Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / مہاراشٹرا کا رامکند کنٹہ خشک ، ڈبکی کے عقیدت مندوں میں مایوسی

مہاراشٹرا کا رامکند کنٹہ خشک ، ڈبکی کے عقیدت مندوں میں مایوسی

نوجوانوں اور بچوں کے لیے کھیل کود کے میدان میں تبدیل ، عوامی ، انتظامی و سرکاری سطح سے اظہار افسوس
حیدرآباد۔ 8اپریل(سیاست نیوز) ریاست مہاراشٹرا میں ہندوؤ ں کیلئے مقدس سمجھا جانے والا رامکند کنٹہ 130برس میں پہلی مرتبہ خشک سالی کا شکار ہوگیا جس کے سبب گڈی پڑوا کے موقعہ پر گوداوری ندی کے اس پانی میں غوطہ زن ہونے والوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں جاری خشک سالی کی صورتحال کے سبب ہندو سال نو کے موقعہ پر اس کنٹہ میں غوطہ لگانے والوں کو شدید مایوسی کا سامنا رہا۔ ناسک میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کے بموجب اس کنٹہ پر 130برسوں میں پہلی مرتبہ خشک سالی کا اثر ہوا ہے جس سے ریاست کی خشک سالی کی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کنٹہ فی الحال نوجوانوں اور بچوں کیلئے کھیل کے میدان میں تبدیل ہو چکا ہے اور جولائی کے اواخر تک اس کنٹہ کی ہئیت میں تبدیلی کے کوئی آثار نہیں پائے جاتے۔رامکند کنٹہ کو ہندو مت کے ماننے والے مقدس تصور کرتے ہیں اور نئے سال یعنی اگادی کے موقعہ پر مقدس غوطہ لگایا جاتا ہے۔ پانی کی قلت کے سبب خشک ہوئے اس کنٹہ کی صورتحال پر نہ صرف عوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے بلکہ انتظامی و سرکاری سظح پر بھی اس کنٹہ کی موجودہ حالت پر افسوس کیا جا رہا ہے۔ خشک سالی کے سبب ملک کی بیشتر ریاستوں میں عوام کو شدید پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کئی مواضعات میں جانوروں کیلئے بھی چارہ و پانی دستیاب نہیں ہے۔ مہارشٹرا کے کئی علاقوں میں کسان پانی کی قلت سے خودکشی کر رہے ہیں اور جانور پانی کی تلاش میں بھٹکتے ہوئے ریاست کی سرحدیں عبور کرنے لگے ہیں۔ حکمت مہاراشٹرا کی جانب سے خشک سالی سے نمٹنے کے اقدامات کو ناکافی قرار دیا جا رہا ہے اور حکومت کا یہ ادعا ہیکہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت جو کچھ کر سکتی ہے کر رہی ہے۔ ناکافی بارش کے سبب پیدا شدہ اس صورتحال کیلئے حکومت ماحولیات کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اپنا دامن بچانے کی کوشش میں مصروف ہے۔جبکہ عوام نقل مکانی کے متعلق غور کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT