Wednesday , May 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین تنخواہوں سے محروم

مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین تنخواہوں سے محروم

ملازمین کے صبر کا پیمانہ لبریز ، قرض کے بوجھ کا شکار ، خاندان کی ضروریات کی تکمیل سے قاصر
حیدرآباد۔6 مارچ (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار اسکیمات پر عمل آوری کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن انہیں مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے غریب ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ گزشتہ چار ماہ سے تنخواہوں سے محروم دونوں مساجد کے ملازمین کا پیمانہ صبر لبریز ہوچکا ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاج پر اتر آئیں۔ تنخواہوں سے محرومی کے نتیجہ میں قرض کے بوجھ میں مبتلا غریب ملازمین آخر اپنے اہل خانہ کی ضروریات کی تکمیل کس طرح کرپائیں گے۔ ملازمین نے اپنی بپتا کچھ اس طرح بیان کی کہ وہ روزانہ اس امید کے ساتھ ڈیوٹی پر حاضر ہوتے ہیں کہ ان کے اکائونٹ میں تنخواہ پہنچ جائے گی لیکن شام تک انتظار کے باوجود مایوسی ہاتھ آتی ہے۔ جب وہ گھر پہنچتے ہیں تو قرض دار رقم حاصل کرنے کے لیے پہنچ جاتا ہے۔ وہ روزمرہ کے اخراجات کے لیے بھی قرض لینے پر مجبور ہیں۔ بچوں کی تعلیمی فیس اور دیگر اخراجات کے لیے انہیں اہل ثروت افراد کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے۔ تنخواہوں کے سلسلہ میں عہدیداروں کی یہ مجرمانہ غفلت اور سردمہری پہلی مرتبہ نہیں، اکثر و بیشتر یہی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے مکہ مسجد کے دورے کے موقع پر ہمیشہ عہدیداروں کو پابند کیا تھا کہ تنخواہوں کی ادائیگی میں کوئی غفلت نہ برتیں لیکن ان کی ہدایت کا عہدیداروں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین گزشتہ نومبر سے تنخواہوں سے محروم ہیں اور ان کی تنخواہیں بھی ایسی نہیں کہ بینک بیلنس رکھ سکیں۔ ایمپلائز خاص طور پر درجہ چہارم ملازمین تین ماہ جبکہ امام خطیب و معذنین چار ماہ کی تنخواہ سے محروم ہیں۔ اس سلسلہ میں میڈیا کے ذریعہ حکومت کو بارہا توجہ دلائی جاچکی ہے لیکن یہ کہہ کر تسلی دی جاتی ہے کہ بجٹ کی اجرائی جلد عمل میں آئے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں مساجد کے ملازمین کے تنخواہوں اور مینٹننس کے لیے 76 لاکھ روپئے کی اجرائی کے احکامات تو جاری ہوئے لیکن یہ رقم ملازمین میں تقسیم نہیں کی جاسکی۔ ذرائع نے بتایا کہ ملازمین کے بینک اکائونٹس میں راست طور پر رقم کی منتقلی کے لیے مزید تین تا چار دن لگ سکتے ہیں۔ ملازمین کے علاوہ مکہ مسجد کے ہوم گارڈس بھی تنخواہوں سے محروم ہیں اور اس صورتحال سے بچنے کے لیے وہ مسجد میں سکیوریٹی ڈیوٹی انجام دینے سے انکار کررہے ہیں۔ کئی ہوم گارڈس نے اپنی خدمات کو محکمہ پولیس میں واپس کرلیا ہے۔ تنخواہوں کے مسئلہ پر جب محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلی عہدیداروں سے وضاحت طلب کی گئی تو ان کا صرف یہ کہنا تھا کہ بجٹ جاری ہوچکا ہے اور جلد ہی رقم مل جائے گی۔ برخلاف اس کے ایسے مسائل جن میں عہدیداروں کی شخصی دلچسپی یا پھر ان کے قریبی افراد کے معاملات ہوتے ہیں تو وہ قواعد کی پرواہ کئے بغیر احکامات کی اجرائی سے گریز نہیں کرتے۔ چوں کہ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے غریب ملازمین کی آواز کو حکومت تک پہنچانے کے لیے کوئی موثر ذریعہ نہیں اور عوامی نمائندوں کو بھی ان غریبوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ لہٰذا ہمیشہ غریب ہی مسائل کا شکار ہورہے ہیں اور عہدیدار سکریٹریٹ میں بیٹھ کر تماش بین بن چکے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT