Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد میں مرمتی کاموں کا عیدالاضحی کے بعد آغاز

مکہ مسجد میں مرمتی کاموں کا عیدالاضحی کے بعد آغاز

صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کا آج دورہ، مزید ایک کروڑ روپئے کی عنقریب اجرائی
حیدرآباد۔23 اگست (سیاست نیوز) مکہ مسجد کی چھت کی مرمت اور تزئین نو کے کاموں کا جائزہ لینے کے لیے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کل 24 اگست کو تاریخی مکہ مسجد کا دورہ کریں گے۔ وہ مقامی عوامی نمائندوں کے علاوہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا اور مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ مرمتی کاموں کا جائزہ لیں گے۔ وقف بورڈ کی جانب سے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو ایک کروڑ روپئے جاری کئے جاچکے ہیں جبکہ مزید ایک کروڑ کی اجرائی عنقریب عمل میں آئے گی۔ عید الاضحی کے فوری بعد تعمیری اور مرمتی کاموں کے آغاز کا منصوبہ ہے اور کنٹراکٹر کو پہلے مرحلہ کے کاموں کی تکمیل کے لیے 18 ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ کام کے طریقہ کار اور مسجد میں انجینئرس کو فراہم کی جارہی سہولتوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر وقف بورڈ مکہ مسجد کے تحفظ کے لیے زائد رقم مختص کرسکتا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے تعمیری کاموں کے سلسلہ میں عملے کو مکہ مسجد کے احاطہ میں رہائشی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ خصوصی طور پر تیار کئے جانے والی گچی بھی احاطہ میں تیار ہوگی۔ تعمیری اشیاء کی چھت پر منتقلی کے لیے خصوصی انتظامات کئے جائیں گے۔

بتایا جاتا ہے کہ چھت کی مرمت سے قبل چھت پر ایک فٹ سے زائد ڈامبر کے ملبے کو نکالنا پڑے گا جو کئی لاریوں پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ اس ملبے کی صفائی کے بعد ہی حقیقی چھت منظر عام پر آئے گی جس کی مرمت خصوصی گچی اور دیگر اشیاء سے کی جائے گی۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ اس تاریخی مسجد کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے اور وہ اپنے دورے کے بعد چیف منسٹر کو تفصیلات سے واقف کرائیں گے۔ اسی دوران صدرنشین وقف بورڈ نے وکلاء کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے درگاہ یوسفینؒ اور درگاہ میر محمودؒ پہاڑی عطاپور کے مقدمات کا جائزہ لیا۔ وقف ٹربیونل میں درگاہ میر محمودؒ پہاڑی کے قابضین کی جانب سے دائر کردہ مقدمہ کی سماعت مقرر تھی۔ اس مقدمہ میں قابضین کوکوئی راحت نہیں ملی۔ ٹربیونل نے وقف اراضی قرار دیتے ہوئے قابضین کے خلاف حکم التوا جاری کیا تھا جس کی برخاستگی کے لیے وہ کوشاں ہیں۔دوسری طرف درگاہ یوسفینؒ کے مقدمہ میں سابق عارضی متولی کی درخواست پر ٹربیونل نے کوئی فیصلہ نہیں دیا ہے۔ وقف بورڈ نے عرس کے انتظامات کے سلسلہ میں علماء اور عہدیداروں پر مشتمل دو علیحدہ کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT