Thursday , October 19 2017
Home / اداریہ / مہاراشٹرا حکومت میںکرپشن

مہاراشٹرا حکومت میںکرپشن

کہتے تھے آپ تو مرا بے داغ ہے دامن
یہ کیا ہوا کہ آپ کا دامن ہے داغ داغ
مہاراشٹرا حکومت میںکرپشن
مہاراشٹرا میں بالآخر حکومت میں نمبر دو موقف رکھنے والے وزیر مال ایکناتھ کھڑسے کو کابینہ سے استعفی پیش کردینا پڑا ۔ ان کے خلاف کرپشن کے سنگین الزامات تھے ۔ ان پر اراضی معاملتوں میں ملوث رہنے کے الزامات بھی تھے اور سب سے سنگین الزامات یہ تھے کہ انہیں کراچی میں واقع داود ابراہیم کی قیامگاہ سے فون کالس موصول ہوئے تھے ۔ حالانکہ بی جے پی نے اور مہاراشٹرا حکومت نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے اور انہیں تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے لیکن بحالت مجبوری کھڑسے کو کابینہ سے علیحدہ کردینا پڑا ۔ کرپشن کے جو الزامات کھڑسے پر عائد کئے گئے ہیں اتفاق کی بات یہ ہے کہ ایسے ہی الزامات عائد کرتے ہوئے کھڑسے جب اپوزیشن میں تھے اس وقت کانگریس ۔ این سی پی حکومت کو مسلسل نشانہ بناتے رہے تھے اور ان الزامات سے سابقہ حکومت کو پریشانیوںکا سامنا بھی کرنا پڑا تھا ۔ آج کرپشن کے ان ہی الزامات کے نتیجہ میں ایسا لگتا ہے کہ کھڑسے کا سیاسی کیرئیر داغدار ہوگیا اور انہیں وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا ہے ۔ یہ تاثر بھی تقویت پاتا جا رہا ہے کہ کھڑسے ریاست میں چیف منسٹر کے دعویدار تھے اور مستقبل میں بھی وہ وزارت اعلی کی دعویداری پیش کرسکتے تھے ایسے میں دیویندر فرنویس نے انہیں بالواسطہ طور پر نشانہ بنایا اور ان کا کیرئیر داغدار کردیا تاکہ انہیںمستقبل میں کھڑسے سے کوئی خطرہ لاحق نہ ہونے پائے ۔ کرپشن کے الزامات ویسے تو تمام ہی سیاستدانوں کے خلاف اکثر و بیشتر لگتے رہتے ہیں۔ بہت کم سیاستدان ایسے ہیں جن کا کیرئیر داغدار نہیں ہے ۔ تاہم کھڑسے کے خلاف الزامات کو خود بی جے پی میں اور حکومت مہاراشٹرا میں موجود ان کے مخالف عناصر نے استعمال کیا اور انہیں نشانہ بنادیا تاہم سب سے سنگین اور اہمیت کے حامل الزامات داود ابراہیم کی قیامگاہ سے آنے والے فون کالس کے ہیں۔ ان الزامات کو کرپشن کے الزامات کی آڑ میں پس پشت ڈالنے کی کوششیں خود بی جے پی میں کی جا رہی ہیں۔ جب انہیں کرپشن کے الزامات پر کابینہ سے علیحدہ کیا گیا تو داود کے فون کالس کے الزامات کا کہیں تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ چیف منسٹر مہاراشٹرا فرنویس نے بھی کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے داود کے فون کالس کی تحقیقات کا نہیں۔
داود ابراہیم ہندوستان کو انتہائی مطلوب اور خطرناک انڈر ورلڈ ڈان ہے ۔ ساری دنیا میں اس کے خلاف انٹرپول کے ذریعہ وارنٹس موجود ہیں۔ امریکہ نے بھی اسے دہشت گرد قرار دیا ہے ۔ ہندوستان میں بے شمار مقدمات میں وہ پولیس اور نفاذ قانون کی ایجنسیوں کو مطلوب ہے ۔ ایسے میں اگر وہ ملک کے کسی سیاستدان یا کسی ریاست کے وزیر سے رابطہ رکھتا ہے یا اس کے نمائندے فون کالس کے ذریعہ بات چیت کرتے ہیں تو یہ انتہائی سنگین صورتحال ہے اور اس کی جامع تحقیقات ہونی چاہئیں۔ فون کالس میں کیا بات چیت ہوئی ہے اور کیا معاملتیں تھیں جن پر تبادلہ خیال ہوا ہو ان کو سامنے لانا ضروری ہے ۔ جس طرح بی جے پی تردید کرتی آئی ہے کہ ایسے کوئی فون کالس نہیں آئے ہیں تو یہ بی جے پی کے کہنے سے کھڑسے کو کلین چٹ نہیں دی جاسکتی ۔ اس کیلئے تحقیقات کا طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے ۔ حالانکہ مرکز میں اور مہاراشٹرا میں دونوں ہی جگہ بی جے پی برسر اقتدار ہے لیکن غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیا جانا چاہئے اور جب تک غیر جانبدارانہ اور انتہائی موثر انداز میں تحقیقات نہیں کی جاتیں اس وقت تک نہ کھڑسے کو بے قصور قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ الزامات کی سنگینی سے انکار کیا جاسکتا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں اور خاص طور پر کانگریس کا بھی یہی اصرار ہے کہ صرف کھڑسے کا مہاراشٹرا کی کابینہ سے استعفی مسئلہ کا حل نہیں ہے اور اس سارے معاملہ کی تفصیلی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں ۔ صرف کرپشن کے الزامات پر کابینہ سے بیدخل کردینا کافی نہیںہوسکتا ۔
کھڑسے کے خلاف ہوسکتا ہے کہ ان کے اپنی ہی پارٹی کے سیاسی مخالفین نے انتقامی راستہ اختیار کیا ہو اور مستقبل میں درپیش ہونے والے امکانی خطرات کو ختم کرنے کی کوشش کی ہو لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بات صرف اتنی ہی نہیں ہے ۔ اصل بات داود ابراہیم کے فون کالس کی ہے اور اس مسئلہ پر حقیقت کو سامنے لانے کی ضرورت ہے ۔ داود کو ئی چھوٹا موٹا مجرم نہیں ہے جس سے کسی سیاستدان اور خاص طور پر ریاست کے وزیر مال کی بات چیت کو اہمیت دینے سے گریز کیا جائے ۔ خاص طور پر اس صورتحال میں بھی مرکز میں بھی بی جے پی کی ہی حکومت ہے اور مہاراشٹرا میں بھی بی جے پی برسر اقتدار ہے ۔ ایسے میں کیا کوئی معاملت یا مفاہمت تو نہیں ہو رہی تھی ؟ ۔ یہ ایسا سوال ہے جس کی مکمل غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعہ ہی جواب تلاش کیا جاسکتا ہے اور ایسا کرنا حکومت مہاراشٹرا اور مرکزی حکومت دونوں کی ذمہ داری بنتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT