Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مہدی نواز جنگ کینسر ہاسپٹل میں آندھرائی لابی کی بدعنوانیاں

مہدی نواز جنگ کینسر ہاسپٹل میں آندھرائی لابی کی بدعنوانیاں

ڈپارٹمنٹ آف ریڈیوتھراپی کے پانچوں یونٹس پر قبضہ
تلنگانہ کی صرف ایک اسسٹنٹ پروفیسر ، اسے بھی حق سے محروم کرنے کی سازش پر عمل
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اکٹوبر : ( نمائندہ خصوصی ) : متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم کے باوجود علحدہ ریاست تلنگانہ میں آندھرائی باشندے اپنی مکاری و عیاری کے ذریعہ تلنگانہ والوں کو ان کے حق سے محروم رکھنے میں غیر معمولی طور پر کامیاب ہورہے ہیں ۔ وہ بڑی ڈھٹائی سے تلنگانہ کے ماہرین یہاں تک کہ سرکاری عہدیداروں کا استحصال کرنے سے بھی گریز نہیں کررہے ہیں ۔ آندھرائی لابی کے سیاہ کرتوتوں اور سرکاری عہدوں کے ناجائز استعمال کی بدترین مثال مہدی نواز جنگ کینسر ہاسپٹل اینڈ ریجنل ریسرچ سنٹر ہے جہاں آندھرائی ڈاکٹر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تلنگانہ کے ڈاکٹروں کو دبا کر رکھے ہوئے ہیں ۔ انہیں ترقی و مراعات سے محروم رکھا جارہا ہے ۔ آندھرا والوں کی ان نازیبا حرکتوں کے باوجود تلنگانہ عوام کی بہبود کے نام پر اقتدار میں آئی ٹی آر ایس حکومت بھی خاموش ہے ہوسکتا ہے کہ اس کی یہ خاموشی مہدی نواز جنگ کینسر ہاسپٹل میں آندھرائی لابی کی حرکتوں سے عدم واقفیت کے باعث ہو ۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ حیدرآباد دکن کے قابل فرزند نواب مہدی نواز جنگ کی جانب سے 1955 میں قائم کردہ مہدی نواز جنگ کینسر ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سنٹر میں ریاست کی تقسیم کے باوجود آندھرائی لابی چھائی ہوئی ہے ۔ وہ جان بوجھ کر ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی واحد ، ہونہار ، انتہائی قابل ، سینئیر ترین ، وقت کی پابندی کرنے والی ایک اسسٹنٹ پروفیسر کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ کینسر کے مریضوں میں انتہائی مقبول اس خاتون ڈاکٹر کے ساتھ آندھرائی لابی معاندانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے ، یہاں تک آندھرائی ڈاکٹروں نے ایک منصوبہ بند انداز میں 2011 سے آروگیہ شری ترغیبات حاصل کرنے سے بھی روکے رکھا ۔ اس ضمن میں بتایا جاتا ہے کہ اس خاتون اسسٹنٹ پروفیسر کو ملنے والے لاکھوں روپئے آندھرائی لابی نے دبا لیے اور اس خوف سے کہ ان کی چوری پکڑی نہ جائے اور مہدی نواز جنگ کینسر ہاسپٹل کا یہ اسکینڈل منظر عام پر نہ آئے آندھرائی ڈاکٹرس تلنگانہ اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی اس خاتون ڈاکٹر کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں ۔ اس کے لیے وہ مکار انگریزوں کی لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر گامزن ہیں ۔ آندھرائی لابی کی مکاری کے بارے میں مہدی نواز جنگ کینسر ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سنٹر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے تلنگانہ کی ڈاکٹر کو پیچھے کرنے کے لیے انٹرنل اگزامنر ملاڈی وجئے کمار کی بجائے رام کرشنا مورتی کو رکھدیا اس طرح وہ تلبیس شخصی جیسے جرم کے مرتکب ہوئے اور جذبہ خدمت خلق سے سرشار خاتون ڈاکٹر کے مارکس کم کروائے ۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ آندھرا سے تعلق رکھنے والے تمام ڈاکٹرس کارپوریٹ ہاسپٹلوں میں بھی خدمات انجام دیتے ہیں جب کہ یہ خاتون ڈاکٹر صبح آٹھ بجے سے شام 6 بجے تک مریضوں کی مسلسل خدمت کرتی رہتی ہیں ۔ یہ خاتون ڈاکٹر ان کے علاقائی تعصب کا مسلسل نشانہ بن رہی ہیں ۔ حالانکہ اس خاتون ڈاکٹر کے ساتھ خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر سنجیوا کمار ریڈی ، ڈاکٹر آدی لکشمی اور ڈاکٹر بی نہرو کو آندھرا اور رائلسیما سے تعلق ہونے کے باعث بڑی اہمیت دی جارہی ہے ۔ ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک روا رکھا نہیں جاتا ۔ اس بارے میں ہاسپٹل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل یہ آندھرائی ڈاکٹرس ’’ چوراں چوراں مل کر گاؤں بانٹ لے ریں ‘‘ جیسے دکنی مہاورے پر عمل کرتے ہوئے تمام ترغیبات خود ہی حاصل کررہے ہیں ۔ آندھرائی لابی اس قدر ہوشیار ہے کہ کوئی بھی وزیر دواخانہ کا دورہ کرتا ہے تو اسے مختلف بہانوں سے گمراہ کیا جاتا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ کینسر اسپیشلسٹس کے جہاں داخلے ہوتے ہیں وہاں بھی وہ مقامی زمرہ میں آندھرائی ڈاکٹروں کی بھرتیوں کو یقینی بنا رہے ہیں ، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست کی تقسیم کے بعد بھی تلنگانہ پر آندھرائی باشندوں کی اجارہ داری کیوں برداشت کی جارہی ہے ۔ ایم این جے کینسر ہاسپٹل کے شعبہ ریڈیو تھراپی کے 5 یونٹس ہیں اصولاً تین یونٹس تلنگانہ کے لیے اور 2 یونٹس آندھرا کے لیے مختص رہنا چاہئے لیکن آندھرا والوں نے خود کو دھوکہ سے مقامی ظاہر کرتے ہوئے پانچوں یونٹس کو پر کرلیا ۔ ایسے میں حکومت تلنگانہ ، تلنگانہ کے ڈاکٹروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کرے ، اگر مہدی نواز جنگ کینسر ہاسپٹل میں آندھرائی لابی کے اسکینڈلس کی تحقیقات کی جائے تو پتہ چلے گا کہ وہاں کس طرح غیر مقامی ڈاکٹرس مقامی یعنی تلنگانہ کے ڈاکٹروں کی حق تلفی کررہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT