Saturday , June 24 2017
Home / مضامین / مہلت کی مدت قریب الختم

مہلت کی مدت قریب الختم

 

کے این واصف
سعودی حکومت کی جانب سے غیر قانونی مقیم تارکین وطن کو اپنے وطن لوٹ جانے کیلئے دی گئی مہلت کے ختم ہونے میں دم تحریر سے صرف تین ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔ اب بھی سفارت خاتون اور قونصلیٹ پر واپس جانے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ جہاں تک ہندوستانی باشندوںکا تعلق ہے ، اب تک سفارت خانہ ہند نے تقریباً 26000 ایمرجنسی سرٹیفکٹس جاری کئے ہیں ۔ سفارت حانہ ہند ریاض نے تازہ ترین صورتحال سے واقف کرانے کیلئے ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں سفیر ہند برائے سعودی عرب احمد جاوید نے بتایا کہ ایمرجنسی سرٹیفکٹ کیلئے جملہ 26713 درخواستیں وصول ہوئی تھیں، جن میں سے 25894 کو ایمرجنسی سرٹیفکٹ جاری کردیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ وطن واپسی کیلئے سفارت خانے سے رجوع ہونے والوں میں 67 فیصد ھروب کے کیسس تھے ۔ (ھروب کا مطلب فرار ہوجانا یعنی ایسے افراد جواپنے کفیل سے فرار ہوکر کہیں اور کام کرتے ہوئے مملکت میں مقیم ہیں اور کفیل نے ان کے فرار کی رپورٹ پولیس میں درج کروادی ہے) سفیر ہند نے بتایا کہ ایمبسی کے خصوصی عملہ نے ان ھروب کے کیسس کو نمٹانے میں کافی کوششیں کی ۔ انہوں نے بتایا کہ سفارت خانے میں قائم کنٹرول روم 24X7 کی بنیاد پر کام کرتا ہے اور مملکت کے کئی شہروں میں امدادی سنٹرز قائم کئے گئے ہیں تاکہ دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے ہندوستانی باشندے اپنے کام آسانی سے مکمل کراسکیں۔

احمد جاوید نے ہندوستانی باشندوں سے کہا کہ وہ اپنے واپسی کے سفر کے دستاویزات حاصل کرنے کے بعد جلد از جلد وطن لوٹ جائیں کیونکہ ایسے افراد کیلئے واپسی میں تاخیر کرتے ہوئے مزید یہاں ٹھہرنا اور کام کرنا وغیرہ غیر قانونی ہے۔ سعودی سیکوریٹی نے اس سلسلہ میں تفتیشی کارروائی بھی شروع کردی ہے۔ جوازات (وزارت داخلہ) کے دفتر اور ترصیل میں ہندوستانیوں کی کارروائی نمٹانے کیلئے خصوصی کاؤنٹر قائم کئے ہیں جس کیلئے سفیر ہند نے اس خصوصی مراعات اور عمومی طور پر تعاون کیلئے سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا ۔ ایمبسی میں پریس کانفرنس کے موقع پر نائب سفیر ہند ہیمنت کوٹلوال اور کمیونٹی ویلفیر کے ڈائرکٹر انیل نوٹیال بھی موجود تھے ۔ دریں اثناء جوازات کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ میں غیر قانونی تارکین کو دی گئی مہلت سے تین لاکھ 45 ہزار افراد نے استفادہ کیا ۔ جوازات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ وزیر داخلہ کی خصوصی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے محکمہ نے غیر قانونی تارکین کیلئے خصوصی انتظامات کئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس مہلت سے استفادہ کرسکیں۔ وزیر داخلہ کی خصوصی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مملکت کے تمام شہروں میں محکمہ جوازات کے ذمہ داروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین جو مہلت کے دوران وطن جانے کے خواہشمند ہیں، انہیں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے ۔ اس حوالے سے جوازات کے تمام ذیلی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مملکت کے تمام شہروں میں جہاں بھی غیر قانونی تارکین مقیم ہیں ، انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرتے ہوئے ان کے فائنل ایگزٹ کے معاملے کو جلد از جلد نمٹائیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ جوازات کے تمام ریجنل اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تارکین وطن کو کسی قسم کی مشکل میں مبتلا نہ کریں اور جس شہر کے ادارے سے غیر ملکی افراد رجوع کریں ۔ ان کے معاملے کو فوری طور پر نمٹاکر ان کا فائنل ایگزٹ (خروج نہائی)
اسٹامپ کریں تاکہ مہلت کے دوران زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگ متفیض ہوسکیں۔ مہلت کے دوران جوازات کے تمام ادارے ماہ رمضان المبارک میں روزانہ دو وقت صبح اور شام کو کام کر رہے ہیں کیونکہ 90 روزہ مہلت کے دن تیزی سے ختم ہورہے ہیں۔ مقررہ 3 ماہ کی مہلت 25 جون کو ختم ہوجائے گی جس کے بعد غیر قانونی تارکین کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کو دی جانے والی 90 روزہ مہلت ختم ہونے میں صرف تین ہفتے باقی رہ گئے ہیں جس کے بعد وہ افراد جو عمرہ ، حج ، وزٹ یا ٹرانزٹ ویزے پرآکر مملکت میں غیر قانونی طور پر مقیم ہوگئے ہوں ، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ غیر قانونی تارکین کو روزگار اور رہائش فراہم کرنے والے بھی قانون شکنی کے مرتکب ہوں گے ۔

غیر قانونی مقیم تارکین کو دی گئی مہلت میں انہیں بہت ساری سہولتیں بھی فراہم کی گئی ہیں جس میں ایک اہم سہولت یہاں سے جانے کے بعد فوری طور پر دوسرے ویزا پر سعودی عرب واپس آسکنے کی سہولت شامل ہے ۔ اکثر تارکین وطن کو وزارت محنت مملکت سعودی عرب کی جانب سے تارکین کو حاصل حقوق کا علم نہیں ہوتا جس سے وہ یہاں دھوکہ دہی اور استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ غیر ملکی کارکنوں سے استحصال سے بچنے کیلئے اب وزارت محنت و سماجی فروغ نے 9 زبانوں میں غیر ملکی کارکنان کے حقوق اور فرائض کا تعارف جاری کردیا ۔ غیر ملکی کارکن سعودی عربین ایرلائینز (السعودیہ) کی پرواوں سے سفر کے دوران اسکرین پر اپنی زبان میں اپنے حقوق و فرائض دیکھ سکتے ہے ں۔ اردو ، بنگالی ، ہندی ، انڈونیشی ، ملیالم ، مہری ، فلپائنی ، انگریزی اور عربی زبانوں میں حقوق اور فرائض کا تعارف دیا گیا ہے ۔ وزارت نے توجہ دلائی ہے کہ کارکن ملازمت کی بات چیت کے وقت معاہدے کی کاپی طلب کرے۔ ملازمت کے معاہدے میں تنخواہ اور کام کی واضح صراحت ہو ۔ یہی فیصلے کی بنیاد ہوگا ۔ ملازم کو مملکت لانے کے اخراجات ، اقامہ فیس اور کارکن کی وطن واپسی کے ٹکٹ کی رقم آجر (کفیل) کے ذمہ ہوگی ۔ وزارت نے ویڈیو جاری کی ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پاسپورٹ کارکن کے پاس رہے گا ۔ یہ اس کا حق ہے۔ ملازم اپنے آجر کے یہاں سے نقل کفالہ کی کارروائی کے بغیر کسی اور کے یہاں ملازمت کا مجاز نہیں ۔ اس کی خلاف ورزی جرم ہوگی ۔ یہاں برسرکار افراد اور خصوصاً نئے آنے والوں کو یہ ضرور پڑھنا چاہئے کہ وزارت محنت نے انہیں کیا کیا حقوق دے رکھے ہیں اور ان کے ذمہ فرائض کیا ہیں۔
سعودائزیشن
سعودی عرب میں کئی شاپنگ مالس اور بڑی بڑی سوپر اور ہائیپر مارکٹس قائم ہیں جن میں لاکھوں افراد روزگار سے لگے ہوئے ہیں، جن کی ا کثریت خارجی باشندوں کی ہے ۔ پچھلے کئی سال سے حکومت یکے بعد دیگر مختلف پیشوں کو مقامی افراد کیلئے مختص کئے جانے کا اعلان کرتی رہی ہے۔ اب وزارت محنت نے سعودی عرب کے تمام شاپنگ مالس کی سعودائزیشن کا فیصلہ کرلیا ہے جس کی وزیر محنت و سماجی فروغ نے منظوری دے دی ہے۔ اس کی تفصیلات کے مطابق وزارت محنت کے ترجمان نے بتایا کہ شاپنگ مالس کی سعودائزیشن کے فیصلے کا نقاد ہوچکا۔ وزارت محنت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام شاپنگ مالس میں غیر ملکیوں کو کسی بھی قسم کی ملازمت نہیں دی جاسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں سینکڑوں شاپنگ مالس ہیں۔ 2020 ء تک اندازہ ہے کہ شاپنگ مالس میں دو لاکھ سے 5 لاکھ تک اسامیاں پیدا ہوں گی ۔ شاپنگ مالس میں سیلزمین کی کم سے کم تنخواہ پانچ ہزار ریال ہوگی جبکہ سپروائزر کی ماہانہ تنخواہ 15 ہزار ریال تک متوقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے کے نفاذ کے فوری بعد 35 ہزار نوجوانوں کو شا پنگ مالس میں بھرتی کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ شاپنگ مالس میں زنانہ ملبوسات و اشیاء فروخت کرنے والی دکانوں میں سعودی خواتین کو بھرتی کیاجائے گا ۔ شاپنگ مالس کی سعودائزیشن کا بنیادی فیصلہ ہوچکا ہے۔ قبل ازیں شاپنگ مالس میں دکانوں کے مالکان کو مہلت دی گئی تھی جس کے دوران سعودی نوجوانوں کو شاپنگ مالس میں کام کرنے کیلئے تربیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے کی کامیابی کیلئے تاجروں کا تعاون ضروری ہے ۔ تاجر سعودی نوجوان کو مناسب تنخواہ اور ڈیوٹی اوقات میں رعایت دیں۔
بقالے شورومس وغیرہ کے اوقات کار طویل ہوتے ہیں ۔ حتیٰ کہ یہاں جمعہ کی عام تعطیل کے روز بھی کام کرنا ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ بقالوں اور شاپنگ مالس ، سوپر اور ہائپر مارکٹس و غیرہ میں سارے ملازمین غیر ملکی نظر آتے ہیں کیونکہ یہ بہت سخت قسم کی ڈیوٹی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی نوجوان اس شعبہ میں کام کرنے کی طرف راغب نہیں ہوتے لیکن وزارت محنت پوری کوشش کر رہی ہے کہ ملازمتوں کے اس شعبہ میں کسی طرح مقامی نوجوانوں کو روزگار سے لگایا جائے۔ وزارت محنت کے اہلکاروں نے شاپنگ مالس کے دورے بھی شروع کردیئے ہیںاور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شاپنگ مالس میں زیادہ سے زیادہ مقامی نوجوان بھرتی ہوں ۔ وزارت چاہتی ہے کہ صرف صاف صفائی کے کام کے سواء ساری آسامیوں پر سعودی باشندے مامور کئے جائیں لیکن یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ عملی طور پر وزارت کا یہ منصوبہ کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT