Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد :حکام کی عدم توجہی کا شکار، بارش سے چھت کو نقصان

مکہ مسجد :حکام کی عدم توجہی کا شکار، بارش سے چھت کو نقصان

مرمتی کاموں کیلئے ایک کروڑ 75لاکھ درکار،چار ماہ سے بجٹ کی عدم اجرائی، حکومت کو ماہرین کی رپورٹ
حیدرآباد۔/13اگسٹ، ( سیاست نیوز) ایسے وقت جبکہ تاریخی عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت کی خستہ حالی عوام میں موضوع بحث ہے حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد کی عمارت بھی حکام کی لاپرواہی کے سبب خستہ حالی کی سمت گامزن ہے۔ گزشتہ ایک سال سے مسجد کی چھت کی درستگی کے کام پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے نتیجہ میں چھت اس قدر خستہ ہوچکی ہے کہ معمولی بارش کے ساتھ ہی پانی چھت اور دیواروں سے اُترنے لگا ہے۔ چھت میں بارش کا پانی داخل ہونے کے باعث چھت کے بعض حصے ٹوٹ کر گرچکے ہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ محکمہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ماہرین نے مسجد کے معائنہ کے بعد چھت کی فوری مرمت کی تجویز پیش کی لیکن بجٹ کی کمی کا بہانہ بناکر خاموشی اختیار کرلی۔ دوسری طرف ریاستی حکومت بھی گزشتہ تین ماہ سے مسجد کی چھت اور دیگر مرمتی کاموں کیلئے بجٹ کی اجرائی میں تساہل سے کام لے رہی ہے۔ گزشتہ دنوں بارش کے باعث مکہ مسجد کی چھت سے پانی دیواروں میں اُترنے لگا اور اندرونی حصے میں چھت پر پانی کے رسنے کے سبب کچھ حصہ کمزور ہوکر منہدم ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ بعض دیگر حصوں میں بھی بارش کا پانی اُترنے کی واضح علامات دکھائی دے رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکام نے مسجد کی چھت کی درستگی پر کبھی بھی توجہ نہیں دی جس کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ماہرین نے تجویز پیش کی تھی کہ چھت کو نئی ٹکنالوجی کے ذریعہ واٹر پروف چھت میں تبدیل کیا جائے اس کے لئے ماہرین نے ایک کروڑ 75لاکھ روپئے کے خرچ کا تخمینہ بنایا اور اس سلسلہ میں حکومت کو رپورٹ پیش کی گئی۔ ماہرین نے بتایا کہ اگر چھت کی مرمت پر فوری توجہ نہیں دی گئی تو بارش کا پانی عمارت کے دوسرے حصے کی چھت کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ مکہ مسجد کی عمارت کے استحکام کیلئے چھت کی مرمت اور درستگی انتہائی ضروری ہے کیونکہ  بارش کے پانی سے دن بہ دن چھت کا متاثر ہونا یقینی ہے۔ دوسری طرف مسجد کے صحن میں تعمیر کردہ مقبرہ کی چھت بھی متاثر ہوچکی ہے اور جگہ جگہ بارش کا پانی دیواروں سے اُتر رہا ہے۔ ماہ اپریل میں ڈائرکٹر اقلیتی بہبود محمد جلال الدین اکبر نے آثار قدیمہ کے ماہرین اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے عہدیداروں کے ساتھ مسجد کا دورہ کیا تھا بعد میں عہدیداروں نے ایک کروڑ 75لاکھ روپئے کا تخمینہ کرتے ہوئے رپورٹ پیش کی۔ ماہرین نے کہا کہ چھت کو واٹر پروف بنانے کیلئے خاص قسم کا کیمیائی مادہ استعمال کیا جاتا ہے جو ملک کی تمام تاریخی عمارتوں کی چھتوں کی حفاظت کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔ اب جبکہ بارش کا سلسلہ جاری ہے مسجد کی عمارت کی چھت سے پانی اُترنے کی رفتار میں اضافہ ہوچکا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے چھت کی مرمت کیلئے ایک کروڑ 75لاکھ روپئے کی اجرائی کے سلسلہ میں حکومت کو باقاعدہ تجویز روانہ کی ہے لیکن ابھی تک اسے منظوری حاصل نہیں ہوئی۔ حکومت کو چاہیئے کہ اس تاریخی مسجد کی عمارت کے تحفظ کیلئے فوری بجٹ جاری کرے اور آرکیالوجیکل سروے کے ماہرین کے ذریعہ مرمتی کاموں کا آغاز کیا جائے۔ حکومت کی اس تاریخی مسجد سے عدم دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ رمضان المبارک سے قبل مسجد میں رنگ و روغن آہک پاشی و دیگر مرمتی کاموں کا فیصلہ تو کیا گیا لیکن یہ کام ابھی تک ادھورے ہیں۔ مسجد کے مصلیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اس تاریخی عمارت کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرے۔ شہر کے عوامی نمائندوں کو بھی دلچسپی لے کر بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں حکومت پر دباؤ بنانا چاہیئے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو پھر مسجد کی چھت مزید بوسیدہ ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT