Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد کی چھت کو نقصان سے بچانے میں حکومت کی مسلسل سرد مہری

مکہ مسجد کی چھت کو نقصان سے بچانے میں حکومت کی مسلسل سرد مہری

ایک ہفتہ کی بارش سے چھت میں کئی شگاف ۔ اندرونی حصے متاثر ہونے کا اندیشہ ۔ بجٹ کی منظوری بھی تعطل کا شکار

حیدرآباد۔/15ستمبر، ( سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد کے تحفظ اور خاص طور پر چھت کو نقصان سے بچانے کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود کی بارہا توجہ کے باوجود حکومت کی سردمہری کے نتیجہ میں گزشتہ چند دنوں کی بارش نے مسجد کی چھت کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ سے جاری موسلا دھار بارش کے نتیجہ میں مکہ مسجد کی چھت کے کئی حصوں میں شگاف پڑ گئے جس کے باعث پانی اندرونی حصہ اُترنے لگا ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے مکہ مسجد کے حکام بھی چھت کی ابتر حالت کو دیکھتے ہوئے پریشان ہیں۔ انہیں اندیشہ ہے کہ اگر چھت میں پانی کے داخلے کو فوری روکا نہیں گیا تو اندرونی حصہ میں چھت کے حصے ٹوٹ کر گرنے لگیں گے۔ بارش کے آغاز کے بعد مسجد کے ذمہ داروں نے محکمہ اقلیتی بہبود کو اس صورتحال سے واقف کرایا لیکن حکومت نے بجٹ کی اجرائی پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ واضح رہے کہ 8ماہ قبل ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر نے محکمہ آرکیالوجی کے ماہرین کے ساتھ مسجد کا معائنہ کیا تھا۔ ماہرین نے چھت کی صورتحال کو ابتر قرار دیتے ہوئے فوری مرمت کی تجویز پیش کی اور اس کے لئے ایک کروڑ 75لاکھ کا تخمینہ مقرر کیا گیا لیکن آج تک حکومت نے بجٹ کو منظوری نہیں دی جس کے نتیجہ میں محکمہ اقلیتی بہبود مسجد کے تحفظ سے قاصر ہے۔ مسجد کی چھت کے علاوہ صحن میں موجود آثار مبارک کی عمارت اور مقبرے کی چھت بھی بری طرح متاثر ہوچکی ہے اور دونوں حصوں میں بارش کا پانی دیواروں سے اُتر رہا ہے۔ اگر یہی تساہل برقرار رہا تو مکہ مسجد کی چھت کے تحفظ کے اقدامات میں کافی تاخیر ہوجائیگی اور چھت کو بچانا مشکل ہوجائے گا۔ دوسری طرف مسجد کے ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر مینٹننس اُمور کیلئے حکومت نے ایک کروڑ روپئے کی اجرائی سے اتفاق کیا لیکن ابھی تک بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ مکہ مسجد کے ملازمین کو ماہ اگسٹ کی تنخواہ جاری کردی گئی جبکہ سیکورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہوم گارڈز اگسٹ کی تنخواہ سے ابھی تک محروم ہیں۔ ان کی تنخواہوں کیلئے 2لاکھ 42ہزار روپئے کی اجرائی ضروری ہے۔ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے جملہ ملازمین کی تعداد 22ہے جن میں مکہ  مسجد میں 17ملازمین ہیں جو اس قدر وسیع و عریض مسجد کے انتظامات کیلئے ناکافی ہیں۔ ملازمین کے 8 عہدے مخلوعہ ہیں جن پر فوری تقررات کی ضرورت ہے۔ ایک سال کے عرصہ میں 3 ملازمین وظیفہ پر سبکدوش ہوئے لیکن انہیں ابھی تک فی کس 2 لاکھ روپئے معاوضہ کی رقم ادا نہیں کی گئی۔ اگر حکومت ایک کروڑ روپئے تنخواہوں کیلئے جاری کرتی ہے تو اس میں سے 18لاکھ روپئے اقلیتی فینانس کارپوریشن کا قرض واپس کرنا ہے جوکہ تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے حاصل کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT