Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / مہا گٹھ بندھن :آر ایل ڈی کی شمولیت پر ایس پی اور کانگریس میں اختلاف

مہا گٹھ بندھن :آر ایل ڈی کی شمولیت پر ایس پی اور کانگریس میں اختلاف

لکھنو/نئی دہلی 19 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام )  اترپردیش میں عظیم تر اتحاد کی تشکیل کے مسئلہ پر سماج وادی پارٹی اور کانگریس میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں جبکہ دونوں جماعتوں نے راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کی شمولیت کے تعلق سے متضاد رائے کا اظہار کیا ہے ۔ سماج وادی پارٹی نے راشٹریہ لوک دل کے ساتھ کسی اتحاد کا امکان مسترد کردیا اور کہا کہ وہ صرف کانگریس کے ساتھ اتحاد کریگی ۔ سماجوادی پارٹی کے قومی نائب صدر کرن موئی نندا نے بتایا کہ ہم صرف کانگریس کے ساتھ اتحاد کرینگے ۔ ہم آر ایل ڈی سے کوئی اتحاد نہیں کر رہے ہیں۔   403 رکنی اسمبلی میں ہم زائد از 300 نشستوں سے مقابلہ کرینگے اور مابقی نشستیں کانگریس کیلئے چھوڑ دی جائیں گی ۔ امیدواروں کو قطعیت دئے جانے سے متعلق انہوں نے کہا کہ ایس پی نے پہلے اور دوسرے مرحلے کیلئے اپنے امیدواروں کو قطعیت دیدی ہے اور اب امیدواروں کو قطعیت دینے کا کام کانگریس کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے قومی صدر اکھیلیش یادو نشستوں کی تفصیلات کا اعلان کرینگے ۔ کہا گیا ہے کہ اکھیلیش یادو نے سماجوادی پارٹی کے سینئر قائدین کے ساتھ چھ گھنٹوں تک مشاورت کے بعد اتحاد اور نشستوں کے تعلق سے فیصلہ کیا ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ آر ایل ڈی زیادہ نشستوں کی طلبگار تھی اور اسے اتنی نشستیں قبول نہیں تھیں جتنی کی پیشکش ایس پی نے کی تھی ۔

نندا نے کہا کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد کے بعد ہم کو ریاستی اسمبلی میں قطعی اکثریت حاصل ہوجائیگی اور اکھیلیش یادو دوبارہ چیف منسٹر بنیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی بہت جلد اپنے انتخابی منشور کی اجرائی عمل میں لائیگی ۔کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے رات دیر گئے دہلی میں میڈیا کو بتایا کہ اتحاد کیلئے کوششیں جاری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں جب تک تمام امور طئے نہیں پاتے وہ قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ سرجے والا نے یہ بات اس وقت کہی جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آر ایل ڈی کو مہا گٹھ بندھن میں شامل نہیں کیا جارہا ہے ۔  ذرائع کے بموجب آر ایل ڈی کے ساتھ بات چیت اس لئے ناکام ہوگئی کیونکہ وہ پارٹی زیادہ نشستوں کی طلبگار تھی اور سماجوادی پارٹی اتنی نشستیں چھوڑنے کیلئے تیار نہیں تھی ۔ آر ایل ڈی کے ترجمان انیل دوبے نے بعد ازاں کہا کہ ہم ہماری پسند کی نشستوں کے طلبگار تھے لیکن اس پر اتفاق نہیں ہوسکا ۔ انہوں نے تاہم مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا ۔ اس دوران سماجوادی پارٹی صدر اکھیلیش یادو نے نو ارکان کونسل اور یوتھ ونگ قائدین کے پارٹی کے اخراج کے احکام واپس لے لئے ہیں ۔ ان کو شیوپال یادو نے ڈسپلن شکنی کے الزام میں پارٹی سے خارج کردیا تھا ۔
ان قائدین کی پارٹی میں واپسی تقریبا یقینی تھی تاہم اس سلسلہ میں کل رات دیر گئے احکام جاری کئے گئے ۔ اکھیلیش یادو نے گیتا سنگھ نامی ایم ایل سی کو پارٹی کی ریاستی مہیلا ونگ کی صدر نامزد کیا ہے اور مابقی یوتھ کانگریس قائدین کو ان کے سابقہ عہدوں پر بحال بھی کردیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT