Saturday , August 19 2017
Home / اداریہ / مہنگائی پر قابو آخر کب ہوگا

مہنگائی پر قابو آخر کب ہوگا

پہلے دیوانہ بنایا پھر لگے کرنے مذاق
آئنہ دکھلایا مجھ کو پھر اُٹھاکر رکھ دیا
مہنگائی پر قابو آخر کب ہوگا
ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ روز مرہ کے استعمال کی شائد ہی کوئی چیز ایسی ہو جس کی قیمتیں آسمان سے باتیں نہیں کر رہی ہوں۔ ملک میں دالوں کی قیمتیں انتہا کو پہونچ گئی ہیں۔ دالیں 200 روپئے فی کیلو تک پہونچ گئی ہیں تو ٹماٹر نے بھی اپنے رنگ دکھانے شروع کردئے ہیں اور کی قیمت 100 روپئے فی کیلو تک پہونچ گئی ہیں۔ آلو کی قیمتیں بھی الگ آسمان سے چھونے لگی ہیں۔ یہ تمام اشیا ایسی ہیں جو ہندوستانی عوام کی روز مرہ کے استعمال کی اشیا میں شمار ہوتی ہیں اور ان کے بغیر ہندوستانی عوام کا گذارہ نہیں ہوسکتا اور ان ہی اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ دودھ کی قیمتوںمیں خاموشی سے اضافہ کا سلسلہ جاری ہے اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں بھی حکومت خود اضافہ کرتی جا رہی ہے ۔ ایسے میں ملک کے عوام کا جینا محال ہوتا جا رہا ہے ۔ بلکہ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ عوام کیلئے کھانا محال ہوتا جا رہا ہے ۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لینے کے بعد نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ نہ میں خود کچھ کھاؤنگا نہ کسی اور کو کھانے دونگا ۔ یہ اعلان حالانکہ کرپشن کے تعلق سے تھا لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ ملک کے عوام کو دو وقت کی روٹی تک کھانے کی اجازت نہیں دی جائیگی کیونکہ قیمتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ غریب اور متوسط طبقہ کیلئے بھی دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا آسان نہیں رہ گیا ہے ۔ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوںمیں بین الاقوامی مارکٹ میں مسلسل گراوٹ کے وقت حکومت نے عوام کو فائدہ منتقل کرنے کی بجائے اپنے خزانے بھرے تھے اور اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کردیا تھا ۔ اب جبکہ بین الاقوامی مارکٹ میں تیل کی قیمتوں میں معمولی سا اضافہ ہوتا ہے تو حکومت اکسائز ڈیوٹی کو کم کرنے کی بجائے یہ بوجھ راست عوام پر منتقل کر رہی ہے ۔ یہ در اصل عوام کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے اور اس کا سلسلہ انتخابات سے قبل اچھے دن کے وعدے سے شروع ہوا تھا ۔ عوام کیلئے تو اچھے دن ایسا لگ رہا ہے کہ ایک خواب ہوگئے ہیں اور یہ اچھے دن اگر کسی کے آئے ہیں تو وہ اڈانی اور امبانی کے آئے ہیں یا پھر وجئے ملیا جیسے تاجروں کے آئے ہیں جنہیں ہزاروں کروڑ روپئے حکومت نے قرض دیا اور پھر انہیں ملک سے فرار ہونے کا موقع بھی دیا گیا ۔
بی جے پی اور اس کی مرکزی قیادت یا پھر حکومت کے نمائندوں کو اگر کوئی فکر لاحق ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ کس ریاست میں انتخابات کس طرح جیتے جائیں۔ کس طرح سے کسی بھی ریاست کا اور بحیثیت مجموعی ملک کا ماحول پراگندہ کرتے ہوئے عوام کے ذہنوں میں نفرت کو مزید شدید کیا جائے ۔ کس طرح سے دو فرقوں میں منافرت پیدا کرتے ہوئے اپنی سیاست کو چمکایا جائے اور کس طرح سے اپوزیشن کا خاتمہ کیا جاسکے ۔ اسے اگر کوئی فکر ہے یہ کہ جی ایس ٹی بل منظور ہوجائے تاکہ سرکاری خزانہ کو مزید آمدنی ہوسکے ۔ حکومت کو فکر ہے تو اس بات کی کہ پکوان گیس پر دی جانے والی سبسڈی جتنا جلدی ممکن ہوسکے ختم کی جائے لیکن اگر حکومت کسی جانب توجہ دینے کیلئے تیار نہیں ہے تو وہ صرف مہنگائی کا مسئلہ ہے ۔ اس مسئلہ پر عوام کو مسلسل حالات کی مار کھانے کیلئے چھوڑ دیا جا رہا ہے اور حکومت کا وجود ہی سوالیہ نشان بن گیا ہے ۔ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت کالا بازاری کرنے والوں اور ذخیرہ اندوزوں کی بالواسطہ طور پر حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور کالا بازاری کرنے والے بھی حکومت کی سرپرستی میں عوام کو ممکنہ حد تک لوٹتے جا رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل کولکتہ کے ساحل پر لاکھوں ٹن چاول بروقت عدم منتقلی کی وجہ سے خراب ہوگیا تھا لیکن اسے کم قیمتوں پر عوام کو فروخت نہیں کیا گیا ۔ یہ حکومتوں کی بے حسی ہے اور جن عوام کے ووٹوں سے وہ اقتدار حاصل کرتے ہیں انہیں کو دھوکہ دینے کا سلسلہ طویل سے طویل ہوتا جا رہا ہے اور انہیں درپیش مسائل اور چیلنجس کو حل کرنے کی سمت کسی کی بھی توجہ نہیں ہے اور نہ کوئی اقدام کئے جا رہے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی ہیں تو بیرونی دوروں سے انہیں فرصت نہیں ہے ۔ اگر چند ہفتوں کیلئے ہندوستان آتے بھی ہیں تو بی جے پی کو مختلف ریاستوں میں انتخابی کامیابی دلانے کی باتوں میں مصروف رہتے ہیں یا پھر انہیں انٹرنیشنل یوگا ڈے کی فکر لاحق ہوتی ہے جس کا عوام کی روز مرہ کی ضرورت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ایسے مسائل کو چھیڑ کر عوام کی توجہ مبذول کرنے کی کوششیں ہوتی رہتی ہیں جن کے نتیجہ میں حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھتا ہو۔ گذشتہ دو سال میں نریندر مودی حکومت کے اقتدار میں دالیں اور ترکاریاں تک اتنی مہنگی ہوگئی ہیں کہ یہ اب عام آدمی کی ضرورت کی نہیں بلکہ دولت مندوں کے دستر کی زینت ہوتی جا رہی ہے ۔ عام آدمی کیلئے ترکاری کا حصول بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے اور حکومتوں کو اس پر فوری کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT