Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد و شاہی مسجد کے اخراجات کیلئے حصول بجٹ میں دشواریاں

مکہ مسجد و شاہی مسجد کے اخراجات کیلئے حصول بجٹ میں دشواریاں

بجٹ میں منصوبہ جاتی و غیر منصوبہ جاتی میں عدم شمولیت سے محکمہ اقلیتی بہبود کو مشکلات
حیدرآباد۔/14اگسٹ، ( سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے تاریخی مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی تنخواہیں اور انتظامی اُمور سے متعلق خرچ کو بجٹ میں شامل نہ کرنے کے سبب محکمہ اقلیتی بہبود کو محکمہ فینانس سے بجٹ کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ سال بجٹ میں حکومت نے منصوبہ جاتی اور غیر منصوبہ جاتی مصارف میں مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے اخراجات کو شامل نہیں کیا جس کے سبب ملازمین کو کئی ماہ تک تنخواہوں سے محروم رہنا پڑا۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود محمد جلال الدین اکبر نے دونوں مساجد کے ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر انتظامی اُمور کی تکمیل کے لئے محکمہ فینانس کو 2کروڑ 85لاکھ کی اجرائی کیلئے تجاویز روانہ کی ہیں۔ دونوں مساجد کے ملازمین کی تعداد 30 ہے جن کی تنخواہوں پر ماہانہ ایک لاکھ 77ہزار 520 روپئے کا خرچ آتا ہے۔ اس طرح سالانہ خرچ 21لاکھ 30ہزار 240 روپئے ہوگا۔ مکہ مسجد میں سیکورٹی پر تعینات 25ہوم گارڈز کی تنخواہوں پر سالانہ 37لاکھ 95ہزار روپئے کا تخمینہ کیا گیا ہے۔ دونوں مساجد کے برقی چارجس کیلئے سالانہ 8لاکھ 40ہزار روپئے کی اجرائی کی سفارش کی گئی۔ ٹیلی فون چارجس کے طور پر 18ہزار روپئے کا تخمینہ کیا گیا۔ اس طرح تنخواہوں اور برقی و ٹیلی فون کیلئے جملہ 67لاکھ 83ہزار 240روپئے کا بجٹ تیار کیا گیا۔ مکہ مسجد کے چھت کی تعمیر کیلئے ایک کروڑ 75لاکھ اور باتھ رومس کی تعمیر کیلئے ایک کروڑ روپئے کا تخمینہ کیا گیا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے دونوں مساجد میں مختلف مینٹننس اور صفائی کے کاموں کیلئے سالانہ ایک کروڑ روپئے کی منظوری کی سفارش کی ہے۔ محکمہ فینانس کی جانب سے ابھی تک ان تجاویز کو منظوری نہیں دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں مساجد میں8 سے زائد جائیدادیں کئی برسوں سے مخلوعہ ہیں جس کے سبب مساجد کے انتظامات متاثر ہورہے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ مکہ مسجد میں خطیب کا عہدہ ایک سال سے زائد عرصہ سے مخلوعہ ہے۔ اس کے علاوہ صفائی اور دیگر عملے کی 8 جائیدادیں بھرتی کی منتظر ہیں۔ اسٹاف کی کمی کے سبب دونوں مساجد میں صفائی کے انتظامات کیلئے کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے حکومت کو مخلوعہ جائیدادوں بشمول خطیب کے عہدہ پر تقرر کے علاوہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کی تجویز روانہ کی گئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT