Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مکرمہ میں عازمین کی اموات پر کے سی آر اور چندرا بابو کا اظہار افسوس

مکہ مکرمہ میں عازمین کی اموات پر کے سی آر اور چندرا بابو کا اظہار افسوس

ممکنہ امداد کی مساعی ، سید عمر جلیل اور ایس اے شکور نے حکومت کو تفصیلات پیش کردیں
حیدرآباد ۔  14 ستمبر  (سیاست  نیوز) تلنگانہ اور آندھراپردیش کی حکومتوں نے مکہ مکرمہ میں پیش آئے سانحہ میں عازمین حج کی اموات کے بارے میں حج کمیٹی سے تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے آج سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کے ہمراہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کے سکریٹری برائے اقلیتی امور بھوپال ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے تلنگانہ اور آندھراپردیش کے عازمین حج کی اموات اور زخمی ہونے سے متعلق تفصیلات پیش کی۔ چیف سکریٹری آندھراپردیش اور وزیر اقلیتی بہبود آندھراپردیش نے بھی حج کمیٹی سے تفصیلات حاصل کیں تاکہ آندھراپردیش کے جاں بحق عازمین حج کے خاندانوں کو امداد دی جاسکے۔ اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ حرم شریف میں پیش آئے سانحہ میں جملہ 4 اموات واقع ہوئی ہیں، جن میں سے دو کا تعلق مچھلی پٹنم ضلع کرشنا سے ہے جبکہ دیگر دو عازمین خانگی ٹراویلس کے ذریعہ روانہ ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حج کمیٹی کے ذریعہ روانہ ہونے والے ضلع کرشنا کے محمد عبدالقادر اوران کی اہلیہ حرم شریف کے سانحہ میں جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ شمیم بانو اور قادر بی نامی خاتون عازمین حج بھی اس سانحہ میں جاں بحق ہوگئے۔ ابتداء میں ان دونوں کا تعلق حیدرآباد سے بتایا گیا تھا لیکن حقیقت میں ان کا تعلق کرناٹک سے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ادونی سے تعلق رکھنے والے ایک خانگی ٹراویل فضل ٹورس نے اسے الاٹ کردہ دو نشستیں کرناٹک کے سب ایجنٹ کو فروخت کی تھیں، جن کے ذریعہ شمیم بانو اور قادر بی نے سفر حج کا ارادہ کیا۔ ان دونوں کا پاسپورٹ کرناٹک کا ہے۔ تاہم وہ حیدرآباد سے سعودی عرب کے لئے روانہ ہوئے تھے۔ اسپیشل آفیسر نے بتایا کہ ان دونوں کا تعلق حیدرآباد سے نہیں بلکہ کرناٹک سے ہے ۔ ان کے مطابق اب تک جملہ 5 عازمین کا انتقال ہوا جن میں 3 کی طبعی موت واقع ہوئی، ان میں محمد احمد علی حیدرآباد، محبوب علی رائچور اور شیخ احمد علی بودھن شامل ہیں۔ ان تینوں کا قلب پر حملہ کے باعث انتقال ہوا تھا۔ اس کے علاوہ آندھراپردیش کے دو عازمین سانحہ میں جاں بحق ہوئے۔ حج کمیٹی کے ذریعہ روانہ ہونے والے تین عازمین مکہ مکرمہ کے سانحہ میں زخمی ہوئے جن میں محمد حمید، انیس خاتون اور شیخ مجیب شامل ہیں۔ ان تینوں کا تعلق حیدرآباد سے ہے ۔ شیخ مجیب ابھی بھی دواخانہ میں زیر علاج ہیں۔ پروفیسر ایس اے شکور کے مطابق گلبرگہ کے ایک عازم سید حسین جن کے پاسپورٹ میں غلطی کے باعث سفر سے روک دیا گیا تھا، ان کیلئے نئے ویزا کا انتظام ہوچکا ہے اور وہ بنگلور سے پرواز کریںگے۔ انہوں نے بتایا کہ حج کمیٹی مکہ مکرمہ میں تین خواتین کیلئے محرم کے طور پر ان کے خاندان سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو روانہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ سنٹرل حج کمیٹی نے انہیں ویزا کی فراہمی کا تیقن دیا ہے۔ پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ تلنگانہ اور آندھراپردیش کے باقی تمام عازمین حج خیریت سے ہیں اور خادم الحجاج وقتاً فوقتاً حج کمیٹی کو رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔ اسی دوران وزیر اقلیتی بہبود آندھراپردیش پی رگھوناتھ ریڈی نے سکریٹری اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال کو ہدایت دی کہ وہ کرشنا ضلع سے تعلق رکھنے والے متوفی عازمین حج کے خاندانوں کو حکومت کی جانب سے مناسب امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ اور چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرا بابو نائیڈو نے مکہ مکرمہ سانحہ میں عازمین حج کی اموات اور زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ دونوں چیف منسٹرس نے جاں بحق ہونے والے عازمین کے افراد خاندان سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اپنے عہدیداروں کو متاثرین کی ہر ممکن امداد کی ہدایت دی۔

TOPPOPULARRECENT