Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد کے آصف جاہی سلاطین کے مقبروں کی عمارت کو خطرہ

مکہ مسجد کے آصف جاہی سلاطین کے مقبروں کی عمارت کو خطرہ

تحفظ اور مرمت میں حکومت کی بے اعتنائی ، مقبروں کو نقصان کا امکان ، سیاح اور مصلیان مسجد خوف کا شکار
حیدرآباد۔20جولائی (سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد کے صحن میں موجود انتہائی خوبصورت آصف جاہی سلاطین کے مقبروں کی عمارت پر منڈلا رہے منہدم ہونے کے خطرات کے متعلق روزنامہ سیاست کی جانب سے متعدد مرتبہ توجہ دہانی کروائی گئی اور جاریہ ماہ 18جولائی کے شمارے میں بھی اس حصہ کی چھت کی صورتحال کے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود حکام ‘ محکمہ اور عوامی نمائندوں کی جانب سے اختیار کردہ رویہ کے سبب گذشتہ یوم آصف جاہی سلاطین کے مقبروں کی چھت کا ایک اور حصہ منہدم ہوگیا لیکن اب بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس حصہ کے تحفظ اور مرمت کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے بلکہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے اس حصہ کو منہدم ہونے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ روزنامہ سیاست نے گذشتہ برس اس مسئلہ پر توجہ مبذول کرواتے ہوئے محکمہ کے ذمہ داروں سے اپیل کی تھی کہ وہ مصلیان مسجد اور سیاحوں کی زندگیوں کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کرے لیکن اس اپیل پر محکمہ نے اس حصہ کو نظام اوقاف کی نگرانی والا قرار دیتے ہوئے نظر انداز کردیا تھا لیکن گذشتہ دنوں عمارت کی چھت کے متعلق تفصیلات موصول ہونے کے بعد روزنامہ سیاست میں دو یوم قبل ہی اس مسئلہ کو اٹھایا گیا تھا لیکن اس کے باوجود محکمہ کی جانب سے کوئی اقدامات کے متعلق فیصلہ نہیں کیا گیا اور گذشتہ یوم بارش کے دوران چھت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا لیکن اللہ کا شکر ہے اس وقت اس حصہ میں کوئی موجود نہیں تھا۔ آصف جاہی سلاطین کے مقبروں پر تعمیر کی گئی عمارت فن تعمیر کا شاہکار نمونہ ہے لیکن اس عمارت کی چھت عدم نگہداشت کے سبب ٹپکنے لگی تھی اور گذشتہ 5برسوں سے ٹپک رہی چھت اب گرنے لگی ہے لیکن اس کے باوجود بھی کوئی کاروائی نہ کئے جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محکمہ کے عہدیداروں اور منتخبہ عوامی نمائندوں اور حکومت کو بھی اس عمارت کو محفوظ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآبا دکے عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ مسجد کے صحن میں موجود حصہ کا مسئلہ ہے اسی لئے اس کی نوعیت انتہائی حساس ہے اسی لئے متعلقہ عہدیداروں کے علاوہ متعلقہ محکمہ جات کے ذمہ داروں کو بھی گچی کی اس چھت کی موجودہ حالت کے متعلق واقف کروادیا گیا ہے اور یہ کہا جا چکا ہے کہ یہ حصہ انتہائی مخدوش ہوچکا ہے لیکن اس کے باوجود اختیارکردہ سرد مہری کے سبب وہ بھی کچھ کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ یہ مسجد سرکاری ادارہ کے زیر انتظام ہے ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے تاریخی مکہ مسجد کے اندرونی حصہ میں جس طرح ایک گوشہ کو عوام کیلئے بند کردیا گیا ہے اسی طرح آصف جاہی سلاطین کے مقبروں کے اس حصہ کو بھی عوام کیلئے بند کردینے کے متعلق غور کیا جا نے لگا ہے۔ایسا کئے جانے کی صورت میں مسجد میں جمعہ کے دوران مصلیوں کی تعداد گھٹنے کا خدشہ ہے ۔ محکمہ کو ان حصوں کو عوام کیلئے بند کرنے سے زیادہ ان حصوں کے تحفظ کیلئے تعمیراتی سرگرمیوں کے آغاز کے متعلق غور کرنے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT