Thursday , June 29 2017
Home / سیاسیات / مہاراشٹرا حکومت کو تائید عارضی ‘ چیف منسٹر کا مستقبل غیر یقینی

مہاراشٹرا حکومت کو تائید عارضی ‘ چیف منسٹر کا مستقبل غیر یقینی

فرنویس ممبئی کی گلیوں میں ووٹوں کی بھیک مانگنے پر مجبور ۔ شیوسینا ترجمان سامنا کا اداریہ
ممبئی 20 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) شیوسینا نے آج کہا کہ مہاراشٹرا میں بی جے پی زیر قیادت حکومت کو اس کی تائید عارضی ہے اور چیف منسٹر دیویندر فرنویس کا مستقبل ہنوز غیر یقینی ہے ۔ چیف منسٹر یہ تنقید کل ہونے والے بلدی انتخابات سے ایک دن پہلے کی گئی ہے جس کی انتخابی مہم کے دوران حلیف جماعتوں نے ایک دوسرے پر سخت تنقیدیں کی ہیں۔ پارٹی کے ترجمان سامنا کے اداریہ میں تحریر کیا گیا ہے کہ چیف منسٹر ہر روز لوگوں کو ممبئی کے تعلق سے تیقن دے رہے ہیں جبکہ خود ان کی کرسی شیوسینا کی تائید پر منحصر ہے ۔ ان کا مستقبل ہنوز غیر یقنی ہے اس کے باوجود وہ ممبئی کے مستقبل کو بدلنے کی بات کر رہے ہیں۔ انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ شیوسینا نے مہاراشٹرا کو مستحکم رکھنے کیلئے انہیں عارضی تائید فراہم کی ہے ۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ چیف منسٹر کو ممبئی کی گلیوں میں ووٹوں کی بھیک مانگنے پر مجبور ہونا پڑا ہے اور یہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی انتخابات میں شکست کھاچکی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اگر فرنویس حکومت کے قیام کے ڈھائی سال میں کوئی ترقیاتی کام کئے جاتے تو پھر چیف منسٹر کو ووٹوں کی بھیک مانگنے جانا نہیں پڑتا ۔ چیف منسٹر بدعنوان افراد کے مفادات کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ اس صورت میں خود ان کے بدعنوان کابینی رفقا کو خبردار کیا جانا چاہئے کیونکہ وہ ان کے خلاف بے قابو انداز میں کارروائی کرسکتے ہیں۔ اس دوران یوا سینا کے سربراہ آدتیہ ٹھاکرے نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک مخصوص پارٹی کے کچھ امیدوار فرضی ایگزٹ پولس کے ذریعہ گمراہ کن مہم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کیلئے سوشیل میڈیا کو استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے ٹوئیٹ کیا کہ یہ مایوسی میں کی جانے والی شرمناک کوششیں ہیں۔ انہیں امید ہے کہ الیکشن کمیشن فرضی ایگزٹ پولس کے ذریعہ جھوٹ پھیلانے والے امیدواروں کے خلاف کارروائی کریگا ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ امیدوار اس حد تک گرگئے ہیں کہ انہوں نے ایک رکن پارلیمنٹ کسی دوسرے ایگزٹ پول کیلئے فرضی لیٹرہیڈ بھی تیار کرلیا ہے اور ان کے دستخط بھی استعمال کئے جا رہے ہیں۔ اس طرح کے جملے انتہائی شرمناک ہیں۔ ممبئی اور نو دوسرے شہروں میں شدت کے ساتھ چلائی گئی انتخابی مہم کے دوران شیوسینا ۔ بی جے پی میں اختلافات پوری شدت کے ساتھ منظر عام پر آگئے تھے جس کے نتیجہ میں فرنویس حکومت کے استحکام پر سوال پیدا ہوگئے ہیں۔ مہاراشٹرا میں ان بلدی انتخابات کو منی اسمبلی انتخابات قرار دیا جا رہا ہے جس میں 1,94 کروڑ رائے دہندے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرینگے اور 10 شہروں کے بلدی کارپوریشن کیلئے ووٹ ڈالیں گے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT