Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مدینہ علاء الدین وقف مدینہ بلڈنگ کرایہ داروں کو بقایا جات ادا کرنے کی مہلت

مکہ مدینہ علاء الدین وقف مدینہ بلڈنگ کرایہ داروں کو بقایا جات ادا کرنے کی مہلت

وقف بورڈ میں کرایہ داروں کی طلبی ، چیرمین بورڈ الحاج محمد سلیم کا خطاب
حیدرآباد۔ 24 جولائی (سیاست نیوز) مکہ مدینہ علاء الدین وقف مدینہ بلڈنگ کے کرایہ داروں کو وقف بورڈ نے ایک ہفتہ کی مہلت دی ہے تاکہ وہ وقف بورڈ کے کرایہ دار بن جائیں اور بقایاجات ادا کردیں۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے بورڈ کی آمدنی میں اضافہ اور اوقافی جائیدادوں کے کرایہ جات کی وصولی کے سلسلے میں شروع کی گئی مہم کے حصہ کے طور پر آج مکہ مدینہ علاء الدین وقف کے کرایہ داروں کو طلب کیا تھا۔ 700 ملگیوں پر مشتمل اس اوقافی جائیداد کے 30 تا 35 کرایہ دار بات چیت کیلئے حج ہاؤز پہونچے تھے۔ وہ تاجرین کی مختلف تنظیموں کے نمائندوں کی حیثیت سے بات چیت کیلئے آئے تھے۔ اجلاس کے دوران کرایہ داروں اور وقف بورڈ حکام کے درمیان گرماگرم مباحث ہوئے اور کرایہ دار وقف بورڈ کو کرایہ دار ادا کرنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقف بورڈ اور علاء الدین ٹرسٹ کے درمیان وہ کس کو مالک سمجھیں کیونکہ دونوں بھی اپنے دعویداری پیش کررہے ہیں جبکہ کرایہ کے حصول کے سلسلے میں علاء الدین ٹرسٹ متحرک ہے۔ وقف بورڈ نے گزشتہ تین برسوں سے کرایہ کے حصول کی کوشش تک نہیں کی۔ کرایہ داروں نے کہا کہ وقف بورڈ اور ٹرسٹ کو چاہئے کہ پہلے آپسی تنازعہ کی یکسوئی کرلیں، اس کے بعد وہ کرایہ ادا کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 30 سال سے وہ کرایہ دار ہیں اور پابندی سے علاء الدین ٹرسٹ کو کرایہ ادا کررہے ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے واضح کیا کہ یہ ملگیات وقف بورڈ کی ہیں اور کرایہ داروں کو ایک ہفتہ کی مہلت دی جاتی ہے، اگر وہ اس دوران وقف بورڈ سے معاہدہ کرلیں تو ٹھیک رہے گا، ورنہ وقف ایکٹ سیکشن 54 کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قانونی لڑائی میں وقف بورڈ کا موقف مستحکم ہے لہذا کرایہ داروں کیلئے بہتر یہی ہوگا کہ وہ ٹرسٹ کے بجائے وقف بورڈ کے کرایہ دار بن جائیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سال سے یہ ملگیات وقف بورڈ کے راست کنٹرول میں ہیں اور کرایہ داروں کو نوٹس دی جاچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اندرونی حصہ کی ملگیوں کو منہدم کرتے ہوئے ہمہ منزلہ عمارت کی تعمیر کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرایہ جات کی وصولی کیلئے باقاعدہ آفس قائم کیا جائے گا اور ایک ملازم کا تقرر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سال سے کرایہ دار ، وقف بورڈ کو کرایہ جات باقی ہیں جوکہ مجموعی طور پر لاکھوں روپئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متولی کا ملگیات پر کوئی حق نہیں ہے کیونکہ وقف بورڈ نے انہیں معطل کردیا ہے۔ کرایہ داروں نے بتایا کہ گزشتہ چار سال میں وقف بورڈ کی جانب سے صرف ایک مرتبہ کرایہ حاصل کیا گیا، اس کے بعد سے علاء الدین ٹرسٹ کے عہدیدار کرایہ حاصل کررہے ہیں۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر منان فاروقی نے بورڈ کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے انتباہ دیا کہ اگر اندرون ایک ہفتہ کرایہ دار فیصلہ نہ کریں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کو تخلیہ کے سلسلے میں مکمل اختیارات حاصل ہیں۔ طویل مشاورت اور فریقین کے موقف کی سماعت کے بعد صدرنشین نے کرایہ داروں کے ساتھ آئندہ ہفتہ دوبارہ اجلاس طلب کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT