو جاری کی جانے والی رقم ناکافی ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پکوان کا کام انجام دینے والوں کو حکومت کی جانب سے پی ایف اور ای ایس آئی کی سہولتیں فراہم کیا جانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ انڈوں کے لئے علحدہ بجٹ فراہم کرنے کے علاوہ باورچی خانوں کی تعمیر اور بنیادی سہولتیں فراہم کرتے ہوئے پکوان کرنے والوں کو شناختی کارڈس جاری کئے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ جملہ گیارہ مطالبات میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حساب سے رقم فراہم کرنے، چھوٹے اور بڑے بچوں کو 100 تا 150 گرام چاول سربراہ کرنے کے علاوہ دیگر مطالبات بھی شامل ہیں۔ اجلاس میں سی آئی ٹی یو کے ڈیویژن صدر یو گنگادھر، سکریٹری جے شنکر گوڑ، روی سائی بابا، انجنیلو، لکشمی ساوتری، اوشا رانی کے علاوہ کوٹگیر، ورنی، بودھن، ایڈ پلی منڈلوں کے سرکاری مدارس میں مڈڈے میل سربراہ کرنے والے ورکرس  (مرد و خواتین) کی کثیر تعداد موجود تھی۔

TOPPOPULARRECENT