Monday , July 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد بم دھماکہ مقدمہ کے چار گواہ منحرف

مکہ مسجد بم دھماکہ مقدمہ کے چار گواہ منحرف

این آئی اے کو دھکا ، تحقیقاتی ایجنسی کو بیان دینے کی تردید
حیدرآباد /15 نومبر ( سیاست نیوز ) مکہ مسجد بم دھماکے کیس کی تحقیقات کرنے والی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے ) کو آج اس وقت زبردست دھکہ لگا جب اس کیس کے چار گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگئے ۔ استغاثہ کی جانب سے این آئی اے کی خصوصی عدالت میں مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے آکاش سنگھ ، پرافل میتھی ، پون سولے اور سنیل جوشی کو پیش کیا گیا جہاں پر ان گواہوں نے اپنے بیان کی نفی کردی ۔ مذکورہ چار گواہوں کا تعلق اندور مدھیہ پردیش سے ہے اور این آئی اے نے انہیں بم دھماکہ کیس کے دو اہم ملزمین و آر ایس ایس کارکن دیویندر گپتا اور مقتول سنیل جوشی کے خلاف گواہی کیلئے حاضر عدالت کیا تھا ۔ مکہ مسجد ، درگاہ اجمیر شریف اور دیگر مقامات پر ہندو دہشت گردوں کی جانب سے مبینہ طور پر کئے گئے بم دھماکوں کی تحقیقات کرنے والی  ایجنسی کو یہ معلوم ہوا تھا کہ دیویندر گپتا ، لوکیش شرما ، سوامی آسیمانند ، بھرت موہن لال راتیشور عرف بھرت بھائی ، راجیندر چودھری ، سندیپ وی دانگے ، رامچندر کالسانگرا عرف رامجی نے ملک بھر میں منصوبہ بند سازش کے تحت اقلیتی مذہبی مقامات کو بم دھماکوں کے ذریعہ نشانہ بنانے کی غرض سے کئی موبائل فونس اور سم کارڈس فرضی ناموں پر حاصل کئے تھے ۔ تحقیقاتی ایجنسی نے اپنی چارج شیٹ میں یہ دعوی کیا تھا کہ مذکورہ آر ایس ایس کارکنوں نے بم دھماکوں کی سازش رچی تھی جس میں ایک دوسرے سے ربط میں رہنے کیلئے فرضی شناختوں پر حاصل کئے گئے موبائیل فون کا استعمال کیا تھا اور مذکورہ گواہوں کے موبائل فون کے استعمال کا بھی دعوی کیا گیا تھا لیکن مدھیہ پردیش کے گواہ نے آج اپنے بیان سے منحرف ہوگئے اور تحقیقاتی ایجنسی کو بیان دینے کی تردید کی ۔ واضح رہے کہ 18 مئی 2007 کو بعد نماز جمعہ ایک طاقتور بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 9 مصلی جاں بحق ہوگئے تھے اور 58 افراد زخمی ہوگئے ۔ سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن نے سابق میں 13 ڈسمبر سال 2010 کو ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی ۔ مکہ مسجد بم دھماکہ کیس کی سماعت جاری ہے اور اس کیس کے اہم گواہ منحرف ہورہے ہیں۔ چند دن قبل جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر نے اپنے بیان سے منحرف ہونے کا اعلان کیا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT