Sunday , October 22 2017
Home / دنیا / میانمارمیں طویل بغاوت ختم ، مسلح گروپوں سے امن معاہدہ

میانمارمیں طویل بغاوت ختم ، مسلح گروپوں سے امن معاہدہ

70 سالہ بدامنی کے بعد راحت، بعض مسلح گروپس ابھی تک امن بات چیت سے دور
ینگون۔16 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) میانمار میں 70برس سے جاری بغاوت ختم ہوگئی ہے ،حکومت اور 8 مسلح نسلی گروپوں کے درمیان کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد امن معاہدہ طے پاگیا۔ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت نیپی دائو میں امن معاہدے پر دستخط کی تقریب 2 سال تک امن مذاکرات کی حکومتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ تاہم 15 میں سے سب سے فعال 7 مسلح گروپس اب تک امن معاہدے کی میز پر نہیں آئے۔میانمار میں مسلح گروپ 1948ء میں برطانوی حکومت سے آزادی کے بعد سے خودمختاری کیلئے حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ امن معاہدے کے بعد میانمار کی حکومت کو امید ہے کہ اس سے ملک میں سیاسی استحکام لانے میں مدد ملے گی اوریہ معاہدہ تمام سیاسی معاملات کے دیرپا حل کی سمت میں پہلا قدم ثابت ہوسکتا ہے۔امن معاہدے کا حصہ نہ بننے والوں میں باغیوں کا سب سے بڑا گروپ یو ڈبلیو ایس اے اور کاچن انڈیپینڈنس آرگنائزیشن (کے آئی او) شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اجتماعی معاہدے سے قبل مسلح گروپوں نے حکومت سے انفرادی طور پر دوطرفہ جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے۔ امن معاہدے کے بعد حکومت اور مسلح گروپوں کے درمیان آئندہ چند ماہ میں نئے حکومتی نظام کے حوالے سے بات چیت متوقع ہے تاہم یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر میانمار کی آرمی نے اس امن معاہدے کو نظر انداز کیا تو معاملات دوبارہ بگڑ سکتے ہیں۔امن معاہدے کی اس تقریب میں یورپی یونین، ہندوستان، چین، جاپان اور اقوام متحدہ کے نمائندے بھی شریک تھے۔اس سے قبل حکومت نے امن معاہدے پر دستخط کیلئے رضا مندی ظاہر کرنے والے مسلح گروپوں کے نام غیر قانونی گروپوں کی فہرست سے نکال دیے تھے۔ دریں اثناء واشنگٹن کی اطلاع کے بموجب امریکہ نے میانمار حکومت اور نسلی باغی گروپوں کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام متعلقین سے اس کی سختی سے تعمیل کرنے کی اپیل کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT