Sunday , October 22 2017
Home / ادبی ڈائری / مکاتیب قاضی عبدالودود

مکاتیب قاضی عبدالودود

سرورالہدیٰ ،جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
قاضی عبدالودود کی تحقیق کا امتیاز یہ بھی ہے کہ ان کے یہاں کسی موضوع کے تعلق سے معلومات کی وسعت پائی جاتی ہے۔ تحقیق میں ایسے لوگ ہوئے ہیں جنھوں نے ذاتی نسخے اور ذاتی لائبریری پر زیاہ اعتماد کیا۔ یہ روش سہل پسندی کے سوا اور کچھ نہیں اسی لیے ایسے لوگ قاضی عبدالودود کی طرف اول تو دیکھتے ہی نہیں اور اگر دیکھتے بھی ہیں تو خوف کے ساتھ۔ خوف کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ بعض لوگ تحقیق کے نئے طریقۂ کار کا حوالہ دے کرکہتے ہیں کہ حواشی اور تعلیقات میں اصل متن کھو جاتا ہے۔ اصل میں جب تحقیق کرنے والا کسی انا یا عقیدت کے سبب کوئی پناہ گاہ تلاش کرلیتا ہے توپھر علمی و ادبی معاملات میں محرومیاں ہی مقدر ہوجاتی ہیں۔قاضی عبدالودود کے یہ خطوط ان کی تحقیقی حسیت کا نمونہ ہیں۔ ان خطوط میں ایک متجسس ذہن جس طرح فعال ہے اس کی مثال کم سے کم خطوط میں کسی اور کے یہاں نہیں ملتی۔ان خطوط سے قاضی عبدالودود کے عہد کی علمی اور تحقیقی سرگرمیاں نظر کے سامنے آجاتی ہیں۔ اگر قاضی عبدالودود کی تحریروں میں حواشی اور تعلیقات کی کثرت ہے تو ظاہر ہے یہ سب’ آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں ‘کہ زمرے میں تو نہیں آتا۔ ایک ایک حوالے کی تلاش، پیش کش اور پھر اخذ نتائج آسان نہیں۔ اس ذمہ داری سے وہی اسکالر عہدہ برآ ہوسکتا ہے جو اپنی ذاتی لائبرئیری پر بھروسہ نہ کرتا ہو۔ ان خطوط سے واضح ہے کہ قاضی عبدالودود کے نزدیک کتب خانوں کا تصور ذاتی کتب خانہ نہیں تھا۔ جس اسکالر کے مزاج میں ایسا علمی اور تحقیقی جوش و خروش ہو، اور جو متعدد زبانوں پر قادر ہو وہ کیوں کر کسی سے مرعوب ہوگا۔ ماخذ کے تعلق سے وہ انتخابی نہیں تھے کہیں سے کوئی سراغ مل جائے تو وہاں تک پہنچنے میں ان کے کوئی چیز مانع نہیں تھی۔

کتابوں، حوالوں اور مخطوطات کے تعلق سے ان کی الجھنیں آخر وقت تک قائم رہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی تحقیق ان کی نگاہ میں حرف آخر نہیں تھی۔ یہ خطوط اسی تحقیقی اضطراب کا پتہ دیتی ہیں۔قاضی عبدالودود کی تحقیقات پر سوالات بھی قائم کیے گئے عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے تحقیق پر کوئی باضابطہ کتاب نہیں لکھی۔ کسی بڑے شاعر کا دیوان مرتب نہیں کیا۔ دوسروں کی کمزوریوں پر روشنی ڈالتے رہے۔ان اعتراضات کا حق ادب کے کسی بھی قاری کو حاصل ہے۔ لہٰذا قاضی عبدالودود نے بھی انھیں کبھی اتنی اہمیت نہیں دی کہ ان کے بنیادی موقف پر کوئی اثر پڑتا۔ قاضی عبدالودود کو بھی اس بات کا بخوبی علم تھا کہ جن شعرا کے دواوین انھوں نے مرتب کیے وہ میر و سودا اور غالب کی سطح کے شاعر نہیں ہیں۔ ایک قاری کے طور پر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ قاضی عبدالودودنے  معترضین کو اس لیے اہمیت نہیں دی کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کے یہاں ضد اور تعصب ہے۔ انھوں نے اپنے کسی خط میں یوں تو کسی کو کم عقل قرار نہیں دیا لیکن ان کے طرز اظہار سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بہت سے لوگوں کی کم عقلی کے قائل تھے۔قاضی عبدالودود کا علمی اور تحقیقی اعتماد باہر سے نہیں آیا تھا بلکہ انھوں نے مطالعے کی وسعت اور محنت شاقہ کے ذریعے تحصیل کیا تھا۔ قاضی عبدالودود جیسی ذہانت اردو کے دوسرے محققین کو کم ہی حاصل ہوئی تھی۔ انھوں نے جتنے سوالات اور مقدمات قائم کیے ان کی بنیاد محض مطالعہ نہیں ہوسکتا تھابلکہ ذہانت مطالعہ کو جہاں تک پہنچا دیتی ہے اسی کا نام قاضی عبدالودود کی تحقیق ہے۔ناصر عباس نیّر نے اپنے ایک مضمون ’’اردو تحقیق کے پیراڈائم‘‘ میں لکھا ہے :

’’قاضی عبدالودود کی یہ راے اسی تناظر میں ہے کہ ہر بات یکساں اہمیت نہیں رکھتی لیکن بات اہم ہو یا غیر اہم محقق کو حق تحقیق ادا کرنا چاہیے۔‘‘ دوسرے لفظوں میں اردو تحقیق کی نظر میں چوں کہ حقیقت ایک کلی سچائی کے تصور کی حامل ہے اس لیے ہماری روایت کا کوئی جز قدری و کیفیتی سطح پر کم تر نہیں ہے۔ وہ ہماری روایت تاریخ کے کسی نہ کسی رخنے کو پر کر تا ہے ضروری نہیں کہ یہ رخنہ محقق کو نظر آرہا ہو۔ ممکن ہے کہ یہ رخنہ مستقبل کے محقق، مورخ یا نقاد کو دکھائی دے۔ پس محقق مستقبل شناس ہو نہ ہو مستقبل بیں ضرور ہو۔‘‘
ناصر عباس نیر نے ایک ایسے اقتباس کا انتخاب کیا ہے جس سے قاضی عبدالودود کے ان کے تحقیقی طریقۂ کار پر بھر پور روشنی پڑتی ہے۔ انھوں نے اقتباس کی جس طرح تشریح و تعبیر کی ہے وہ بھی قابل تحسین ہے۔سچ تو یہ ہے کہ قاضی عبدالودود کے اس مختصر اقتباس اور اس کے تجزیے سے قاضی عبدالودود کی تحقیق کا بنیادی موقف سامنے آجاتا ہے۔ اس موقف کو بعض ناقدین نے اضافی موقف کا نام دیا ہے۔ ناصر عباس نیر نے جس سیاق میں قاضی عبدالودود کا اقتباس درج کیا اس کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں۔ البتہ اتنا کہنا ضروری ہے کہ اردو کی تحقیقی روایت نے اپنے طریقۂ کار میں کبھی کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یہاں مختلف متون کی تلاش، ترتیب اور پیش کش کا ایک ہی طریقہ اختیار کیا گیا حقیقت کو جامد شکل میں دیکھنے کی کوشش کی گئی۔ اہم اور غیر اہم مواد کے درمیان تمیز نہیں کی وغیرہ وغیرہ۔ قاضی عبدالودود کے ان خطوط سے بھی حقیقت کو ایک کلی سچائی کے طورپر دیکھنے کا رویہ سامنے آتا ہے۔ کلی سچائی کا مطلب کسی متن یا تحقیق کے تعلق سے وابستہ مختلف پہلوئوں کو جاننا اور سمجھنا اور انھیں متن کے بالمقابل کھڑا کرنا ہے۔ ایک معنی میں یہ غیر اہم معلومات کسی متن کا ذیلی حصہ معلوم ہوتے ہیں جو فاصلے پر کھڑے ہو کر اپنے مقدر پر روتے تو نہیں مگر حیرت زدہ ضرور نظر آتے ہوں گے۔ اس لیے کہ ایک محقق کی یہ کیسی علمی دیوانگی ہے جو حاشیے پر پڑے حوالوںکو اتنا اعتبار بخشتی ہے۔ قاضی عبدالودود نے جزئیات، تفصیلات اور مضافات کی طرف جس طرح توجہ دی ہے اور اس تعلق سے جس نکتہ رسی اور تحمل کا ثبوت پیش کیا وہ کوئی خوش گوار عمل تو ہے نہیں۔ ایک معنی میں تحقیق کے گمنام اور اندھیرے علاقوں کی طرف جانا خود کو مشکل میں ڈالنا ہے۔ اداسی کا تعلق تو ان ہی ویران علاقوں سے ہے جہاں عموماً محقق کی نگاہ پہنچتی نہیں۔ قاضی عبدالودود کی تحقیق کے مضافات کو دیکھ کر شہریار کا شعر یاد آتا ہے      ؎
جدھر اندھیرا ہے تنہائی ہے اداسی ہے
سفر کی میں نے وہی سمت کیوں مقرر کی

اس سوال کا جواب قاضی عبدالودود کے زیر نظر مکاتیب میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ناصرعباس نیر نے رخنے کو پر کرنے کی بات لکھی ہے۔ بے شک قاضی عبدالودود کے تحقیقی حوالوں سے رخنے پر ہوتے رہیں گے لیکن اصل بات یہ ہے کہ قاضی عبدالودود کی تحقیق نے رخنے پر کرنے کے ساتھ رخنے پیدا بھی بہت کیے ہیں۔ ان ہی رخنوں کی وجہ سے ان کی تحقیق اردو کی تحقیقی روایت کو صدمہ پہنچاتی ہے اسے کسی مرکز پر ٹھہرنے کا موقع نہیں دیتی۔قاضی عبدالودود نے اپنے تحقیقی رویوں سے تراشیدہ تحقیقی روایت کو جس طرح متزلزل کیا مجموعی طور پر اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔اس عمل میں انھوں نے ایک سے زیادہ طریقۂ تحقیق اور طریقۂ استدلال کو استعمال کیا۔ یوں تو قاضی عبدالودود کے تحقیقی طریقۂ کار میں حقیقت کو دیکھنے کا ایک جامد تصور ہے پھر بھی اس تک پہنچنے کے راستے انھوں نے ایک سے زیادہ اختیار کیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھوں نے ادبی مسئلے یا ادبی موضوع کے تعلق سے بندھے ٹکے اصول کو ہی رہنما بنایا اور نئی راہ کی تلاش ان کے مسلک تحقیق کے منافی تھی۔آل احمد سرور کو لکھتے ہیں:’’میں نے عزیزی اختر مسعود کو لکھا تھا کہ مسعود صاحب نے میر کے لطائف پر جو مضمون لکھا تھا وہ مجھے دو تین دن کے لیے بھیج دیں۔ مگر اس کا جواب آج تک نہیں آیا۔ یہ لطائف ذکر میر کے آخر میں ہے۔ مگر ڈاکٹر عبدالحق کے شائع کردہ نسخے سے خارج ہیں۔ ذکر میر پر مضمون لکھنے کے لیے ان لطائف سے واقفیت ضروری ہے۔‘‘
’’میں اس مسئلے پر کہ کلیات سودا کے مطبوعہ نسخے میں سوز کا کلام کس مقدار میں داخل ہو گیاہے ایک مضمون لکھنا چاہتا ہوں مگر ابھی اس کا آغاز نہیں ہوا۔ بہت سا عمدہ کلام جو عام طور پر سودا کا سمجھا جاتا ہے دراصل سوز کا ہے۔‘‘’’جہانِ غالب صرف ان اصحاب کے لیے نہیں جنھوں نے غالب پر تحقیقی مضامین لکھے ہیں غالب کے معاصر اور قریب العصرلوگوں میں سب کا ذکر ہوگا۔ بعد کے لوگوں میں انتخاب سے کام لوں گا۔ اس لیے کہ لکھنے والے بہت ہیں اور بیشتر ایسے ہیں کہ نہ انھیں تحقیق سے سروکار ہے نہ تنقید سے۔ اگر نقاد نظر انداز کیے جائیں تو ’جہان غالب‘ کا نام ہی بدلنا پڑے گا۔ ‘‘’’میری طبیعت علی گڑھ آنے کے بعد سے خراب رہی اور اب تک کچھ شکایتیں باقی ہیں۔ ایسی حالت میں میں کوئی ایسا کام جس میں بہت سی کتابوں سے مدد لینے کی ضرورت ہے نہیں کرسکتاتھا۔ ‘‘

سید محمد حسنین کو لکھتے ہیں :
’’مرزا محمد فدوی دہلوی تخمیناً (1150 تا 1210) سن عیسوی اردو کے بڑے شاعروں میں نہیں لیکن ان کی اہمیت دو وجہوں سے ہے: ایک تو یہ کہ ان کے طویل قیام  پٹنہ کی وجہ سے یہاں کے شعرا ان سے متاثر ہوئے ہیں۔ چنانچہ عظیم آباد کے بزرگ ترین اردو شاعر راسخ ان ہی کے شاگرد تھے۔ دوسری یہ کہ ان کے دیوان کا مطالعہ لسانی نقطۂ نظر سے مفید ہے۔
ان چند اقتباسات سے قاضی عبدالودود کا تحقیقی موقف سامنے آجاتا ہے۔ میر کے لطائف کو دیکھنے کی خواہش، میر سوز کے کلام کو عمدہ قرار دینا، غالب کے معاصرین میں امتیاز نہ کرتے ہوئے سب کو یکساں اہمیت دینا، جہان غالب کے عنوان کو تنقید اور تحقیق دونوں کے لیے مناسب بتانا، کسی تحقیقی مضمون کے لیے بہت سی کتابوں کودیکھنے کی خواہش، فدوی کو بڑے شاعروں کی صف میں نہ رکھنے کے باوجود اس کے کلام کو عظیم آباد کی ادبی روایت کے سیاق میں اور لسانی نقطۂ نظر سے اہم بتانا۔ یہ تمام باتیں تحقیق کو بندھے ٹکے اصولوں سے بلند کرنے کے ساتھ تحقیق کو تنقید سے ہم آہنگ دیکھنے کا پتہ دیتی ہیں۔فدوی کے کلام کو لسانی نقطۂ نظر سے دیکھنے کا مشورہ دراصل تحقیق کی اگلی منزل ہے۔ جو متن کی دریافت کے بعد آتی ہے۔ اسی نقطۂ نظر سے قاضی عبدالودود نے جوشش کے دیوان کو مرتب کیا ہے۔
قاضی عبدالودود کی کتابوں کو پڑھنا نہ صرف ادب کے نئے طالبین بلکہ مخصوص قارئین کے لیے بھی دشوار طلب کام رہا ہے۔ اول تو کتابوں میں مضامین کو اسی طرح شامل کیا گیا جس طرح وہ رسالوں میں شائع ہوئے تھے۔ چنانچہ ایک ہی کتاب میں مختلف مضامین مختلف طریقۂ تحریر کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ لیکن جسے قاضی عبدالودود کو پڑھنا ہے وہ تو بہرحال پڑھے گا۔ لیکن یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اگر ان کی تحریروں اور کتابوں کی اشاعت کا بہتر انتظام کیا جاتا تو ان سے مکالمے کی صورت اور سطح کچھ مختلف ہوتی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مکاتیب قاضی عبدالودود کی اشاعت اس خواہش کی تکمیل کی اولین صورت ہے کہ قاضی عبدالودود کی تحریروں کو بہتر شکل میں شائع ہونا چاہیے۔

ریسرچ کی دنیا میں آنے کے بعد جس محقق کا نام میں نے احترام اور خوف کے ساتھ سنا وہ قاضی عبدالودود کا نام ہے۔چندسال قبل قاضی عبدالودود کے کچھ خطوط میرے مطالعے میں آئے اور یہ خواہش پیدا ہوئی کہ انھیں یکجا کر کے کتابی شکل میں شائع کیا جائے۔معلوم ہوا کہ مختارالدین احمد آرزو قاضی عبدالودود کے خطوط کو یکجا کر رہے ہیں۔ وقت گزرتا رہا، اس درمیان مختار الدین احمد آرزو رحلت فرما گئے۔ ایک ملاقات میں پروفیسر ظفر احمد صدیقی سے میں نے دریافت کیا کہ آرزو صاحب یہ کام کر رہے تھے آپ کو اس بارے میں کچھ معلوم ہے؟ تو ان کا جواب تھا یقینا وہ قاضی صاحب کے خطوط جمع کر رہے تھے مگر وہ کام کس مرحلے میں ہے معلوم نہیں۔ اب وہ ہمارے درمیان بھی نہیں ہیں اس لیے اس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسی عرصے میں محضر رضا کا (شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ) پی ایچ ڈی میں داخلہ ہوگیا ایک موقع پرمیں نے ان کو قاضی عبدالودود کے مکاتیب یکجا کرنے کا مشورہ دیا۔ وہ پوری تندہی اور لگن کے ساتھ اس کام میں لگ گئے۔ ابتدا میں اندازہ نہیں تھا کہ ادب کا ایک نیا طالب علم اردو کے ایک بڑے محقق کے خطوط کو اس محنت اور دلجمعی کے ساتھ یکجا کرے گا۔یہ کام انھوں نے میری زیر نگرانی ضرور کیا ہے لیکن اصل چیز تو ان کی محنت اور کاوش ہی ہے۔ ادب کے ایک نئے طالب علم کا پرانی کتابوں اور تحریروں میں دلچسپی ایک واقعہ نہ سہی ایک ایسا امتیاز ضرور ہے جس کی مثال خال خال ہی ملتی ہے۔ معاصر ادبی مسائل میں تلاش کا مسئلہ اس طرح درپیش نہیں آتا۔ اس کے قدردان بھی آسانی سے مل جاتے ہیں۔ کلاسیکی موضوعات کے قدردان اور ان کے شناسا کم ہوتے جاتے ہیں اس سیاق میں محضر رضا کا تحقیقی ذہن ایک امید جگاتا ہے۔ مرحلۂ شوق کی یہ منزل اتنی آسان نہیں تھی لیکن انھوں نے مکاتیب قاضی عبد الودود کی تلاش، قرأت اور ترتیب کے وسیلے سے اپنی اتنی تربیت کر لی ہے کہ اگر انھوں نے اس کو مزید جلا دی توآیندہ کے تحقیقی مراحل سے بھی وہ سرخ روئی کے ساتھ گزرسکتے ہیں۔ مکاتیب قاضی عبدالودود کی اشاعت میرے خواب کی تعبیر بھی ہے۔ انھوں نے حواشی اور تعلیقات کے سلسلے میں جس تلاش اور توجہ کا ثبوت فراہم کیا اور مجموعی طور پر مکاتیب کو جس توجہ سے پڑھا ہے میں اس کے لیے انھیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اکبر الہٰ آبادی نے سرسید جیسی عظیم شخصیت کے لیے کہا تھا   ؎
ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہے
لیکن یہ بات ہمارے لیے بھی حوصلہ افزا ہے۔

TOPPOPULARRECENT