Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / مہلوک کشمیری نوجوانوں کے لواحقین کو معاوضہ کی ادائیگی پر تنازعہ

مہلوک کشمیری نوجوانوں کے لواحقین کو معاوضہ کی ادائیگی پر تنازعہ

چیف منسٹر کے اعلان پر حلیف بی جے پی کا اعتراض، اسمبلی میں اپوزیشن کا احتجاج
جموں۔16 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر اسمبلی میں آج اس وقت شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھے گئے جب اپوزیشن ارکان نے گزشتہ سال گرما میں بدامنی اور تشدد کی لہر کے دوران ہلاک افراد کے لواحقین کو معاوضہ کی ادائیگی کے مسئلہ پر دوہرا معیار اختیار کرنے کا حکومت پر الزام عادء کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں احتجاج کیا۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی نیشنل کانفرنس ایم ایل اے علی محمد ساگر کی زیر قیادت اپوزیشن ارکان نے حکومت سے یہ وضاحت طلب کی کہ وادی میں گزشتہ سال 5 ماہ طویل پرتشدد احتجاج کے دوران ہلاک مظاہرین کے ورثاء کو 5 لاکھ روپئے معاوضہ منظور کیا گیاہ ے یا نہیں؟ اگرچہ کہ چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے مہلوکین کے ورثاء کو فی کس 5 لاکھ روپئے معاوضہ کا اعلان کیا لیکن حکومت کی حلیف جماعت بی جے پی نے اعتراض کیا جس کے ساتھ ہی تمام اپوزیشن ارکان ایوان کے وسط میں یہ نعرے ’’ہمارے سوالوں کا جواب دو، دوہری پالیسی نہیں چلے گی‘‘ بلند کئے جس کے باعث ایوان کی کارروائی درہم برہم ہوگئی۔ پرتشدد احتجاج کے دوران جان بحق مظاہرین کے افراد خاندان کی بازآبادکاری کے بارے میں چیف منسٹر نے گزشتہ ہفتہ اسمبلی میں کہا تھا کہ وہ ہمارے بچے ہیں ان کی بازآبادکاری ہمارا فریضہ ہے۔ مہلوکین کے لوحقین کے لیے 5 لاکھ روپئے بطور ایکس گریشیاء اور کہا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ سکیوریٹی فورسس کی فائرنگ میں ہلاکت کی صورت میں مہلوک کے ایک رکن خاندان کو ملازمت فراہم کرنے کے عہد پر حکومت کاربند ہے جبکہ مکمل بینائی سے محروم نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی اور مستقبل معذور ہونے والوں کی 75 ہزار روپئے کی امداد دی جائے گی۔ تاہم مخلوط حکومت کی حلیف جماعت بی جے پی نے کل مجلس عاملہ کے اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی تو اور حکومت کی جانب سے قوم دشمن عناصر کی حوصلہ افزائی اور قوم پرست طاقتوں کی حوصلہ شکنی کی جو کوشش کی مخالفت کا اعلان کیا گیا تھا۔ نیشنل کانفرنس ایم ایل اے دیویندر سنگھ رانے بتایا کہ جس وقت چیف منسٹر اسمبلی میں معاوضہ کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت قریب میں بیٹھے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نرمل سنگھ نے لب کشائی نہیں کی تھی لیکن کل اچانک بی جے پی کے اجلاس میں نرمل سنگھ اور دیگر وزراء نے معاوضہ کی ادائیگی کی مخالفت میں ایک قرارداد منظور کردی۔ اپوزیشن ارکان تقریباً پندرہ بیس منٹ تک ایوان کے وسط میں احتجاج کرتے رہے جبکہ دیویندر رانا نے ڈپٹی چیف منسٹر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ متاثرین کو معاوضہ پر حکومت سے وضاحت طلبی اور ڈپٹی چیف منسٹر سے استعفیٰ کے مطالبہ پر نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کے درمیان بحث و تکرار ہوگئی۔

TOPPOPULARRECENT