Sunday , August 20 2017
Home / مضامین / مہنگائی اور معاشی مسائل

مہنگائی اور معاشی مسائل

کے این واصف
مہنگائی اب ایک عالمی مسئلہ ہے ۔ یہ اب کسی ملک یا خطے کا مسئلہ نہیں رہا ۔ غریب اور ترقی پذیر ممالک سے جو لوگ آسودہ حالی کی تلاش میں دولت مند اور ترقی یافتہ ممالک منتقل ہوئے تھے وہاں بھی لوگ مہنگائی سے پریشان ہیں۔ تیل کی دولت سے مالا مال جانے جانے والے خلیجی ممالک بھی مہنگائی کی مار سے نہیں بچے ہیں۔ یہاں مقامی اور غیرملکی دونوں ہی مہنگائی سے پریشان ہیں ۔ نیز ایک طرف تو مہنگائی کا گراف چڑھتا جارہا ہے تو دوسری طرف خانگی سکٹر میں تنخواہوں میں اضافہ ہونا تو کجا مہینوں ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی ہیں۔ ہم اپنی بات کو سعودی عرب تک محدود رکھ کر دیکھتے ہیں۔ سعودی عرب میں کوئی ایک کروڑ غیرملکی آباد ہیںاور ان غیرملکیوں میں سب سے بڑی تعداد ہندوستانی  باشندوں کی ہے۔ یہاں سرکاری ملازمین کے حالات اتنے ابتر نہیں ہیں مگر یہاں غیرملکی ایک چھوٹی سی تعداد میں سرکاری ملازمتوں میں ہیں۔ پچھلے دنوں سعودی عرب کے ایک اخبار ’’الاقتصادیہ‘‘ نے سرکاری اعداد و شمار پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی جس میں بتایا گیا تھا کہ سرکاری محکموں میں کام کرنے والے سعودی ملازمین کی تنخواہوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.3 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے مقابل سرکاری محکموں میں مختلف شعبوں میں کام کرنے والے غیرملکیوں کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال مقامی شہریوں کی اوسط تنخواہ 9555 تھی جو امسال بڑھ کر 10154 ہوگئی ہے جبکہ غیرملکیوں کی اوسط تنخواہ 8024 تھی جو بڑھ کر 8425 ہوگئی ہے ۔ الاقتصادیہ میں شائع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق سماجی انشورنس میں رجسٹرڈ سرکاری ملازمین کی تعداد 208820 یہ جن میں سے 92 فیصد سعودی شہری ہیں جبکہ بقیہ 8 فیصد غیرملکی ہیں جن کی تعداد 17272 ہے ۔

سماجی انشورنس میں رجسٹرڈ افراد کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 16.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال ان کی تعداد 179316 تھی اور غیرملکیوں کی تعداد میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصدہوا اس حقیقت سے سب ہی واقف ہیں کہ کسی بھی ملک کی آبادی کا ایک بہت ہی چھوٹا تناسب سرکاری ملازمتوں میں ہوتا ہے ۔ مگر یہ لوگ ہمیشہ ایک محفوظ سایہ میں رہتے ہیں ۔ سعودی غرب میں غیرملکیوں کی ایک بہت بڑی تعداد آباد ہے اور ان میں سے سرکاری ملازمتوں میں راست طورپر بہت کم خارجی باشندے کام کرتے ہیں جن میں سب سے بڑی تعداد محکمہ صحت میں کام کرتی ہے یا پھر دیگر محکموں میں جو ایک محدود تعداد ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ٹکنو کرافکس ہیں۔ چھوٹی اور درمیانی درجہ کی ملازمتوں پر سرکاری محکموں اور بینکس وغیرہ میں بڑی تعداد میں غیرملکی کام کرتے ہیں۔ مگر وہ ان اداروں کے راست ملازم نہیں رہتے بلکہ وہ بحیثیت Out Source Employees کے کام کرتے ہیں ۔ یعنی ادارے ان کارکنان کو کسی Man Power Supply کمپنی سے حاصل کرتے ہیں ۔ یہ کارکن بے شک ان اداروں میں کام کرتے ہیں لیکن وہ ملازم خانگی کمپنی کے ہوتے ہیں۔ سرکاری ملازمین یا بڑے نیم سرکاری اداروں اور بینکس وغیرہ میں بحیثیت Out Source Employees کام کرنے والے افراد پر بگڑے ہوئے معاشی حالات کا اثر اتنا نہیں ہے جتنا خانگی شعبہ میں کام کرنے والوں پر ہے اور ان میں خصوصاً وہ افرادی قوت جو تعمیراتی شعبہ ، تعمیراتی مواد تیار کرنے یا بیچنے والی کمپنیوں سے منسلک ہیں۔ ان لاکھوں افراد کے حالات بہت خراب ہیں ۔ ایک طرف مہنگائی اور دوسری طرف تعمیراتی شعبہ اور اس سے جڑی کمپنیوں کے ملازمین کو تین تین مہینے اور کہیں اس سے زیادہ سے انھیں تنخواہیں نہیں ادا کی گئیں۔ سعودی عرب کی کچھ نامور اور بڑی کنسٹرکشن کمپنیاں ایسی ہیں جنھوں نے ہزاروں کی تعداد میں اپنے ملازمین کو ملازمت سے فارغ کردیا ۔ مگر ان کے حقوق ادا نہیں کئے ۔ اب یہ لوگ کئی کئی ماہ سے اپنے End of Service Benifits حاصل کرکے وطن لوٹنے کے انتظار میں یہاں بیٹھے ہیں۔ کیونکہ ملازمت سے نکال دیئے گئے لہذا تنخواہ بھی بند ہے ۔ اب ملازمت رہے یا چلی جائے انسان کے اپنے رہنے ، کھانے پینے اور دیگر ضروری اخراجات تو جاری رہتے ہیں۔ اب بھلا ایک بیروزگار آدمی کس طرح اور کہاں سے یہ اخراجات پورے کرے ۔ وہ لوگ جو اپنی فیملی کے ساتھ یہاں رہتے ہیں ان کی اکثریت نے فیملی وطن واپس بھیج دی اور خود اکیلے اس انتظار میں ہیں کہ کمپنی سے اپنے حقوق حاصل کریں اور وطن واپس ہوں ۔ اب وطن واپس ہوکر کیا کریں گے یہ ایک الگ سوال ہے ۔پہلے درپیش مسئلہ تو یہ ہے کہ یہاں روزمرہ کی ضروریات کس طرح پوری کرے ، فیملی وطن منتقل کرنے سے اخراجات کچھ کم ضرور ہوں گے مگر ختم تو نہیں ہوتے ۔ ان کے علاوہ وہ لوگ بھی اپنی فیملی واپس وطن بھیج رہے ہیں جن کمپنیوں میں تنخواہوں کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر ہورہی ہے ۔

یہاں فیملی کے ساتھ رہنے والوں کا سب سے زیادہ پیسہ مکان کے کرایہ ، میڈیکل بلس اور اسکول فیس کی ادائیگی پر خرچ ہوتا ہے ۔ یہاں اس بات کاتذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ یہاں کے سرکاری اسپتالوں میں خارجی باشندوں کو علاج کی سہولت حاصل نہیں ہے ۔ نیز یہاں کے سرکاری مدارس میں غیرعرب بچوں کو داخلے نہیں دیئے جاتے جس کی وجہ سے خارجی باشندوں کو علاج کیلئے خانگی دواخانوں اور بچوں کو خانگی مدارس جانا پڑتا ہے ۔ ویسے ہندوستانی ، پاکستانی ، بنگلہ دیشی اور سری لنکی باشندے جن کی تعداد یہاں بہت زیادہ ہے کیلئے سعودی سرکاری مدارس میں تعلیم حاصل کرنا کارآمد بھی نہیں ۔ ایک تو یہ عربی میڈیم ، دوسرے ان کا نصاب مختلف اگر بچہ کچھ عرصہ یہاں تعلیم حاصل کرکے اپنے وطن واپس جائے تو اس کیلئے آگے کی تعلیم میں مسائل پیدا ہوں گے ۔ یہاں کچھ ممالک جہاں کے باشندے یہاں بھاری تعداد میں رہتے ہیں ان کی اپنی ایمبیسی کی نگرانی میں کمیونٹی اسکولز قائم ہیں جس میں فیس نسبتاً بہت کم ہوتی ہے۔ انڈین ایمبیسی کے تحت بھی یہاں بڑے شہر میں کمیونٹی اسکولس قائم ہیں۔ مگر چونکہ یہاں انڈین کمیونٹی کے بچوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ایک ایک اسکول میں دس ہزار سے زائد بچوں کو داخلہ دیئے جانے کے باوجود لاکھوں بچے خانگی مدارس میں داخلے لینے پر مجبور ہیں اور ان کی اکثریت کے والدین خانگی اسکولز کی فیس بڑی مشکل سے ادا کرپاتے ہیں۔ یہاں کے ایک خانگی اسکول Success International School کے منیجنگ ڈائرکٹر سید ابن مسعود نے سیاست نیوز کو بتایا کہ پچھلے تین چار سال سے اسکولز کو فیس کی وصولی نہ ہونے کی وجہ سے خانگی اسکولز کے انتظامات مالی مشکلات سے دوچار ہورہے ہیں ۔ سید مسعود سابق میں انٹرنیشنل انڈین اسکول ریاض کی انتظامی کمیٹی کے رکن رہے ہیں اور پچھلے 40 سال سے یہاں تعلیمی شعبہ سے منسلک ہیں۔

بہرحال یہاں خانگی کمپنیوں میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا نہ ہونا اور ہزاروں کمپنیوں میں ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر سے کروڑہا افراد مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے خلیجی ممالک کی معیشت بری طرح متاثر ہے ۔ اب شاید جب تیل کی مارکٹ مستحکم ہوگی تو تب جاکر خلیجی ممالک کی معیشت دوبارہ مستحکم ہوگی ۔ اور شاید اس خطہ میں وہ خوشحالی جو 19 ویں صدی کے اواخر سے 20 ویں صدی کی ابتداء میں تھی وہ واپس آسکے ۔ ورنہ آج کے حالات تو بیحد خراب ہیں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT