Sunday , August 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مہنگائی ‘حکومت اور عوام

مہنگائی ‘حکومت اور عوام

میرے بچوں کے لئے دو وقت کا آٹا نہ تھا
ہاں مگر گھر میں متاعِ ظرف کا گھاٹا نہ تھا
مہنگائی ‘حکومت اور عوام
ملک بھر میںمہنگائی اپنے عروج پر ہے۔ روز مرہ کے استعمال سے لے کر ادویات اور دودھ جیسی ضرورت کی تقریبا تمام اشیا کی قیمتیںمسلسل بڑھتی جارہی ہیں اورملک کے عوام مہنگائی کی مار سہنے کیلئے مجبور ہیں۔ اس مسئلہ میںایسا لگتاہے کہ ملک میںکوئی حکومت ہی نہیںہے یا پھر حکومت نے خودکو اس اہم ترین مسئلہ سے الگ تھلگ کرلیا ہے ۔ وہ نہ صارفین کوکسی طرح کی مدد کرنے کے موقف میں نظر آتی ہے اور نہ ہی ذخیرہ اندوزی یا کالا بازاری کے خلاف کچھ کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت عام آدمی اور ملک کے عوام کے مسائل پر توجہ دینے سے زیادہ ملک کے کارپوریٹس کے مفادات کا تحفظ کرنے پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہوئی ہے ۔ اب ملک بھر میں پیاز کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ ملک کے کچھ حصوں میں پیاز 100 روپئے فی کیلو تک پہونچ گئی ہے ۔ تور کی دال 140روپئے کیلو تک پہونچ گئی ہے۔ یہ دونوں اشیا ملک کے عوام کی اکثریت کیلئے روز مرہ کے استعمال کی ہیں اور ان کی قیمتیں عام آدمی کی پہونچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ وقفہ وقفہ سے بڑے اداروںکی جانب سے دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کاسلسلہ الگ سے چل رہا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ مرکز کی بی جے پی حکومت اقتدار ملنے کے بعد دھیرے دھیرے کچھ وقفہ سے عوام سے کئے گئے وعدوںکو یکسر فراموش کرتی جارہی ہے یا پھر عوام پر یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ وہ ان وعدوں کو فراموش کردیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ گذشتہ دنوں پیاز کی قیمتوں کے مسئلہ پر ایک مرکزی وزیر نے عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ بی جے پی نے کبھی بھی اچھے دن لانے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران بی جے پی کے تمام قائدین نے عوام کو اچھے دن لانے کا جھانسہ دیا تھا ۔ گذشتہ ایک سال سے زیادہ وقت میں کبھی بھی اس وعدہ سے انکار بھی نہیں کیا گیا تھا ۔ لیکن اب اچانک ایک مرکزی وزیر یہ کہنے لگے ہیں کہ بی جے پی نے کبھی بھی ملک کے عوام سے اچھے دن لانے کا وعدہ نہیںکیا تھا ۔ ان کا یہ ادعا ہے کہ یہ نعرے سوشیل میڈیا میں ابھرے تھے اور بی جے پی کے منہ میںعوام نے یہ نعرے ٹھونسے تھے جس سے بی جے پی نے انکار نہیں کیا تھا۔
چندماہ قبل خود بی جے پی کے صدر نے کالے دھن کے مسئلہ پر کئے گئے وعدے کو ایک انتخابی وعدہ یا مذاق قرار دینے کی کوشش کی تھی ۔ نریندر مودی نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بیرونی ممالک میں رکھے گئے کالے دھن کو واپس لائیں گے اور ملک کے ہر شہری کے بینک اکاؤنٹ میںدس تا پندرہ لاکھ روپئے جمع کروائے جائیں گے ۔ جب بی جے پی کو اقتدار مل گیا تو وزیراعظم نے تواس پر خاموشی اختیار کرلی لیکن پارٹی کے صدر نے عوام کے ذہنوں سے یہ وعدہ نکالنے کی کوشش کی اور یہ کہنے میںعار محسوس نہیںکیاکہ یہ ایک محض انتخابی وعدہ تھا اور اس پر کوئی گرفت نہیںکی جاسکتی۔ اس طرح انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ انتخابات کے دوران صرف ووٹ حاصل کرنے کیلئے سبزباغ دکھائے جاتے ہیں اور حقیقت میں ایسا کچھ نہیں کیاجاسکتا ۔ملک کے عوام کو انتخابات کے دوران کئے جانے والے انتخابی وعدوں پر حکومتوںسے سوال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ یہ بی جے پی حکمرانی کاایک ایسا پہلو ہے جس کو وہ ممکنہ حد تک عوام کی توجہ سے دور رکھناچاہتی ہے ۔ بی جے پی کو اقتدار ملے ایک سال سے زیادہ کا وقت ہوگیا ہے اور عوام کیلئے کسی طرح کی سہولت میسر ہونے کی بجائے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ادویات ‘ دودھ اور روزہ مرہ کے استعمال کی دیگر اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں لیکن حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ حکمرانی کے مزیدلوٹنے میںمصروف ہے ۔ حکومت نے قیمتوںکے مسئلہ سے خود کو عملا الگ تھلگ کرلیا ہے۔
اپوزیشن ‘ حکومت کواسکے وعدے یاد دلانے اورعوام کو پیش آنے والی مشکلات کو اجاگر کرنے کی کوششیں اپنے طور پر کر رہی ہیں لیکن حکومت پر ان کا بھی کوئی اثر ہوتا دکھائی نہیں دے رہاہے ۔ حکومت اقتدار کے نشہ میں مست ہے۔ وزیرا عظم کو بیرونی دوروں سے فرصت نہیں ہے اور وہ بیرونی سرزمین سے ملک کی سابقہ حکومتوں پر تنقید کو فرض سمجھے ہوئے ہیں۔اسکے نتیجہ میںملک کو جس پشیمانی کاسامنا کرنا پڑتاہے اس سے وزیراعظم کوکوئی سروکار نظرنہیںآتا ۔ عملا انہوں نے ملک‘ ملک کے عوام اور یہاںہونیوالی مشکلات اور پریشانیوں کوفراموش کردیاہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیر اعظم ہوا میںاڑنے کااپنادورانیہ مختصر کریںا ور عوام کی مشکلات اور مہنگائی سے نجات دلانے کیلئے سنجیدہ کوششیںکریں۔ اب وہ ملک کے حکمران ہیںاور انہیں یہ حقیقت سمجھناچاہئے کہ اب صرف بیان بازیوںسے کام نہیںچل سکتا۔ اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT