Saturday , October 21 2017
Home / ہندوستان / مہاراشٹرا اِسمبلی میں سماجی بائیکاٹ امتناعی بل کی منظوری

مہاراشٹرا اِسمبلی میں سماجی بائیکاٹ امتناعی بل کی منظوری

جرم ثابت ہونے پر 7 سال کی قید اور 5 لاکھ روپئے جرمانہ
ممبئی ۔ 13 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا اسمبلی میں آج اتفاق آراء سے سماجی مقاطعہ پرامتناع کے بل کو منظور کرلیا جس میں ماورائے عدالت اداروں جیسے ذات پات اور برادری کی پنچایتوں کو ختم کرنے کی تجویز ہے ۔ چیف منسٹر دیویندر فڈنویس نے اس بل پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سوشیل بائیکاٹ کے واقعات سے نمٹنے میں مروجہ قوانین ناکامی ثابت ہورہے ہیں  جس کے پیش نظر نئے قانون کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ اس بل میں سماجی مقاطعہ کو جرم تصور کیا جائے گا۔ چیف مسٹر نے اسمبلی میں اتفاق رائے سے بل کی منظوری پر مسرت کااظہار کیا جبکہ اس بل میں ذات برادری کی پنچایتوں کی جانب سے کسی ایک شخص یا گروپ یا ان کے افراد خاندان کے سماجی بائیکاٹ پر امتناع کرنے کا اختیار تفویض کیا گیا۔ مہاراشٹرا ملک گیر سطح پر پہلی ریاست بن گئی ہے ج ہاں پر سماجی بائیکاٹ کے خلاف ایک قانون کا نفاذ عمل میں لایا جارہا ہے۔ ذات پات کی بنیاد پر سماجی بائیکاٹ کرنے پر 7 سال کی سزائے قید اور 5 لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے ۔ سماجی بائیکاٹ کا شکار کوئی بھی شخص پولیس یا مجسٹریٹ سے راست شکایت کرسکتا ہے اور چارج شیٹ کے ادخال کی تاریخ سے اندرون 6 ماہ کیس کی یکسوئی کیلئے حد مقرر کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT