Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / مہاتما گاندھی کے بعد اندرا گاندھی ، ملک کی سب سے پسندیدہ لیڈر : چدمبرم

مہاتما گاندھی کے بعد اندرا گاندھی ، ملک کی سب سے پسندیدہ لیڈر : چدمبرم

فرقہ پرستوں کے خلاف چٹان بن کر کھڑی رہیں ، ہندوستان کو ایک کٹورہ چاول کی محتاجی سے نکال کر سب سے بڑا برآمدکنندہ ملک بنایا ، مفخم جاہ کالج میں سمینار
حیدرآباد ۔ 17 ۔ جون : ( سیاست نیوز): سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی ستائش کرتے ہوئے کانگریس کے سینئیر لیڈر پی چدمبرم نے آج انہیں مہاتما گاندھی کے بعد ملک کا سب سے پسندیدہ لیڈر قرار دیا ۔ اندرا گاندھی کا کسی مذہب ، خطہ یا ذات سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے آج بھی سماج کے تمام فرقوں کی جانب سے ان سے سچی محبت کی جاتی ہے ۔ سابق مرکزی وزیر نے یہاں تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے اندرا گاندھی کی صدی تقاریب کے موقع پر مفخم جاہ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی میں منعقدہ ایک یادگار سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اندرا گاندھی کو سماجی طبقہ کی جانب سے عزت و اکرام حاصل ہوا ہے ۔ جب ہندوستان کو بدترین فرقہ وارانہ فسادات کا سامنا تھا شریمتی اندرا گاندھی فرقہ پرستوں کے خلاف چٹان کی طرح کھڑی رہیں ۔ عوام کو متحرک کیا اور ایسے اقدامات کئے کہ ہندوستان ترقی راہ پر گامزن ہو کر تیزی سے ترقی کرنے لگا ۔ مسٹر چدمبرم نے اس سمینار میں ہندوستان میں سامراجیت کے خلاف اندرا گاندھی کی جنگ ، انقلابی جمہوریت پر سابق چیرپرسن قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال ڈاکٹر شانتاسنہا کی جانب سے تیار کردہ تحقیقی مقالہ کی پیش کشی کے بعد دانشوروں اور طلباء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اندرا گاندھی میں غیر معمولی صلاحیتیں تھیں ۔ انہوں نے غریبوں کی مدد کے لیے کئی اسکیمات پر عمل کیا ۔ ایسے قائدین کے حق میں زبان سے ستائش ہی نکلتی ہے ۔ ہمارے معاشرہ میں کسی کی ستائش کے لیے بھی الفاظ ہیں اور تنقیدیں بھی کی جاتی ہیں اور تعریف و تنقید ہی ایک جمہوری پارٹی کے ارکان کو قابل قبول ہوتا ہے ۔ انہوں نے اندرا گاندھی کے ناقدین پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ شریمتی گاندھی کی موت کے بعد وہ تاریخی شخصیت بن گئیں ۔ شریمتی گاندھی نے 1965 ۔ 1977 اور 1980-84 کے دوران وزیراعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دی اور اپنا آخری قطرہ خون تک ملک کے لیے کام کیا ۔ آج لوگ مختلف تناظر میں بات کرتے ہیں لیکن ہر تاریخی شخصیت کا ایک وقار و معیار ہوتا ہے ۔ ان کے انجام دئیے گئے ہر کام ، ہر بات اور ہر پالیسی کو تاریخی پالیسی کی نظر سے پرکھا اور جانچا جاتا ہے ۔ بلا شبہ اندرا گاندھی نے ملک کی ترقی کے لیے شاندار ایجنڈہ بنایا اور اس کو انجام دیا تھا ۔ انہوں نے سبز انقلاب لاکر ہندوستان کو ایک کٹورہ چاول کی محتاجی سے نکال کر سب سے بڑے برآمدات کنندہ ملک میں تبدیل کردیا ۔ غربت کو دور کرنے کے لیے ان کی پالیسیوں کو زبردست کامیابی ملی ہے ۔ آج ملک دھان اور گیہوں کی برآمدات میں سب سے آگے ہے ۔ سابق مرکزی وزیر اجئے ماکن نے کہا کہ شریمتی گاندھی کمزوروں کی آواز تھیں ۔ وزیراعظم کی حیثیت سے ان کے دور میں شروع کردہ فلاحی و بہبودی پروگراموں کو کانگریس پارٹی نے آج بھی جاری رکھا ہے ۔ اندرا گاندھی کی صدی تقاریب کے سلسلہ میں دہلی ، گوہاٹی اور بنگلور میں پروگرام کے انعقاد کے بعد حیدرآباد میں سمینار منعقد کیا گیا ۔ ڈاکٹر شانتاسنہا نے اندرا گاندھی کے دور وزارت عظمیٰ کے کاموں پر توجہ دے کر ریسرچ پیپر تیار کیا ہے ۔ اس سمینار سے ساکشی میڈیا گروپ کے ایڈیٹوریل ڈائرکٹر مسٹر رامچندر مورتی ، اور ملاپلی لکشمیانے بھی خطاب کیا ۔ سمینار میں تلنگانہ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے جانا ریڈی ، قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر ، صدر پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی ، سکریٹری سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی مسٹر ظفر جاوید ، مسٹر محمد جعفر ماہر تعلیم ، اور مختلف ممتاز قائدین بھی شریک تھے ۔ راجیہ سبھا رکن چدمبرم نے مزید کہا کہ کئی سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہاتما گاندھی کے بعد جن کا نام ملک میں کہیں بھی آسانی سے جانا جاتا ہے اندرا گاندھی کو مقبولیت حاصل ہے ۔ کوئی بھی کسی سے اتفاق کرسکتا ہے اور بحث پر عدم اتفاق رکھتا ہے لیکن اندرا گاندھی کی حب الوطنی کسی شبہ سے بالاتر ہے ۔ اس ملک کے عوام سے ان کی محبت اٹوٹ تھی ۔ چدمبرم نے کہا کہ سابق وزیراعظم میں حوصلہ تھا اور جرات مندی کا مظاہرہ کرتی تھیں ۔ انہوں نے 1970 میں ایمرجنسی کے نفاذ کو ایک غلطی تسلیم کیا تھا ۔ جو لوگ ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے ان پر تنقید کرتے ہیں وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اندرا گاندھی پہلی فرد تھیں جنہوں نے غلطی کو تسلیم کیا تھا اور ایک عظیم لیڈر کی ہی نشانی ہوتی ہے کہ اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT