Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / مہلت میں توسیع کے بعد قطر نے جواب داخل کردیا

مہلت میں توسیع کے بعد قطر نے جواب داخل کردیا

وزیر خارجہ قطر شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کا مختصر دورۂ کویت اور عہدیداروں سے ملاقات
کویت سٹی۔3 جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) قطر نے آج سعودی عرب اور اُس کے حلیف ممالک کے مطالبات کی فہرست پر اپنا جواب داخل کردیاجبکہ مزید 48 گھنٹوں کی توسیع سعودی عرب اور اُس کے حلیف ممالک کی جانب سے قطر کو دی گئی تھی ۔ جواب کی تفصیلات فوری طورپر دستیاب نہیں ہوسکیں لیکن ایک خلیجی عہدیدار نے کہاکہ وزیر خارجہ قطر شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے اپنے مختصر دورۂ کویت کے موقع پر اپنا جواب حوالے کردیا ہے ۔ وہ اس بحران میں ثالث کا کردار ادا کررہے ہیں ۔ قبل ازیں عرب ملکوں نے خلیج میں پیدا شدہ سفارتی بحران کی یکسوئی کیلئے پیش کردہ مطالبات کی فہرست کا جواب دینے کیلئے قطر کو دی گئی مہلت میں آج توسیع دی اور کہا کہ کویت کے امیر نے اس تنازعہ کی یکسوئی کیلئے جاری اپنی مصالحتی مساعی کے ایک حصہ کے طورپر اس مہلت کی خواہش کی تھی ۔ 2022 ء کے فیفا ورلڈ کپ کے میزبان ملک قطر کے ساتھ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر نے 5جون کو اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے سعودی عرب سے متصلہ اس کی واحد زمینی سرحد کی ناکہ بندی کے علاوہ فضائی اور سمندری راستوں تک قطر کی رسائی کو روک دیا تھا ۔ ان ملکوں نے تنازعہ و تعطل کے خاتمہ کیلئے 22 جون کو اپنے 13 مطالبات پر مشتمل فہرست قطر کے حوالہ کرتے ہوئے تعمیل کیلئے 10 دن کی مہلت دی تھی جو آج ختم ہوچکی تھی ۔ عرب ملکوں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ان کے مطالبات پر قطر آج جواب دے سکتا ہے ۔ نئی مہلت منگل کی شب یا چہارشنبہ کی صبح ختم ہوجائے گی ۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’قطر کے جواب یا جائزہ لینے اور مطالبات پر اس کے ردعمل پر غور و خوض کے بعد چار عرب ممالک اپنے ردعمل کا اظہار کریں گے ‘‘ ۔ ان چار ملکوں نے شیعہ ملک ایران کے ساتھ قطر کے قریبی تعلقات پر گہری تشویش کے علاوہ دہشت گردی و انتہاپسندی کی تائید و مدد کا الزام عائد کرتے ہوئے قطر سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرلیا تھا ۔ تاہم قطر نے اگرچہ عسکریت پسندوں کی مدد کے الزام کو مسترد کردیا تھا لیکن ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کی مدافعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس ملک کے ساتھ اس کے متعدد قدرتی گیس کے چشمے متصل ہیں۔ قطر کے وزیر دفاع خالد بن محمد العطیہ نے اسکائی نیوز سے کہا کہ ’’قطر ایسا کوئی نرم ملک نہیں ہے کہ کوئی اس کو لقمہ تر سمجھ کر نگل جائے ۔ ہم (مقابلہ کیلئے ) تیار ہیں۔ ہم اپنے ملک کی دفاع کے لئے تیار ہیں۔ میں توقع کرتا ہوں کہ ہم ایک ایسے مرحلے پر نہیں پہونچیں گے جہاں فوجی مداخلت کی ضرورت ہوگی ‘‘ ۔ عرب ممالک کے مطالبات کی پیشکشی کے بعد قطر کے اسٹاک مارکٹ میں 3 فیصد انحطاط دیکھا گیا لیکن بعد میں اس پر کسی قدر قابو پالیا گیا اوریہ مارکٹ 2.3 فیصد گراوٹ کے ساتھ 8,822 پر بند ہوا ۔ چار عرب ممالک کی جانب سے سفارتی تعلقات منقطع کئے جانے کے بعد قطر کے سوپر مارکٹس میں افراتفری اور سنسنی دیکھی گئی تھی لیکن بعد میں معمول کے حالات بحال ہوگئے ۔ قطر کے شہری اب اس انتظار میں ہیں کہ اس بحران پر کس طرح قابو پایا جائے گا ۔ قطر کے شہریوں نے حکومت کی صلاحیتوں پر بھرپور بھروسہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بخوبی جانتی ہے کہ حالات کیا ہیں اور ان سے کس طرح نمٹا جاسکتا ہے ۔ قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے اتوار کو روم میں اپنے ملک کے اٹل موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ غیرضروری شرائط قبول کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اُن کا ملک اس ضمن میں ہرقسم کے نتائج اور عواقب کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہے ۔

TOPPOPULARRECENT