Friday , July 28 2017
Home / ہندوستان / مہاراشٹرا میں اب سماجی بائیکاٹ جرم

مہاراشٹرا میں اب سماجی بائیکاٹ جرم

ممبئی 13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ذات پات والی پنچایتوں کی جانب سے سماجی بائیکاٹ کرنے کی ہدایت قابل سزا جرم بن چکی ہے جس میں 7 سال تک جیل اور جرمانے کی گنجائش رکھی گئی ہے جسے 5 لاکھ روپئے تک بڑھایا جاسکتا ہے، مہاراشٹرا میں یہ اقدام ملک میں اپنی نوعیت کا منفرد قانون ہے۔ ایڈیشنل چیف سکریٹری (داخلہ) سدھیر شریواستو نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ نیا قانون گزشتہ ماہ مہاراشٹرا انسداد سماجی بائیکاٹ ایکٹ 2015 کو صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کی منظوری کے بعد لاگو کیا گیا ہے اور اسے اسٹیٹ گزٹ میں 3 جولائی کو شائع کیا گیا۔ اِس قانون کے تحت ماورائے قانون ادارہ جیسے کاسٹ اور کمیونٹی کونسلس کے ارکان سماجی بائیکاٹ کے احکام جاری کرتے ہیں جو 7 سال تک قید اور / یا پانچ لاکھ روپئے تک جرمانے کی سزا کے مستوجب ہوں گے۔ یہ بل ریاستی مقننہ کی جانب سے 13 اپریل 2016 کو منظور کرتے ہوئے صدارتی اجازت کے لئے مرکز کو بھیجا گیا تھا۔ عاجلانہ انصاف کو یقینی بنانے کے لئے یہ قانون چارج شیٹ داخل کرنے کی تاریخ سے اندرون چھ ماہ ٹرائل کے اختتام کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ اس ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی آرگنائزیشن جو ذات پات کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرے یا فتوے جاری کرے، اُنھیں بھلے ہی درج رجسٹر نہ ہوں، کاسٹ پنچایت کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اِس قانون کی گنجائشوں میں اگر کوئی کاسٹ کونسل کوئی افراد پر مالی جرمانے عائد کرے تو متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی بھی شامل ہے۔ سماجی بائیکاٹ کے شکایات کا جائزہ لینے کیلئے ایک عہدیدار کو مقرر کیا جائے گا۔ سماجی بائیکاٹ کا مطلب کسی شخص کو سماجی و مذہبی پروگراموں میں حصہ لینے سے روکنا اور عام ادارے جیسے اسکول سے دور رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔

TOPPOPULARRECENT