Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مکرمہ میں منہدمہ حیدرآبادی رباط کے عوض متبادل عمارتوں کے حصول کی مساعی

مکہ مکرمہ میں منہدمہ حیدرآبادی رباط کے عوض متبادل عمارتوں کے حصول کی مساعی

حیدرآباد میں سعودی کونسلیٹ کے قیام کیلئے نمائندگی تیز، محمد محمود علی اور پروفیسر ایس اے شکور کی بات چیت
حیدرآباد۔/9جولائی، ( سیاست نیوز) مکہ مکرمہ میں منہدم کی گئی حیدرآبادی رباطوں کے عوض میں حکومت سعودی عرب سے متبادل عمارتوں کے حصول کی کوشش کی جائے گی اس کے علاوہ حیدرآباد میں سعودی کونسلیٹ کے قیام کیلئے بھی تلنگانہ حکومت نے سعودی حکام سے نمائندگی کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے آج ان مسائل پر اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور سے بات چیت کی جس میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ تلنگانہ حکومت کا ایک وفد عنقریب سعودی عرب کا دورہ کرے گا تاکہ حکام سے ان مسائل پر نمائندگی کی جاسکے۔ پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ مکہ مکرمہ میں جو حیدرآبادی رباط موجود تھیں ان میں سے تقریباً 5 عمارتیں توسیع حرم کے تحت منہدم کی جاچکی ہیں اور اب صرف ایک عمارت ہی باقی رہ گئی ہے۔ تلنگانہ حکومت کی کوشش ہے کہ منہدم کردہ عمارتوں کا معاوضہ حاصل کرنے کے بجائے اس کے عوض میں متبادل عمارتیں حاصل کرلی جائیں تاکہ تلنگانہ کے عازمین حج کیلئے قیام کی گنجائش رہے۔ نظام حیدرآباد نے عازمین حج کی سہولت کیلئے یہ عمارتیں تعمیر کی تھیں جو یقیناً ایک کارنامہ ہے۔ موجودہ عمارت میں عازمین کی گنجائش بھی کافی کم ہے لہذا گذشتہ سال سے زائد عمارتیں کرایہ پر حاصل کرتے ہوئے عازمین کے قیام کا انتظام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی حکومت سے اپیل کی جائے گی کہ منہدم کردہ عمارتوں کی بجائے حرم کے اطراف کے علاقوں میں عمارتیں فراہم کردی جائیں۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ حیدرآباد میں سعودی کونسلیٹ کے قیام کی کوششوں کو بھی تیز کیا جائیگا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس سلسلہ میں سعودی حکومت کو نمائندگی کی ہے جس کی بنیاد پر مزید نمائندگی کی جائے گی۔ کونسلیٹ کے قیام سے حج اور عمرہ کے عازمین کو ویزا کے حصول میں سہولت ہوگی۔ اسی دوران حج 2016 کیلئے عزیزیہ زمرہ کے عازمین کیلئے رباط میں قیام کے سلسلہ میں قرعہ اندازی کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ اس سلسلہ میں مہاراشٹرا اور کرناٹک کے سابق ریاست حیدرآباد والے علاقوں کے گرین زمرہ کے عازمین کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں جنہیں قرعہ اندازی میں شامل کیا جائے گا۔ دونوں ریاستوں کی حج کمیٹیوں کو اس سلسلہ میں مکتوب روانہ کیا گیا ہے۔ گذشتہ سال 594 عازمین حج کیلئے رباط میں قیام کی گنجائش فراہم کی گئی تھی اور 2 زائد عمارتیں کرایہ پر حاصل کی گئی ہیں۔ جاریہ سال تلنگانہ حکومت نے 1000 عازمین کیلئے قیام کی سہولت کی خواہش کی تاہم عمارتوں کے حصول میں دشواریوں کو دیکھتے ہوئے ناظر رباط نے 700 عازمین کے قیام کے انتظامات کا تیقن دیا ہے۔ اس طرح گذشتہ سال کے مقابلہ 100 زائد عازمین کو رباط میں قیام کا موقع ملے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ناظر رباط حسین شریف آئندہ ہفتہ حیدرآباد پہنچ رہے ہیں اور 18 تا 20 جولائی کے درمیان قرعہ اندازی کا منصوبہ ہے۔ نظام اوقاف کمیٹی اگر عازمین حج سے درخواستیں طلب نہ کرے تب بھی قرعہ اندازی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ عزیزیہ زمرہ کی تمام درخواستوں کو قرعہ اندازی میں شامل کرلیا جائے گا۔ رباط میں عازمین حج کو مفت طعام کے علاوہ لانڈری کی سہولت حاصل رہے گی۔ اسی دوران تلنگانہ حج کمیٹی نے حج ہاوز میں کیمپ کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔ جاریہ سال تلنگانہ حج کمیٹی کو آندھرا پردیش کے عازمین کیلئے خدمات انجام دینا ہے اور اس سلسلہ میں دونوں کمیٹیوں کے درمیان یادداشت مفاہمت پر دستخط ہوں گے۔جگہ کی تنگی کو دیکھتے ہوئے حج ہاوز سے متصل کھلی اراضی پر عازمین کی رہائش کے انتظامات کئے جائیں گے جبکہ قافلوں کی روانگی حج ہاوز کے سیلر سے ہوگی۔ حج ہاوز کی عمارت کی تعمیر و مرمت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے کاموں کا بہت جلد آغاز ہوگا۔ وقف بورڈ نے عمارت کی آہک پاشی و کلرنگ کا فیصلہ کیا ہے جو عمارت کی تعمیر سے آج تک نہیں کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT