Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / مہلک عادات سے اجتناب

مہلک عادات سے اجتناب

اللہ سبحانہ نے انسانوں کو اشرف المخلوقات بنایا ہے،انسانوں اوردیگرمخلوقات کے درمیان فرق وامتیاز کرنے والی شئی عقل سلیم جیسی نعمت اللہ سبحانہ نے اپنے بے پپاں فضل وکرم سے بخشی ہے ، جو اچھے وبرے میں تمیزکرنا سکھاتی ہے۔انسانی عقل وفہم کوسلامتی کی راہ پر لانے کے لئے مزیداللہ سبحانہ نے آسمانی ہدایات نازل فرمائی اوریاددہانی کیلئے انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایاجوحق وباطل میں فرق وامتیازکے ساتھ اچھے وبرے میں فرق کرنے کا سبق تازہ کراتے ہیں۔اچھی عادات اختیارکرنے اوربری عادات سے اجتناب کی تلقین کرتے ہیں، اخروی کامیابی کی جہاں راہ دکھاتے ہیں وہیں دنیا کی زندگی کو بہتربنانے اورصحت جسمانی کی حفاظت کے ساتھ روحانی صحت کی برقراری کے گربتاتے ہیں،خداترسی وفکرآخرت کاخوگربنا کر خواہشات نفس کی اسیری سے چھٹکارہ دلاتے ہیں ،خواہش نفس کی پیروی ہی دراصل انسان کو خود فراموشی وخدافراموشی کی راہ پر لگاتی ہے،اچھی وبری عادات کے اختیارکرنے میں نفس کا بڑدخل ہے ۔ آسمانی ہدایات سے بھر پورروشنی حاصل کرکے نفس پر قابو پایا جاسکتاہے ،نفس جب قابو میں آجائے تو خودبخود اچھی عادتیں  پسندخاطر بن جاتی ہیں ،بری عادات سے طبعاً نفرت ہونے لگتی ہے،بری عادات میں بہت سی وہ مضرعادات ہیں جو حرمت کا درجہ رکھتی ہیں،جیسے شراب اورنشہ آوراشیاء وغیرہ ۔اسلام نے انکو حرام قراردیا ہے لیکن بعض مضرصحت عادات وہ ہیں جو مہلک ہیں انکے حرام ہونے میں علماء کا  اختلاف ہے جیسے سگریٹ،زردہ،گٹکاوغیرہ۔تمباکوکا استعمال قدیم سے رائج ہے ،ہر دورمیں اسکو تبدیل کرتے ہوئے نئے نئے ناموں کے ساتھ اس مہلک زہرکی خریدوفروخت اوراسکا استعمال جاری ہے،کچھ علماء وہ ہیں جواسکو حرام اورکچھ مکروہ قراردیتے ہیں انکا قیاس غذائی استعمال کی اشیاء جیسے کچا پیاز ولہسن وغیرہ سے ہے کہ جسکے بارے میں حدیث پاک میں انکے استعمال کے بعد دہن صاف کئے بغیرمساجد میں حاضرہونے کی کراہت واردہے۔ان اشیاء کی حرمت کی رائے رکھنے والے علماء کے استدلال کی بنیاد قرآن پاک کی  یہ آیت اوریہ حدیث پاک ’’ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ‘‘اپنے آپ کو اپنے ہاتھوںہلاکت میں مت ڈالو (البقرۃ:۱۹۵) اوریہ حدیث پاک میں واردہے ’’صحت کو نقصان پہونچانے والی اورقویٰ میں سستی پیدا کرنے والی ہر ناپاک ونا خوشگوار شئی حرام ہے‘‘ فکرآخرت سے غفلت اورمعاشی تگ ودومیں حد درجہ انہماک اصل ہلاکت ہے،لیکن اللہ سبحانہ کی دی ہوئی نعمت زندگی کواللہ کی مرضیات کی راہ پر لگانے کے بجائے لغویات میں کھوجانا اورایسی مہلک عادات کا اختیارکرنا جو خاموش زہرکا کام کرکے انسانی صحت کو تباہ وبربادکردے یہ بھی اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔مغربی ممالک میں منصوبہ بندکوششوں سے خصوصیت کے ساتھ نوجوان طلبہ وطالبات کو نشانہ بنا یا جارہا ہے کہ کسی طرح انکو مہلک عادات جیسے نشہ آوراشیاء ،سگریٹ،زردہ وغیرہ کا عادی بنایا جائے ، سگریٹ کے نام سے تمباکو میں اورنشہ آوراشیاء شامل کرکے نوخیرنسل کے ساتھ کھلواڑکیا جارہا ہے ،ایک تحقیق کے مطابق مغربی ممالک میں سگریٹ نوشی کی وجہ ایک بڑی تعدادہر سال موت کے منہ میں پہونچتی ہے۔ایک طرف سگریٹ نوشی کے نقصانات کا تخمینہ سامنے لایا جاتا ہے اوران اشیاء پر بھاری ٹیکسس عائد کئے جاتے ہیں لیکن اسکے باوجود اسکی صنعت پر کوئی خاصہ اثرقائم نہیں ہوتا،اسکے بجائے اسکی صنعت پر امتناع عائد کیا جانا چاہئیے تاکہ سماج کو اسکے مضراثرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔سگریٹ نوشی کے نقصانات صرف اسکے استعمال کرنے والے تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ اطراف کے حال وماحول کو متاثرکرتے ہیں اوروہ جو بذات خود اسکا استعمال نہیں کرتے لیکن قرب وجوار میں انکا استعمال کرنے والوں کے عمل کی وجہ متاثرہوتے ہیں اسکوPassive Smoking کا نام دیا گیا ہے،چونکہ اس سے نکلنے والا دھواں زیادہ کثیف اورمسموم ہوتا ہے اسلئے موجودہ دورمیں طیرانگاہوں اورعوامی مقامات پر ’’اسموکنگ زون‘‘بنا دئیے گئے ہیں تاکہ اسکے زہریلی اثرات سے دوسروں کو محفوظ رکھا جاسکے، بڑی تحقیق کے بعد آج دنیا اسکے نقصانات کا اندازہ کرسکی ہے ، لیکن نبی رحمت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے آج سے ڈیڑھ ہزارسال قبل تمثیل کی زبان میں عام دھویں کے نقصانات کی پیش قیاسی فرمادی ہے،آپ ﷺ نے اچھے اورنیک دوست اوربرے دوست کی مثال بیان فرماتے ہوئے فرمایا’’کہ ایک وہ ہے جو مشک اٹھائے ہوئے ہے دوسرا وہ جو بھٹی دھونکتا ہے مشک رکھنے والے سے کوئی مشک نہ خریدے تب بھی ہمنشینی کی برکت سے مفت میں اسکو خوشبو ملے گی یعنی وہ اسکی خوشبواورمہک تو سونگھ ہی لے گا اورخریدے تب بھی اپنی مشام جاں کو معطر کرسکے گا،بھٹی دھونکنے والے کی ہمنشینی لباس کو خاکسترکردیگی یا پھر اس سے بدبوداردھواں اسکو پہونچے گا‘‘اس تمثیل میں دھویں کا ذکرہے بھٹی کا دھواں چونکہ نقصان پہونچا تا ہے اس لئے آپ ﷺ نے برے ساتھی کی ہمنشینی کی مثال اس سے دی ہے۔

طب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سگریٹ میں چارہزارسے زائد نقصان رساں اجزاء موجودہوتے ہیں جو،دہن،حلق،قلب وجگر پھیپھڑے،معدہ ،مثانہ وغیرہ جیسے اعضاء رئیسہ کی کارکردگی کو بتدریج ناکارہ بنا تے ہیں ۔سگریٹ نوشی دوران خون کو بھی متاثرکرتی ہے ، کاربن مونواکسائیڈ نامی زہریلی گیس جسم میں پھیلتی ہے جسکی وجہ آکسیجن کی خون کے خلیات تک رسائی میں رکاوٹ پیداہوتی ہے،سگریٹ کا ایک خاص زہر ’’نکوٹین‘‘ہے اسکے شدید نقصانات جسم وجان کے لئے باعث آزاربنتے ہیں ۔ محققین نے سگریٹ نوشی کو ’’خاموش قاتل ‘‘قراردیا ہے ، اسکی وجہ سالانہ 5.4 ملین افراد کی موت کا اندازہ ہے ۔
سونف ،سپاری وغیرہ کے پاکٹس بھی پان ڈبوں پر فروخت ہوتے ہیں ،خواہش ورغبت کے ساتھ عوام اسکو خریدتے اوراستعمال بھی کرتے ہیں،ایک تحقیق یہ ہے کہ بعض ایسے پاکٹس میں       نشہ آوراشیاء کا استعمال ہوتا ہے تاک لوگ اسکے عادی بن سکیںاوراسکی تجارت کرنے والوں کو مالی فوائد حاصل ہوں۔طبی تحقیق کے مطابق سگریٹ ،تمباکو غیرمصدقہ سونف وسپاری اورگٹکا وغیرہ کے پاکٹس کا استعمال دہن کی بہت سی بیماریوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے،دہن اورحلق کا کینسر ان مہلک اشیاء کے استعمال کی دین ہے۔ گٹکا بھی اب بکثرت استعمال ہورہاہے بوڑھے ،نوجوان اورنوخیزنسل اسکی بری طرح عادی ہوتی جارہی ہے ۔گٹکا میں استعمال ہونے والے زردہ ،سپاری،چونہ،خوشبویات کے ساتھ پتہ نہیں کیا کیا زہریلے کمیکلس شامل کئے جاتے ہیں ،کہ جسکی وجہ اسکے نقصانات کا مشاہدہ خاص وعام سب کوہے۔ایک تحقیق یہ ہے کہ ان اشیاء کے مجموعہ کو جوخاص پراسس سے گزارا جاتا ہے اسکی وجہ اسمیں فنگس یعنی پھپھوندی پیداہوجاتی ہے ،اسکی تیزی اورکڑواہٹ کو دورکرنے کیلئے رنگ آمیزخوشبوؤں کا استعمال کیا جاتاہے،اس میں کس حد تک صداقت ہے وہ تو بچشم خود مشاہدہ کے بعد ہی کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن طبی ماہرین نے اسکے استعمال کو موجودہ دورمیں کینسرکا سب سے بڑا ذریعہ بتا یا ہے ۔ امیر وغریب سب اسکے عادی ہوتے جارہے ہیں ،بکثرت اسکے استعمال کے شواہدانکی وہ پاکٹس ہیں جو جابجاراستوں میں پڑی دکھائی دیتی ہیں،جوحضرات گٹکے کے عادی ہوتے ہیں انکے دہن ہمیشہ گٹکا اوراس سے پیداہونے والے لعاب سے لبالب ہوتے ہیں ،نہ وہ کسی سے بات کرسکتے ہیں اورنہ کسی کی بات کا جواب دے سکتے ہیں جب تک کہ وہ گٹکے سے پیداہونے والا رقیق لعاب تھوک نہ دیں۔جابجا گٹکے کے پیگ تھوکے جاتے ہیں ،سرکاری دواخانوں ،کمپنیوں اوردفاترکے لفٹس خاص طورپر طہارت خانے اس سے آلودہ رہتے ہیں ۔
حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایہ کی صحت کو ہر طرح عزیزرکھیں ،گٹکا وغیرہ جیسی مصنوعات پر کڑی نگرانی رکھیں ،انکی تیاری میں اگرکچھ مضراشیاء شامل ہیں تواسکی روک تھام کریں،بہتربات تو یہ ہے کہ ایسی مصنوعات پر پابندی لگے اورایسی اشیاء کی تیاری کی حوصلہ افزائی ہو جو صحت بخش اورفرحت بخش بھی ہوں جس سے استعمال کرنے والوں کو تسکین خاطر ہو اورجسم وجاں کو فائدہ بھی پہونچے تاکہ مہلک عادات سے ملک کے شہریوں کا بچنا آسان ہوجائے۔

TOPPOPULARRECENT