Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / مہاراشٹرا میں مقبوضہ اوقافی جائیدادوں کی بازیابی کیلئے اقدامات

مہاراشٹرا میں مقبوضہ اوقافی جائیدادوں کی بازیابی کیلئے اقدامات

علاقہ مراہٹواڑہ میں 60فیصد وقف املاک پر قبضوں کا انکشاف
ممبئی۔/5مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) مہاراشٹرا کے محکمہ مالگذاری ( ریونیو ) نے یہ ہدایت دی ہے کہ تمام غیر منقولہ اوقافی جائیدادوں جو کہ غیر قانونی طریقہ پر منتقل، فروخت یا لیز پر دی گئی ہیں دوبارہ حاصل کرتے ہوئے وقف املاک کے طور پر از سر نو رجسٹرڈ کریں۔ اس خصوص میں جاری کردہ ایک سرکاری قرارداد میں بتایا گیا ہے کہ تمام مقبوضہ اوقافی جائیدادوں جو کہ غیر قانونی طریقہ پر فروخت یا لیز پر دی گئی ہیں وقف جائیداد کے طور پر یا اوقافی اداروں کے نام پر ازسرنو رجسٹرڈ کروائی جائیں۔ ریاستی حکومت کا یہ اقدام اکٹوبر 2007 میں تقرر کردہ ATAK شیخ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر کیا گیا جس نے یہ نشاندہی کی ہے کہ بیشتر اوقافی جائیدادیں غیر قانونی طریقہ سے فروخت یا لیز پر دی گئی ہیں۔ مہاراشٹرا اسٹیٹ وقف بورڈ کے یہاں دستیاب آن لائن ڈاٹا کے مطابق ریاست بھر میں23,121,10 ہیکٹر پر محیط 23566 درج الاوقاف جائیدادیں ہیں جس میں سب سے زیادہ 15,877 وقف جائیدادیں موازی 27,121,10 ہیکٹر اورنگ آباد میں واقع ہے۔ وقف بورڈ کے بموجب علاقہ مراہٹواڑہ میں 60 فیصد اوقافی جائیدادیں زیر قبضہ ہیں۔ بورڈ کے چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے 1088 مقبوضہ اراضیات کے معاملات میں احکامات جاری کئے ہیں جس میں 30 جون 2007 تک صرف 21احکامات پر تعمیل کی گئی۔ علاوہ ازیں250 کیس زیر سماعت ہیں اور 483 احکامات کی تعمیل کیلئے سب ڈیویژنل مجسٹریٹ کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔ وقف بورڈ کے ڈاٹا ( اعداد و شمار ) کے مطابق ممبئی اور تھانے ضلع میں 1,571 وقف جائیدادیں چیاریٹی کمیشن اور 351 اوقافی املاک سروے کمیشن کے دفتر میں درج ہیں۔ باقیماندہ ریاست میں اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات اس طرح ہیں: پونے میں 2,728 جائیدادیں محیط علاقہ 3,724,55 ہیکٹر۔ ناگپور میں 470جائیدادیں محیط علاقہ 370425 ہیکٹر۔ کونکن علاقہ میں 1724 جائیدادیں موازی 2339 ہیکٹر ناسک میں 1,455 جائیدادیں اور محیط علاقہ 3,340 ہیکٹر اور امراوتی ڈیویژن میں 1,310 جائیدادیں موازی 1102 ہیکٹر ہے۔ سنٹرل وقف ایکٹ 1955 کے مطابق تمام جائیدادوں بشمول مساجد، درگاہ، قبرستان، یتیم خانہ اور دیگر املاک کو درج الاوقاف قرار دیا گیا ہے جس کی دیکھ بھال کے لئے متولی یا انتظامی کمیٹی کے تقرر کی قانونی گنجائش رکھی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT