Thursday , August 24 2017
Home / سیاسیات / مہاراشٹرا کی تقسیم کا مطالبہ کرنے والے غدار ہیں: شیوسینا

مہاراشٹرا کی تقسیم کا مطالبہ کرنے والے غدار ہیں: شیوسینا

ایڈوکیٹ جنرل کے ریمارکس پر ا سمبلی اور کونسل میں اپوزیشن کا احتجاج

ممبئی ۔ 21 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) علحدہریاست مرہٹواڑہ کی تشکیل کے حق میں مہاراشٹرا کے ایڈوکیٹ جنرل شری ہری انیی کے ریمارکس پر آج قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں زبردست ہنگامہ برپا ہوگیا جبکہ اپوزیشن کانگریس نے ایڈوکیٹ جنرل کو عہدہ سے ہٹا دینے کا مطالبہ کیا ہے اور حکمراں اتحاد کی حلیف جماعت شیوسینا نے ان کے تبصرہ پر شدید اعتراض کیا۔ جالنہ میں کل خودکشی کرنے والے کسانوں کے خاندانوں میں امداد کی تقسیم کے موقع پر شری ہری انئیے نے کہا تھا کہ ودربھا سے زیادہ مرہٹواڑہ شدید ناانصافی کا شکار ہوا ہے۔ جسے مہاراشٹرا سے علحدہ کردینا چاہئے۔ انہوں نے مرہٹواڑہ کے عوام سے یہ اپیل بھی کی۔ علحدہ ریاست کی تشکیل کیلئے احتجاجی تحریک شروع کردیں۔ گزشتہ سال ڈسمبر میں بھی انئیے (Aney)نے علحدہ ریاست ودربھا کی تشکیل کے مطالبہ پر ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔ سینئر اپوزیشن لیڈر نے آج قاعدہ 23 کے تحت پرنسپال سکریٹری اسمبلی اننت کالے کو ایک تجویز پیش کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل کی برطرفی کا مطالبہ کیا جس پر سابق چیف منسٹر پرتھوی راج چوہان (کانگریس) دلیپ والسے پاٹل (این سی پی) اور سماج وادی پارٹی لیڈر ابواعظمی نے دستخط ثبت کئے ہیں۔ اس موقع پر دلیپ پاٹل نے کہا کہ  غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل سے دستور کے دفعہ 165 کی خلاف ورزی کی ہے۔علحدہ ریاست مراہٹواڑہ کے مطالبہ کی گونج آج ایوان اسمبلی میں سنائی دی جبکہ کانگریس۔این سی پی اور شیوسینا نے ایڈوکیٹ جنرل سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے اح تجاجی نعرے بلند کئے جس کے باعث ایوان کی کارروائی تین مرتبہ ملتوی کردی گئی ۔ بعد ازاں صورتحال بے قابو ہوجانے پر تمام دن کی کاررواء ملتوی کردینی پڑی ۔ قانون ساز کونسل میں بھی اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے حکومت سے یہ دریافت کیا کہ ایڈوکیٹ جنرل کے خلاف بھی بغاوت کے الزامات عائد کئے جائیں گے ؟ وزیر مال گزاری ایکناتھ کھاڈسے نے کہا کہ اس مسئلہ پر بحث کیلئے حکومت آمادہ ہے ۔ جس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل کے خیالات حکومت کا نقطہ نظر نہیں۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ سیاسی مقاصد ہے کیلئے ہنگامہ آرائی کی جارہی ہے۔ تاہم کرسی صدارت پر فائز مظفر حسین نے ایوان کی کارروائی ایک دن کیلئے ملتوی کا اعلان کردی۔اپوزیشن لیڈر دھننجے منڈے نے تحریک التواء پیش کرتے ہوئے چیف منسٹر دیویندر فڈنویس سے اس مسئلہ پر وضاحت کا مطالبہ کیا اور ایڈوکیٹ جنرل شری ہری انئیے سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ۔ ایڈوکیٹ جنرل انئیے (Aney) مہاراشٹرا کا اولین قرار دیتے ہوئے شویسینا ایم ایل اے پرتاپ سرنائک نے کہاکہ علحدہ ریاست کے مطالبہ سے ان شہیدوں کی توہین ہوئی ہے جنہوں نے متحدہ مہاراشٹرا کی جدوجہد میں اپنی جانیں نچھاور کردی۔ بعد ازاں شیوسینا نے احتجاجی مظآہرہ کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ مہاراشٹرا میں حکمراں اتحاد کی حلیف جماعت شیوسینا نے علحدہ ریاست مرہٹواڑہ کے جذبات بھڑکانے پر ایڈوکیٹ جنرل کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور یہ اعلان کیا کاہ کابینہ کے اجلاس اور اسمبلی کی تقاریب میں پارٹی کے افراد اس وقت تک شریک نہیں ہوں گے تاوقتیکہ غداری کے مرتکب ایڈوکیٹ جنرل کو برطرف نہیں کیا جاتا۔

TOPPOPULARRECENT