Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد کے در و دیوار سے پانی رس رہا ہے

مکہ مسجد کے در و دیوار سے پانی رس رہا ہے

منتظمین حیرت زدہ، مصلیان مسجد خوف زدہ، مرمتی کام فوری شروع کرنے پر زور

حیدرآباد۔13اگسٹ(سیاست نیوز) دو یوم سے جاری بارش کے سبب تاریخی مکہ مسجد کی مرکزی عمارت کیشمالی دیوار سے باضابطہ پانی رسنے لگا ہے اور دیواروں سے پانی نکلنا عمارت کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔محکمہ آرکیالوجی کی جانب سے جاریہ ماہ کے اواخر میں مرمتی کاموں کے آغاز کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے لیکن گذشتہ دو یوم کے دوران ہوئی شدید بارش کے بعد مکہ مسجد کی عمارت کے جنوبی حصہ سے رسنے والے پانی کو دیکھ کرمنتظمین حیرت زدہ ہو گئے کیونکہ پتھر کی جس اس عمارت کی دیوار سے پانی کے رسنے کی توقع نہیں کی جا رہی تھی اور کہا جا رہا تھا کہ چھت اور اوپری کمانو ںمیں دراڑ کے سبب چھٹ ٹپکنے لگی ہے دو یوم قبل ہوئی بارش کے ہفتہ کو مصلیان اور سیاحوں نے اس جانب توجہ دی اور دیوار میں سے پانی نکلنے کی جانب منتظمین کو متوجہ کروایا لیکن منتظمین کے اختیار میں کچھ نہیں ہے کیونکہ تمام مرمتی و تعمیری امور محکمہ آثار قدیمہ کی نگرانی میں ہی انجام دیئے جانے چاہئے ۔ہفتہ کے دن اس مسئلہ کا جائزہ لیا جا رہا تھا کہ ہفتہ کی شب ایک گھنٹہ سے زائد ہوئی بارش کے سبب منتظمین میں اب خوف پایا جانے لگا ہے کیونکہ عوام کی توجہ اس جانب ہو چکی ہے اور اور دیوار سے پانی رسنے کے سبب لوگ اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں اتوار کے دن بھی مصلیان مکہ مسجد نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری مرمتی کاموں کو شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ تاریخی مسجد کے شمالی حصہ کی دیوار سے پانی رسنے اور چھت ٹپکنے کے آثار اچھی علامات نہیں ہیں اور شہر میں آئندہ دنوں کے دوران مزید بارش کے امکانا ت ظاہر کئے جا رہے ہیں اور محکمہ موسمیات کی پیش قیاسی کے مطابق ریاست تلنگانہ میں مانسون لوٹ آیا ہے تو ایسی صورت میں آئندہ دنوں میں مسلسل بارش کا امکان ہے۔ذمہ داران مسجد نے بتایا کہ اس صورتحال سے محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلی عہدیداروں کو واقف کروادیا گیا ہے اور محکمہ آثار قدیمہ کے عہدیداروں کو بھی مطلع کیا جا چکا ہے۔باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق محکمہ آثار قدیمہ کے ماہرین مرکزی عمار ت کے شمالی دیوار سے پانی رسنے کا جائزہ لیں گے اور اس سلسلہ میں رپورٹ تیار کرتے ہوئے محکمہ کو پیش کی جائے گی۔1694کی اس تعمیر کے تحفظ کے سلسلہ میں متعدد مرتبہ متوجہ کروایا جا چکا ہے لیکن عدم توجہی کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوچکی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT