Saturday , May 27 2017
Home / مضامین / مگر سرحد پہ پہرے داریاں دونوں طرف سے ہیں

مگر سرحد پہ پہرے داریاں دونوں طرف سے ہیں

سرحد پر کشیدگی …مودی کا نرم رویہ
گائے کے نام پر انسانی ہلاکتیں

رشیدالدین
سرحد پر کشیدگی نے ہند۔پاک تعلقات کی استواری کی راہ میں رکاوٹ پیدا کردی ہے۔ جاسوسی کے الزام میں ایک ریٹائرڈ فوجی عہدیدار کلبھوشن جادھو کو پاکستان میں موت کی سزا سنائے جانے کے بعد سے صورتحال میں جو بگاڑ پیدا ہوا وہ پاکستانی فوج کی جانب سے دو ہندوستانی سپاہیوں کے سر قلم کرنے کے بعد شدت اختیار کرچکا ہے۔ لائین آف کنٹرول پر پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں روز کا معمول بن چکی ہیں۔ اور اس طرح کی خبر اخبارات میں شائع نہ ہو تو عوام حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ پاکستانی فوج امن پسند کس طرح اور کیونکر ہوگئی ۔ سرحد پر دراندازی کے واقعات کا تسلسل جاری ہے لیکن ہندوستانی سپاہیوں کے سر قلم کرنے جیسی بربریت نے انسانیت کو شرمسار کردیا ہے۔ پاکستان اس واقعہ سے اسی طرح انکار کر رہا ہے جس طرح اب تک دوسرے واقعات کے بارے میں کرتا رہا ہے ۔ تاہم ہندوستان نے ثبوت حوالے کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ سفارتی سطح پر بھلے ہی کچھ ہوجائے لیکن عوام اپنے فوجیوں کی حفاظت کے بارے میں فکرمند ہیں۔ ہندوستانی علاقہ میں داخل ہوکر بربریت کا مظاہرہ ہندوستان کی غیرت اورحمیت کیلئے چیلنج ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی ایسے واقعات پیش آئیں تو حکومت کی سطح پر برہمی کا بیان اور مناسب وقت پر بدلہ لینے کے اعلان کے ذریعہ عوام کو مطمئن کردیا جاتا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر مناسب وقت کب آئے گا جب منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ کیا حکومت کے پاس سرحد کے محافظین کی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں ؟ حکومت کی اس بے حسی اور کمزوری سے کیا فوج کے حوصلے پست نہیں ہوں گے ؟ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور حکومت میں جب ایک سپاہی کا سر قلم کیا گیا تو بی جے پی نے ایک کے بدلے 10 سر لانے اور پاکستان پر حملہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ نریندر مودی نے حکومت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ دشمن علاقہ میں گھس کر حملہ کر رہا ہے اور منموہن سنگھ شکایت لیکر اوباما کے پاس پہنچ گئے۔ مودی نے پاکستان کو لو لیٹر لکھنے کے بجائے اس کی زبان میں جواب دینے کی وکالت کی تھی۔ اب جبکہ وزارت عظمی پر نریندر مودی کے تین سال مکمل ہوگئے لیکن 56 انچ کا سینہ رکھنے والے اس شخص نے پتہ نہیں کیوں سب کچھ بھلا دیا ۔ پاکستان کو اس کی زبان میں جواب دینے کے بجائے نواز شریف کو سالگرہ کی مبارکباد دینے بن بلائے مہمان بن کر لاہور پہنچ گئے ۔ پاکستان سے بھلے ہی کشیدگی کسی بھی حد تک کیوں نہ ہو مودی کو نواز شریف کی سالگرہ ضرور یاد رہتی ہے۔ دونوں وزرائے اعظم کی دوستی کا یہ عالم ہے کہ قلب کی سرجری کو جانے سے قبل نواز شریف نے مودی کو فون کر کے دعاؤں کی اس طرح خواہش کی جیسے کسی بزرگ سے آشیرواد حاصل کیا جاتا ہے ۔ جب کبھی دونوں کا سامنا ہو تو کچھ اس طرح ملاقات ہوتی ہے جیسے ’’کب کے بچھڑے ہوئے ہم آج یہاں آکے ملے‘‘ مودی کو 2014 ء میں نواز شریف کے بغیر وزارت عظمی کا حلف لینا بھی گوارا نہیں ہوا۔ جہاں تک سرحد پار دہشت گردی اور پاکستانی فوج کی سرگرمیوں کا سوال ہے ، یو پی اے سے زیادہ این ڈی اے دور میں حملوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔ گزشتہ دنوں دو سپاہیوں کو سر قلم کرنے پر ہندوستان نے پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کرتے ہوئے احتجاج درج کرایا ۔ یہ محض ایک ’’زنانی‘‘ احتجاج ہے جو ہندوستان کے شایان شان نہیں۔ پڑوسیوں کے درمیان تعلقات میں بہتری سے کون انکار کرسکتا ہے لیکن صرف ایک طرفہ عمل کی بات نہیں چل سکتی۔ دوست تبدیل کئے جاسکتے ہیں ، سرحدیں نہیں۔ جب تک پاکستان میں نواز شریف وزارت عظمی کے عہدہ پر رہیں گے ، نریندر مودی کی جانب سے کسی سخت گیر اقدام کا امکان نظر نہیں آتا۔ سرحدوں پر کشیدگی کے ذریعہ عوام کی توجہ اہم مسائل سے ہٹانے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔ پانامہ انکشافات میں غیر محسوب اثاثہ جات کا معاملہ نواز شریف کا تعاقب کر رہا ہے اور تحقیقات میں ثابت ہونے پر کرسی سے محروم ہونا پڑسکتا ہے ۔ ایسے میں سرحدوں پر کشیدگی سے کہیں نواز شریف کو بچانے اور عوامی برہمی کو دبانے کی کوشش تو نہیں ؟ فوجیوں پر حملے اور حالیہ بربریت کیلئے بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کرسکتی۔ مرکز اور کشمیر دونوں جگہ ان کی حکومت سرحدوں پر تعینات سپاہیوں کی حفاظت کس طرح ہوپائے گی ، جب ملک وزیر دفاع کے بغیر چل رہا ہو۔ منوہر پاریکر کو سرحدوں کی حفاظت کے بجائے گوا میں بی جے پی حکومت کے دفاع کے لئے بھیج دیا گیا اور وزیر فینانس ارون جیٹلی کو دفاع کا اضافی قلمدان حوالے کیا گیا۔ ارون جیٹلی دفاع اور دفاعی امور کے بارے میں بہت کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے کیوں یہ قلمدان اپنے پاس نہیں رکھا ؟ انہیں تو اہم شخصیتوں سے بغلگیر ہونے اور سیلفی اتارنے سے فرصت نہیں ہے ۔ سرحدوں پر کشیدگی کے اس ماحول میں مستقل وزیر دفاع مقرر نہیں کیا گیا جو فوج کی رہنمائی کرسکے۔ دفاع جیسے حساس مسئلہ پر مودی حکومت کی بے حسی باعث حیرت ہے ۔
کسی بھی ذمہ داری کی تکمیل کیلئے تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ عجیب اتفاق ہے کہ ملک کے وزیراعظم اور سابق وزیر دفاع دونوں کو مرکز میں ذمہ داری کا کوئی تجربہ نہیں۔ نریندر مودی کو چیف منسٹر کے عہدہ سے سیدھے وزیراعظم کی کرسی پر پہنچادیا گیا ۔ اسی طرح منوہر پاریکر کو بھی گوا جیسی چھوٹی ریاست کے چیف منسٹر کے عہدہ سے ملک کے وزیر دفاع کے عہدہ کی ترقی دی گئی۔ گوا واپسی تک بھی منوہر پاریکر نے دفاع کے شعبہ میں کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دیا ۔ حالیہ عرصہ میں پٹھان کورٹ اور دیگر مقامات پر دہشت گرد حملہ کے سلسلہ میں وزیر دفاع کی حیثیت سے منوہر پاریکر کوئی خاص حکمت عملی تیار کرنے میں ناکام رہے۔ دہلی کے صحافیوں میں یہ بات مشہور ہے کہ منوہر پاریکر فوج کی تمام ریجمنٹس کے ناموں سے واقف نہیں ہیں، لہذا انہیں دوبارہ گوا واپس بھیجنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ سرحد کی صورتحال کا کشمیر کے حالات سے راست تعلق ہے۔ جب تک کشمیر  میں عوام کا دل جیتنے کی کوشش نہیں کی جائے گی ، اس وقت تک نہ صرف وادی بلکہ سرحد کو کشیدگی سے پاک کیا جاسکتا ہے ۔ مودی نے کشمیریت اور جمہوریت کا نعرہ لگایا تھا لیکن کشمیریوں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کی عزت نفس کے احترام میں حکومت بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ کشمیر کی ابتر صورتحال کا اندازہ اننت ناگ لوک سبھا حلقہ کے ضمنی چناؤ کے التواء کے فیصلہ سے ہوتا ہے۔ سرینگر لوک سبھا حلقہ کے نتیجہ سے بی جے پی اور پی ڈی پی کو مایوسی ہوئی کیونکہ 90 فیصد رائے دہندوں کے بائیکاٹ کے باوجود 10 فیصد رائے دہندوں نے فاروق عبداللہ کو کامیاب بنایا۔ اننت ناگ چونکہ محبوبہ مفتی کی چھوڑی ہوئی نشست ہے ، لہذا بی جے پی ۔ پی ڈی پی اتحاد کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتا ، لہذا صورتحال کا بہانہ بناکر الیکشن کو ملتوی کردیا گیا ۔ حالانکہ صورتحال وہی ہیں جو سرینگر میں تھی ۔ پی ڈی پی کو ہار کا خوف ستانے لگا ہے ۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی عوام سے دور اور دہلی سے قریب ہوچکی ہے ۔ بی جے پی سے ان کی مفاہمت اور حکومت کی تشکیل سے وادی میں انتہا پسند تنظیموں کو نہ صرف تقویت حاصل ہوئی بلکہ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ دونوں پارٹیوں کے نظریات کے اعتبار سے اتحاد کی کوئی گنجائش نہیں تھی ۔ کشمیر کے عوام نے پی ڈی پی کو بی جے پی سے اتحاد کیلئے ووٹ نہیں دیا تھا ۔ وادی کی صورتحال بہتر بنانے اور عوام کا دل جیتنے کیلئے اٹل بہاری واجپائی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ نے پہل کی تھی۔ انہوں نے وادی میں موجود تمام گروپس سے بات چیت کا آغاز کیا تھا لیکن نریندر مودی حکومت صرف وعدوں سے کام لے رہی ہے ۔ نوجوانوں کو دہشت گردوں کے ہمدرد کا لیبل لگاکر نشانہ بنایا جارہا ہے اور عوام کی ناراضگی سے بچنے عام آدمی کو فوج انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے ۔ مودی اور محبوبہ مفتی کو صورتحال کے مزید بگڑنے سے قبل ہی کشمیر پالیسی میں تبدیلی لانی ہوگی۔ نریندر مودی جولائی میں اسرائیل کے دورہ کا منصوبہ رکھتے ہیں جہاں وہ گجرات کے ہیروں کی برآمدات کے سلسلہ میں برانڈ ایمبسیڈر کے طور پر پیش ہوںگے۔ اسرائیل سے بڑھتے تعلقات ہندوستان کے مفاد میں نہیں ہے لیکن نریندر مودی حکومت کشمیر اور دیگر علاقوں میں مسلمانوں سے نمٹنے کی ٹریننگ اسرائیل سے حاصل کرنا چاہتی ہے جس طرح فلسطینیوں کی تحریک کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ملک کے ان حالات پر توجہ دینے کے بجائے نریندر مودی حکومت فروعی مسائل میں الجھ کر عالمی سطح پر بدنامی کا سبب بن سکتی ہے۔ طلاق ثلاثہ ، یکساں سیول کوڈ اور گاؤ رکھشکوں کے نام پر ملک بھر میں جس طرح ماحول کو کشیدہ کیا جارہا ہے ، یہ عالمی سطح پر ملک کی نیک نامی کو متاثر کرنے کا سبب بنے گا۔ امن و ضبط کی صورتحال اگر اسی طرح بگڑتی رہی تو عالمی ادارہ ہندوستان کو مائنمار کی صف میں کھڑا کردیں گے ۔مودی حکومت کی مجرمانہ خاموشی کے نتیجہ میں گائے رکھشک من مانی پر اتر آئے ہیں ۔ ملک کے کسی بھی علاقہ میں ان پر کوئی کنٹرول نہیں اور وہ جس کو چاہیں نشانہ بنارہے ہیں ۔ دراصل حکومت ملک کی دوسری بڑی اکثریت اور سب سے بڑی اقلیت کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھے۔ مسلمانوں کے صبر و تحمل اور باوقار انداز میں صورتحال سے نمٹنے کی کوششوں کا غلط مطلب نہ نکالا جائے۔ مودی نے گاؤ رکھشکوں کے خلاف اگست میں اس وقت زبان کھولی تھی جب گجرات میں دلتوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے نہ صرف ناراضگی جتائی بلکہ ریاستوں کو گاؤ رکھشک کے نام پر غیر سماجی عناصر کے خلاف کارروائی کی اپیل کی تھی۔ اب جبکہ مظفر نگر سے لیکر جھارکھنڈ ، آسام ، راجستھان ، اترپردیش میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات عام ہوچکے ہیں ، مودی کی خاموشی معنی خیز ہے ۔ ہند۔پاک کشیدگی پر منور رانا کا یہ شعر صادق آتا ہے  ؎
کھلے رکھتے ہیں دروازے دلوں کے رات دن دونوں
مگر سرحد پہ پہرے داریاں دونوں طرف سے ہیں

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT