Wednesday , August 23 2017
Home / سیاسیات / مہاراشٹرا میں اقتدار کے بیجا استعمال کی بدترین مثال

مہاراشٹرا میں اقتدار کے بیجا استعمال کی بدترین مثال

این سی پی لیڈر سمیر بھوجبل کی گرفتاری پر پارٹی سربراہ شرد پوار کا ردعمل
ممبئی۔ 2 فروری (سیاست ڈاٹ کام) منی لانڈرنگ کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے سابق ایم پی اور این سی پی لیڈر سمیر بھوجبل کی گرفتاری کے ایک دن بعد پارٹی سربراہ شرد پوار نے آج کہا ہے کہ گزشتہ 40 سال کے دوران اقتدار کے اندھادھند بے جا استعمال کا واقعہ انہوں نے کبھی نہیں دیکھا ہے۔ مسٹر شرد پوار نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کانگریس اور این سی پی کے علاوہ دیگر حکومتوں کو بھی قریب سے دیکھا ہے اور میں نے 1995ء میں شیوسینا۔ بی جے پی حکومت کا مشاہدہ کیا ہے لیکن جمہوریت میں گزشتہ 40 سال کے دوران پہلی مرتبہ اقتدار کے بے جا استعمال کی بدترین مثال دیکھی ہے۔ واضح رہے کہ این سی پی لیڈر چھگن بھوجبل کے بھتیجے سمیر بھوجبل سے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کل شام 6 گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کے بعد گرفتار کرلیا تھا جن پر تحقیقات کیلئے تعاون نہ کرنے کا الزام ہے، تاہم شرد پوار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سمیر بھوجبل کو تحقیقات میں تعاون اور منسوبہ الزامات سے بری ہونا چاہئے۔ مہاراشٹرا کے مردِ آہن نے کہا کہ احتجاج کیلئے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ریاستی عوام کو درپیش کئی ایک سُلگتے ہوئے مسائل ہیں جس پر فی الفور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 75 سالہ سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ مرکز میں انہوں نے کئی سال کام کئے ہیں جہاں پر فیصلے وزارتی گروپ کرتے ہیں لیکن اب تو فردِ واحد فیصلہ کرنا لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حیرت انگیز امر ہے کہ تین مرکزی ادارے (ایجنسیاں) صرف ایک الزام کی تحقیقات کررہے ہیں جس کا مطلب صاف ہے کہ اس وقت تک پوچھ تاچھ کی جائے گی تاوقتیکہ انہیں مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوجائیں اور سیاسی مقاصد کیلئے صرف ایک خاندان کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مسٹر شرد پوار نے کہا کہ اگر کوئی ہمارے خلاف اقتدار کا بیجا استعمال کرتا ہے تو ہم اس کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں جس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے لیکن ہم اس طرح کی انتقامی کارروائیوں سے خوف زدہ نہیں ہوں گے اور عوام کے سامنے اس طرح کے مسائل کو اٹھاتے رہیں گے۔ واضح رہے کہ ایک انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کل مہاراشٹرا کے سابق وزیر چھگن بھوجبل، ان کے فرزند پنکج اور بھتیجے سمیر کی قیام گاہوں اور دفاتر کی تلاشی لی گئی جبکہ بامبے ہائیکورٹ نے 28 جنوری کو اینٹی کرپشن بیورو اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے کیس کی تحقیقات میں پیشرفت رپورٹ طلب کی تھی جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے اور 280 کروڑ روپئے مالیتی جائیدادیں قرق کرلینے کے احکامات بھی جاری کئے ہیں۔ قبل ازیں ممبئی پولیس نے مہاراشٹرا اونرشپ فلیٹس ایکٹ کے تحت پنکج اور سمیر کے خلاف دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش اور اعتماد شکنی کے الزام میں ایف آئی آر درج کیا تھا۔

روہت کی موت ، ذمہ دار وزیر کیخلاف کارروائی ضروری : شرد پوار
ممبئی۔ 2 فروری (سیاست ڈاٹ کام) حیدرآباد یونیورسٹی کے طالب علم روہت ویمولہ کی خودکشی کے پس منظر میں این سی پی سربراہ شرد پوار نے اُس ذمہ دار وزیر کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیا جنہوں نے حکام کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند دن سے این سی پی، طالب علم کی موت کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔ ان کا یہ ایقان ہے کہ مرکزی وزیر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے، جنہوں نے حکام کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے طالب علم کے خلاف کارروائی کیلئے دباؤ ڈالا۔ یونیورسٹی کیمپس میں روہت کی 17 جنوری کو خودکشی کے بعد سے احتجاج جاری ہے۔
مرکزی حکومت کے واضح اقدامات تک کوئی پیشرفت نہیں : محبوبہ مفتی

گورنر سے ملاقات میں قطعی موقف ۔ بی جے پی کی مسائل حل کرنے 10 دن مہلت طلبی
جموں 2 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) جموںو کشمیر میں سیاسی غیر یقینی کیفیت ایسا لگتا ہے کہ طوالت اختیار کریگی کیونکہ پی ڈی پی نے آج سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک مرکزی حکومت اعتماد سازی کے واضح اور قطعی اقدامات نہیں کرتی ‘ یکا و تنہا کئے جانے کی اندیشوں کو دور کرکے ریاست کے مسائل کے دیرپا حل کیلئے کام نہیں کیا جاتا اس وقت تک بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی کیلئے کوئی پیشرفت نہیں ہوسکتی ۔ پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے ‘ گورنر مسٹر این این ووہرہ کی جانب سے طلب کئے جانے پر ان سے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ مرکزی حکومت ریاست کی سیاسی غیر یقینی کیفیت ‘ معاشی ابتری ‘ ترقیاتی خسارہ اور غیر تکمیلہ وعدوں کو پورا کرنے کیلئے اقدامات کرے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ہی وہ بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے کیلئے پیشرفت کرسکتی ہیں۔ این این ووہرہ نے ریاست میں ایک ماہ سے جاری تعطل کو ختم کرنے کیلئے مشاورت کا آعاز کیا تھا ۔ انہوں نے بی جے پی قائدین بشمول سابق ڈپٹی چیف منسٹر نرمل سنگھ کو بھی طلب کیا تھا ۔ نرمل سنگھ نے گورنر سے کہا کہ ان کی پارٹی کوئی بھی فیصلہ اسی وقت کریگی جب پی ڈی پی اپنے قائد مقننہ کا انتخاب کریگی اور اس سے گورنر کو مطلع کیا جائیگا ۔ بی جے پی نے گورنر سے کہا کہ پی ڈی پی کے ساتھ جو کچھ بھی تنازعات ہیں انہیں حل کرنے 10 دن کا وقت طلب کیا ہے ۔ محبوبہ مفتی نے واضح کیا کہ مرکزی حکومت کو ایسا ماحول تیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے اعتماد بحال ہو ۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا ہم پیشرفت نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاست میں ایک حکومت تشکیل پانی ہے تو مرکزی حکومت کو واضح اور قطعی اقدامات کرنے ہونگے ۔ ریاست کے مسائل کا دیرپا حل دریافت کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT