Sunday , October 22 2017
Home / ادبی ڈائری / مہاراجا کشن پرشاد کی سیرت اور کارنامے تین ہم عصر نامور شخصیتوں کے تاثرات

مہاراجا کشن پرشاد کی سیرت اور کارنامے تین ہم عصر نامور شخصیتوں کے تاثرات

ڈاکٹر سید داؤد اشرف
مہاراجا کشن پرشاد راجا ہری کرن کے فرزند اور راجا نریندر پرشاد کے نواسے تھے ۔ راجا نریندر پرشاد کی کوئی اولاد نرینہ نہ تھی ۔ کشن پرشاد ان کی اکلوتی صاحبزادی کے فرزند تھے ۔ اس لئے انھوں نے کشن پرشاد کو متبنیٰ بنایا ۔ راجا نریندر پرشاد کے انتقال پر کشن پرشاد ان کے جانشین اور وارث ہوئے ۔ بعد ازاں میر محبوب علی خان آصف سادس نے انھیں موروثی پیشکاری کی خدمت عطا کی ۔ انھیں وزارت فوج کی خدمت پر بھی فائز کیا گیا ۔ جب مدارالمہام (صدراعظم کا عہدہ پہلے دیوان اور مدارالمہام کہلاتا تھا) نواب وقار الامرا کلکتہ اور شملہ گئے تھے مہاراجا کشن پرشاد اور مرتبہ نگراں کار مدارالمہام بنائے گئے ۔ وہ 1901ء کو مدارالمہامی کے عہدے پر فائز کئے گئے ۔ مہاراجا کو میر محبوب علی خان آصف سادس سے بڑی عقیدت و محبت تھی ۔ وہ آصف سادس کا بڑا احترام کرتے تھے ۔ آصف سادس بھی انھیں بے حد عزیز رکھتے تھے ۔ آصف سادس نے انھیں راجا بہادر اور یمین السلطنت کے خطابات عطا کئے ۔ برطانوی حکومت کی جانب سے انھیں نائٹ کمانڈر آف دی آڈر آف دی انڈین ایمپائر اور جی سی آئی ای کے اعزازات دئے گئے ۔ آصف سادس کے انتقال پر جب میر عثمان علی خان آصف سابع 29 اگست 1911ء کو حکمران بنے اس وقت مہاراجا بہادر پی مدارالمہام تھے ۔ مہاراجا کے دشمنوں اور بدخواہوں کی سازشوں اور کوششوں کی وجہ سے وہ بہت جلد آصف سابع کی بے اعتمادی کا شکار ہوئے ۔ آصف سابع نے تخت نشین ہونے کے اندرون ایک سال فرمان مورخہ 11جولائی 1912 ء کے ذریعے مہاراجا کو مدارالمہامی کی خدمت سے سبکدوش کردیا ۔ مہاراجا دوسری بار 27 نومبر 1926ء کو تین سال کے لئے صدراعظم مقرر کئے گئے مگر ان کی مدت ملازمت میں توسیع دی جاتی رہی اور انھوں نے زائد از دس سال اس خدمت پر فائز رہنے کے بعد پیرانہ سالی کی بنیاد پر صدراعظم کے عہدے سے سبکدوش کردینے کی درخواست کی ۔ چنانچہ آصف سابع نے بذریعہ فرمان مورخہ 9 مارچ 1937ء  مہاراجا کی درخواست منظور کرتے ہوئے اور اکبر حیدری کا صدراعظم کے عہدے پر تقرر کیا ۔

اگرچہ مہاراجا ہندو تھے لیکن وہ تمام مذاہب کے بنیادی عقائد کو مانتے تھے  ۔ان کی زندگی پر کسی مخصوص مذہب و مسلک کی چھاپ نہیں دکھائی دیتی تھی ۔ وہ اپنی وسیع المشربی کے باعث تمام مذاہب کے ماننے والوں میں مقبول و محترم تھے ۔ ان کی فیاضی ، فراخ دلی اور داد و دہش کا یہ عالم تھا کہ ایک بہت بڑی اسٹیٹ کے مالک ہونے کے باوجود زندگی بھر مقروض رہے ۔ ان کے دربار میں ارباب کمال جمع رہتے تھے ۔ وہ ضرورت مند ادیبوں ، شاعروں اور عالموں کو مقدور بھر مالی امداد دیا کرتے تھے ۔ اردو کے بیشتر نامور شاعروں اور ادیبوں سے ان کی خط و کتابت تھی ۔ ان خطوط کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں ۔ وہ نہ صرف ادیبوں اور شاعروں کے قدرداں تھے بلکہ وہ خود بھی متعدد کتابوں کے مصنف اور پرگو شاعر تھے ۔ انھوں نے نظم و نسق و نثر کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی ۔ وہ علم دوست اور ادب نواز ہونے کے علاوہ نہایت مہذب ، شائستہ ، منکسر المزاج اور پسندیدہ اخلاق کے مالک تھے ۔

مہاراجا کی سیرت اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے کسی ایسی ممتاز اور معتبر ہستی کے خیالات  اور تاثرات جاننا ضروری ہے جسے مہاراجا کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے مواقع حاصل ہوئے ۔
ظہیر احمد کی انگریزی کتاب Life’s Yesterday میں مہاراجا کشن پرشاد پر سرنظامت جنگ کا مضمون شامل ہے ۔ مہاراجا کے بارے میں نظامت جنگ کے خیالات اور تاثرات بیان کرنے سے قبل نظامت جنگ کے بارے میں لکھنا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔
سر نظامت جنگ ریاست حیدرآباد کے آخری دور کی ایک بے حد ممتاز اور محترم شخصیت تھی ۔ وہ ایک ممتاز دانشور ، فلسفی اور انگریزی کے شاعر اور ادیب کی حیثیت سے بھی بڑی شہرت رکھتے ہیں ۔ وہ جج ہائی کورٹ ، چیف جسٹس ہائی کورٹ اور پولیٹکل سکریٹری جیسے اہم عہدوں پر خدمت انجام دینے کے بعد نومبر 1919 تا ختم 1929 ء یعنی تقریباً دس سال تک وزیر سیاسیات رہے ۔ مہاراجا کشن پرشاد کی مدارالمہامی کے پہلے دور میں نظامت مہاراجا کے تحت کام کرچکے تھے ۔ جب مہاراجا دوسری بار صدراعظم مقرر ہوئے نظامت جنگ وزیر سیاسیات تھے ۔ نظامت جنگ نے تقریباً تین سال تک مہاراجا کے کابینی رفیق کے طور پر کام کیا ۔ مہاراجا کے تحت اور کابینہ میں ساتھ کام کرنے کی وجہ سے انھیں مہاراجا کی شخصیت اور صلاحیتوں سے کماحقہ واقف ہونے کے مواقع میسر آئے ۔ نظامت جنگ خودداری اور بے نیازی کے علاوہ اصول پسندی اور راست گوئی کے لئے بھی بڑی شہرت رکھتے تھے ۔ ان باتوں کے پیش نظر مہاراجا کے بارے میں نظامت جنگ کے خیالات بڑی اہمیت کے حامل ہوجاتے ہیں ۔

نظامت جنگ اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ پہلی بار مہاراجا کے مدارالمہام مقرر ہونے کے فوری بعد انھیں مہاراجا سے ملنے کا اعزاز حاصل ہوا اور مہاراجا ہی کے حکم پر ان کا تقرر محکمہ قانون سازی میں انڈر سکریٹری کے طور پر عمل میں آیا جہاں ان کے چچا عماد جنگ سکریٹری تھے ۔ جب بھی نظامت جنگ اپنے چچا کی خدمت پر جبکہ وہ ہوم سکریٹری تھے یا فریدون جی کی خدمت پر جبکہ وہ پرائیوٹ اور پولیٹکل سکریٹری تھے قائم مقامی کرتے تھے ، انھیں مہاراجا سے ملنے کے مواقع میسر آتے تھے ۔ مہاراجا ہمیشہ خوش خلقی اور مہذب انداز میں پیش آتے تھے ۔ ان کا پرخلوص و شائستہ برتاؤ اور  ان کے ہمدردانہ رویے کی وجہ سے اور بھی دل کش اور پرکشش بن جاتا تھا ۔ وہ نظامت جنگ کی نظروں میں ایک ایسی شخصیت کی حیثیت سے ابھرتے تھے جو اس دور میں بھی کم یاب تھی جبکہ تہذیب و شائستگی کا معیار آج کے مقابلے میں بہت اونچا تھا ۔ مدارالمہامی کے ابتدائی دونوں میں جبکہ مہاراجا کو نظم و نسق کے امور پر پوری طرح عبور حاصل نہیں ہوا تھا چند قابل اور تجربہ کار سکریٹریز ان کے مشیر تھے ۔ ان میں اہم ترین نظامت جنگ کے چچا نواب عماد جنگ تھے جو متواتر چار مدارالمہاموں کے تحت ہائی کورٹ کے جج ، چیف جسٹس اور ہوم سکریٹری کے عہدوں پر مامور رہے ۔ تمام محکمہ جات کے طریق عمل کے بارے میں ان کی مکمل اور وسیع معلومات مہاراجا کے لئے سودمند رہیں ۔عماد جنگ ہوشیاری اور معاملہ فہمی کے ساتھ 1904 ء تک مہاراجا کی رہنمائی کرتے رہے ۔ مہاراجا دوسری بار صدراعظم مقرر کئے گئے اور وہ اس عہدے پر دس سال تک کارگزار رہے ۔ نظامت جنگ نے تقریباً تین سال تک مہاراجا کے کابینی رفیق کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔ اس عرصے میں مہاراجا خوش خلقی ، مروت اور شائستگی سے پیش آتے رہے جیسا کہ وہ ہمیشہ پیش آیا کرتے تھے ۔ ان کے عمدہ صفات میں ایک صفت یہ تھی کہ وہ اپنے کابینی رفقاء کے ساتھ دوستانہ انداز اور باہمی رضامندی کے ساتھ کام کرنے کے لئے آمادہ رہتے تھے ۔ وہ اپنے حق اور حیثیت پر اصرار کرنا نہیں جانتے تھے ۔ ان میں Silent suggestion کے ساتھ رہنمائی کرنے کا شائستہ اور فطری سلیقہ تھا ۔ انھوں نے اپنے آپ کو عمدہ وزیراعظم ثابت کیا ۔ سرولیم بارٹن ریذیڈنٹ نے ابتداء میں صدراعظم کے عہدے پر ان کے انتخاب پر اتفاق کرنے سے پس و پیش کیا تھا لیکن تین سال بعد مہاراجا اور ان کے کام کرنے کے ڈھنگ سے واقف ہونے کے بعد ولیم بارٹن نے تسلیم کیا کہ مہاراجا کا انتخاب بہت صحیح اور درست تھا ۔ مہاراجا کی جانب سے دی گئی وداعی تقریب میں ولیم بارٹن نے طبقہ امراء میں مہاراجا کی امتیازی حیثیت کو The Last of the Mughlas کا نام دیا ۔
مہاراجا پہلی بار تقریباً گیارہ برس مدارالمہام اور دوسری بار دس برس سے زیادہ مدت تک صدراعظم رہے ۔ اس طرح انھوں نے اکیس برس تک حکومت ریاست حیدرآباد کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔ مہاراجا نے اس جلیل القدر عہدے پر فائز رہتے ہوئے بحیثیت اڈمنسٹریٹر کس انداز اور ڈھنگ سے کام کیا ۔ اس کا جائزہ لینے کے لئے آرکائیوز کے ریکارڈ کے علاوہ ان مستند کتابوں اور مضمونوں کے حوالوں سے بات کرنا مناسب رہے گا ۔ جن کے مصنفین کو ان کے ماتحت کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا یا جنھوں نے ان کے نظم و نسق کا یا کی انتظامی صلاحیتوں کا بغور مطالعہ کیا اور اس بارے میں رائے دی ۔ ’’تذکرۂ باب حکومت‘‘ کے مصنف مولوی محمد مظہر ریاست حیدرآباد کے نظم و نسق کے بارے میں گہری واقفیت رکھتے تھے ۔ باب حکومت کی کارکردگی کا ان کو راست اور طویل تجربہ تھا ۔ انھوں نے اپنی کتاب میں باب حکومت کے آغاز یعنی سرعلی امام کے عہدسے نواب صاحب چھتاری کے دور تک تمام صدراعظموں اور صدرالمہامان (وزراء) کے کام کرنے کے ڈھنگ اور کارکردگی کا بڑی تفصیل سے جائزہ لیا ہے ۔ وہ ’’تذکرہ باب حکومت‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اگرچہ مہاراجا امارات میں پیدا ہوئے پھولے پھلے اور مختار کل مدارالمہام کی حیثیت سے ایک مرتبہ کام بھی کرچکے تھے مگر انھوں نے باب حکومت کے صلاح ومشورے کے طریقوں کو بھی قابل اطمینان طریقے سے چلانے کی کوشش کی ۔ باب حکومت میں بحیثیت صدراعظم ان کا اصول یہ تھا کہ مشاورتی حکومت کا ارتقاء ہوتا رہے ۔ ارکان باب حکومت یعنی وزراء پر کامل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کو کام کرنے کا موقع دیا گیا۔
مہدی نواز جنگ کی کتاب ’’مہاراجا کشن پرشاد کی زندگی کے حالات‘‘ مہاراجا کی حیات ، شخصیت اور کارناموں کے بارے میں بڑی اہم اور مستند کتاب ہے ۔ مہاراجا کے دوسری بار حکومت کے سربراہ مقرر ہونے کے اندرون تین ماہ مہاراجا کی خواہش پر مہدی نواز جنگ کا معتمد پیشی صدراعظم و معتمد باب حکومت کے طور پر تقرر عمل میں آیا ۔ مہاراجا ان کی اصول پسندی، راست گوئی ، بے تعصبی ، محتاط روی اور ڈسپلن کی پابندی کے سبب انھیں بہت پسند کرتے تھے ۔ مہاراجا کو ان پر کامل اعتماد تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ مہاراجا نے اپنے دوسرے دس سالہ دور وزارت عظمی میں ان ہی کو اس عہدے پر فائز اور برقرار رکھا ۔ اس دوران مہدی نواز جنگ کو مہاراجا کی شخصیت ، سیرت کے مختلف پہلوؤں اور بحیثیت اڈمنسٹریٹر ان کے کارناموں کا بغور مطالعہ کرنے کے مواقع حاصل ہوئے ۔ مولوی محمد مظہر کی متذکرہ بالا رائے کے مطابق مہاراجا مختار کل مدارالمہام کی حیثیت سے کام کرچکے تھے مگر انھوں نے باب حکومت کے صلاح و مشورے کے طریقے کو بھی قابل اطمینان بخش طریقے سے چلانے کی کوشش کی تھی جبکہ مہدی نواز جنگ کا بیان ہے کہ وزارت عظمی کے پہلے اور دوسرے دور میں مہاراجا کا طریقہ ایک جیسا تھا ۔ مہدی نواز جنگ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جن اصحاب کو ریاست حیدرآباد کے نظم ونسق سے دلچسپی رہی ہے وہ اس امر سے واقف ہیں کہ میر محبوب علی خان آصف سادس سوائے شاذ و نادر صورتوں کے یااہم سیاسی امور کے نہ تو عام طور پر تقررات میں دخل دیتے تھے اور نہ انصرام کار میں ۔ ریاست کا سیاہ و سفید کلیتاً مدارالمہام کے ہاتھ میں تھا ۔ اس زمانے میں بھی مہاراجا کی کوشش رہی کہ وزراء کو شریک کا بنایا جائے تاکہ انھیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو ۔

مہاراجا وزارت عظمی کے دوسرے دور میں حکومت کے دستور اساسی یعنی تنظیم باب حکومت کے قواعد میں کہیں کوئی الجھاؤ کے پیدا ہونے کا خدشہ محسوس کرتے تو قواعد تنظیم باب حکومت میں اصلاح کی تحریک پیش کیا کرتے تھے ۔ وہ اپنے کسی کابینی رفیق میں وزیر کے کام سے خوش ہوتے تو اس کی دل کھول کر ستائش کرتے اور اس کے کام میں مزید بہتری کے لئے تجاویز پیش کیا کرتے تھے ۔ وہ معائنوں کے دوران جن مقامات اور اداروں میں خرابیاں یا نقص دیکھتے فوراً ان کی اصلاح کے لئے متعلقہ وزیر یا اعلی عہدیداروں کو توجہ دلانے اور اصلاح یا کام کی تکمیل کی رپورٹ روانہ کرنے کی ہدایت کیا کرتے تھے ۔ اس طرح وہ عوام کی فلاح و بہبود ، ان کی صحت ، سہولت حمل و نقل اور ان کے ذرائع آمدنی بڑھانے کے سلسلے میں تحریکات روانہ کرتے تھے ۔ مہدی نواز جنگ نے اپنی کتاب میں مہاراجا کرشن پرشاد کی جانب سے روانہ کردہ تحریکات ، نوٹ اور مراسلوں کی نقلیں چھاپی ہیں ۔ ان میں سے چند اہم تحریکات ، نوٹ اور مراسلوں کے حوالے پیش کئے جارہے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مہاراجا ریاست کے نظم و نسق کو بہر انداز میں چلانے کے لئے کس قدر موثر انداز میں نگرانی کیا کرتے تھے ۔
مہاراجا نے تنظیم باب حکومت اور صدراعظم و صدرالمہامان کے مابین کارروائیوں میں کس  قدر پیچیدگیوں کے پیدا ہونے کا اندیشہ محسوس کیا اور انھیں بتایا گیا کہ آئین پر صحیح طور پر عمل نہیں کیا جارہا ہے ۔ تو انھوں نے 25 دسمبر 1926ء کو تنظیم باب حکومت پر غور کرنے کے لئے حیدر نواز جنگ ، لطف الدولہ ، نظامت جنگ پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کرنے کی تحریک پیش کی تاکہ جو غلطیاں سرزد ہوئی ہیں یا جن غلطیوں کے سرزد ہونے کا خدشہ تھا اور دفع ہوجائیں تاکہ صدراعظم اور صدرالمہاموں کو ہر طرح سے اطمینان ہو اور صدرالمہامان ضابطے کی پوری پابندی کریں ۔
اکبر حیدری کے 1930 و 1931 کے تیار کردہ بجٹ پر مہاراجا نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ موازنے کو دیکھنے سے حقیقی مسرت ہوئی ہے ۔ حیدر نواز جنگ کی قابلیت نے حیدرآباد کے فینانس کو اس قدر کامیاب رکھا ہے کہ اس کا عملی ثبوت ہر سال مل رہا ہے ۔ اس کامیابی پر وہ قابل مبارکباد ہیں اور حکومت بھی لازمی طور پر ان کی خدمات کی بڑی قدر کرتی ہے ۔ اس کے بعد مہاراجا نے لکھا کہ موجودہ ٹریفک کی کثرت کے پیش نظر بہتر قسموں کی سڑکیں تعمیر کروانا ضروری ہے ۔ اس تجویز کے علاوہ انھوں نے دوسری اہم تجویزیہ پیش کی کہ زرعی قرضہ داری سے نجات دلانے کے لئے ہر سال سرکاری طور پر زیادہ مدت کے لئے کم شرح سود پر قرضہ جات کا انتظام کیا جائے ۔ نوٹ کے آخر میں انھوں نے لکھا ’’ان دو امور پر لحاظ مناسب کیا جائے تو موازنہ میرے نزدیک مکمل ہوجائے گا‘‘ ۔ مہاراجا نے صدرالمہام متعلقہ کے توسط سے مشیر قانون کو مراسلہ مورخہ 11 جنوری 1927ء میں لکھا کہ مزارعین کی حمایت و حفاظت اس ریاست اور اس کے حکمران کا روایتی نصب العین ہے اور یہ ہدایت کی کہ متعلقہ صدرالمہام کے توسط سے کیفیت پیش کی جائے کہ کیوں نہ امداد مزارعین کے قانون کا مسودہ مجلس وضع قوانین میں پیش کیا جائے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہدایت کی کہ دیہی پنچایت کو بااثر اور مفید بانے کے لئے ریاست میں کوئی قانون رعایت ہو تو اس کی نسبت کیفیت پیش کی جائے اور یہ ظاہر کیا جائے کہ کیوں نہ اس ریاست میں بھی برطانوی ہند کے قانون دیہی کی طرح قانون پنچایت دیہی نافذ کیا جائے ۔

بیدر کی معاشی بدحالی ، کاریگروں کی بے ہنری اور عام افلاس کو دیکھ کر مہاراجا صدرالمہام صنعت و حرفت کو مراسلہ مورخہ 10 نومبر 1927ء میں لکھا کہ ان مشکلات پر قابو پانے کے لئے ضروری تجاویز پر ایک ایسی کمیٹی میں تفصیلی طور پر غور کرنا مناسب ہوگا جس میں ناظم صنعت و حرفت  ،ناظم تعلیمات ، ناظم امداد باہمی ، معتمد فینانس اور صدر ناظم صنعت و حرفت شریک ہوں ۔ یہ کمیٹی اس امر پر غور کرے کہ آیا بیدر میں پارچہ بافی و صنعت بیدری کا ایک ایسا کارخانہ قائم کیا جاسکتا ہے جس میں اعلی پیماناے پر پارچہ بافی و صنعت بیدری کی تعلیم پانے کے بعد طالبان معاش روزگار اور مجوزہ کارخانہ بیوہ عورتوں کی پرورش کا ایک ذریعہ بن سکے ۔ اس مراسلے کے آخر میں انھوںنے لکھا کہا نھیں اس بارے میں عملی تجاویز کا انتظار رہے گا ۔
مہاراجا نے صدرالمہام طبابت کو مراسلہ مورخہ 27 جنوری 1928ء میں تحریر کیا کہ دواخانہ مستقر عثمان آباد اور رائچور میں لیڈر ڈاکوؤں کے نہ ہونے کی شکایتیں پیش ہوئی ہیں ۔ لہذا ان شکایتوں کو جلد رفع کیا جائے ۔ انھوں نے مزید لکھا کہ ہر شفاخانے کے معائنے کے وقت یہ دیکھا گیا کہ ان پیشنٹ مریضوں کے لئے بستروں کا انتظام بالکل ناقص اور نامناسب ہے ۔ مریضوں کی حالت دیکھنے سے بہت افسوس ہوا جو واقعی محکمہ طبابت کے لئے باعث ننگ ہے ۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ صدرالمہام  طبابت کی ذاتی توجہ ان اصلاحات کے حق میں موثر ثابت ہوگی ۔
مہاراجا نے پلیگ کی روک تھام سے متعلق ایک مراسلہ مورخہ یکم فروری 1928ء میں معتمد طبابت کو لکھا کہ علاج پلیگ کے دواخانوں میں مریضوں کی آسائش کا انتظام تشفی بخش نہیں ہے اور نہ ہی نرسوں کی تعداد مریضوں کی تعداد سے کوئی نسبت رکھتی ہے ۔ بلاکسی تاخیر کے نرسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مریضوں کو دواخانے میں پہنچانے کا انتظام نہایت نامناسب اور بدنما ہے ۔ بیماروں کو کچرے کی موٹر میں دواخانہ پہنچانا جیسا کہ انھوں نے ویوک وردھنی تھیٹر میں دیکھا ان کے لئے شرمندگی کا باعث ہوا ۔ لہذا مزید سوچ بچار کے کم از کم چار شورلیٹ یا ڈاچ کرایئے پر لے جائیں ۔ آخر میں انھوں نے ہدایت کی کہ سب کمیٹیوں کا اجلاس ایک دن کے وقفے سے اور پلیگ کمیٹی کا اجلاس ہر ہفتہ لازمی طور پر منعقد ہوا کرے اور ان کمیٹیوں کی روداد راست ان کے پاس بھیجنے کا انتظام کیا جائے ۔
مہدی نواز جنگ نے اپنی کتاب کے ضمیمہ دوم ’’تحریکات و ہدایت نظم و نسق‘‘ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ مہاراجا کے سرکاری دورے سیر و تفریح ، پھول پہننے اور ایڈریس لینے تک محدود نہیں تھے بلکہ وہ جہاں جاتے تھے وہاں کے حالات کا معائنہ کرکے عوام کو مصائب اور مشکلات سے نجات دلانے اور سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔
آرکائیوز کے ریکارڈ کے مطالعے سے مہاراجا کی انتظامی صلاحیتوں اور دیگر خوبیوں کا اندازہ ہوتا ہے ۔ وہ حق دار کو اس کا حق دلانے میں کبھی پس و پیش نہیں کرتے تھے بلکہ وہ کبھی کبھار مروجہ قاعدوں کو بھی نظر انداز کردیتے تھے ۔ اگر انھیں بعجلت ممکنہ کوئی کام انجام دینے کی ضرورت محسوس ہوتی تو وہ اپنے دفتر کے کسی کم مرتبہ عہدیدار کے غیاب یا غیر حاضری میں اس کے مفوضہ فرائض انجام دینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے تھے اور ان فرائض کو اس خوبی سے انجام دیتے تھے کہ متعلقہ عہدیدار بھی ان فرائض کو اس خوبی سے انجام نہیں دے سکتا تھا  ۔

کسی بھی کارروائی میں فرمان کے ذریعے باب حکومت کی سفارش نامنظور کرنے کے بعد وہ کارروائی داخل دفتر کرائی جاتی تھی اور باب حکومت کی جانب سے اس کارروائی کے بارے میں کوئی اور عرض داشت آصف سابع کے پاس نہیں بھیجی جاتی تھی ۔ مہاراجا نے محکمہ تعلیمات میں 250 تا 400 روپے کی ایک خالی عہدے پر فانی بدایونی کے تقرر کے لئے عرض داشت آصف سابع کی خدمت میں روانہ کی تھی ۔ آصف سابع نے فانی کے تقرر کی سفارش کو منظوری نہیں دی ۔ اس بارے میں جاری کردہ فرمان میں لکھا گیا کہ ایسی معمولی خدمات پر غیر ملکی اشخاص کا تقرر غیر ضروری ہے کیونکہ اس طرح عمل کرنے سے صدہا تعلیم یافتہ ملکی اشخاص کے لئے ملازمت مہیا کرنا دشوار ہوگا ۔ آصف سابع نے مہاراجا کی سفارش کو نامنظور کردیا تھا لیکن مہاراجا اردو کے ایک بہت بڑے اور اہم شاعر کو مالی پریشانیوں اور بے روزگاری سے چھٹکارا دلانا چاہتے تھے ۔ چنانچہ انھوں نے بڑی جرات سے کام لیتے ہوئے دو روز بعد ہی فانی کے تقرر کے سلسلے میں دوسری عرض داشت آصف سابع کی خدمت میں پیش کی جس میں انھوں نے فانی کی قابلیت اور لیاقت کے بارے میں تفصیل سے لکھتے ہوئے فانی کے تقرر کی پرزور سفارش کی ۔ اس عرض داشت پر آصف سابع نے بذریعہ فرمان خاص حالات کے تحت فانی کے تقرر کی منظوری دے دی مگر یہ ہدایت کی کہ آئندہ ان کے حکم کے مطابق عمل ہوا کرے ۔ فانی کے تقرر کے سلسلے میں بھیجی گئی دوسری عرض داشت کا مسودہ مہاراجا نے بقلم خود لکھا تھا ۔ مجھے آندھرا پردیش آرکائیوز میں محفوظ بے شمار عرض داشتوں کے مسودات میں صرف دو ایسے مسودات دیکھنے کو ملے جو صدراعظم نے خود اپنے قلم سے لکھے تھے ۔ وہ صدراعظم کوئی اور نہیں مہاراجا کشن پرشاد تھے ۔ ان دو مسودات میں ایک فانی کے تقرر کے سلسلے میں روانہ کردہ دوسری عرض داشت کا مسودہ اور دوسرا اس عرض داشت کا مسودہ جو ریاست کے آثار قدیمہ اور تاریخی مقامات کی نگہداشت کے سلسلے میں لکھا گیا تھا ، مہاراجا کے لکھے گئے دونوں مسودات بڑی مہارت کے ساتھ قلم برداشتہ لکھے گئے ہیں اور ان میں کہیں کاٹ چھانٹ نہیں ہے ۔ ان مسودات کو دیکھنے کے بعدیہ احساس ہوتا ہے کہ مہاراجا نہ صرف صدراعظم کے دفتری کام سے بخوبی واقف تھے بلکہ اس میں مہارت بھی رکھتے تھے ۔ ان مسودات کی زیراکس کاپیاں میری کتابوں ’’بیرونی مشاہیر ادب اور حیدرآباد‘‘ اور ’’نقوش تاباں‘‘ میں شامل مضامین ’’فانی بدایونی کا محکمہ تعلیمات میں تقرر‘‘ اور ’’مندر ہزار ستون اور قلعہ ورنگل ۔ ریاست حیدرآباد میں بہتر نگہداشت‘‘ کے آخر میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔
اس مضمون میں پیش کردہ مستند مواد سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ مہاراجا بہت اچھے اور تجربہ کار اڈمنسٹریٹر تھے اور بقول سر نظامت جنگ بہادر مہاراجا نے اپنے آپ کو عمدہ وزیراعظم ثابت کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT