Friday , April 28 2017
Home / دنیا / میانمار سکیوریٹی فورسزروہنگیا مسلمانوں پر مظالم میں ملوث: ینگہی لی

میانمار سکیوریٹی فورسزروہنگیا مسلمانوں پر مظالم میں ملوث: ینگہی لی

نیویارک ۔ 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کی ایک اعلیٰ اہلکار ینگہی لی نے کہا ہے کہ میانمار میں فوج اور پولیس ملک کی روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف ‘انسانیت سوز جرائم’ کی مرتکب ہو رہی ہیں۔بی بی سی کے جونا فشر سے بات کرتے ہوئے میانمار میں حقوقِ انسانی کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی خصوصی ایلچی نے کہا کہ وہ پیر کو اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی انکوائری کمیشن کو تحقیقات کے لیے باضابطہ درخواست بھی دے رہی ہیں۔میانمار میں ایک سال سے برسرِاقتدار جماعت کی قائد آنگ سان سوچی نے اس حوالے سے بی بی سی کی جانب سے انٹرویو کی درخواست رد کر دی ہے تاہم ان کی جماعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ میانمار کا داخلی معاملہ ہے اور اس حوالے سے الزامات بڑھا چڑھا کر پیش کیے جا رہے ہیں۔ینگہی لی کا کہنا ہے کہ انھیں ان الزامات کی تفتیش کے لیے میانمار کے شورش زدہ علاقے تک آزادانہ رسائی نہیں دی گئی تاہم بنگلہ دیش میں موجود پناہ گزینوں سے بات کر کے انھیں معلوم ہوا ہے کہ صورتحال ان کی توقعات سے کہیں بدتر ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘میں کہوں گی انسانیت کے خلاف جرائم سرزد ہوئے ہیں۔ یقیناً میانمار کی فوج، سرحدی محافظوں اور پولیس کی جانب سے انسانیت کے خلاف جرائم کیے گئے ہیں۔’مینماران کہنا تھا کہ میانمار کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے ظلم و زیادتی ‘نظام کا حصہ’ ہے اور آنگ سان سوچی کی حکومت کو اس کی کچھ ذمہ داری تو لینا ہوگی۔’آخرِکار ان کی حکومت ہے، ایک عوامی حکومت جسے اپنی عوام پر تشدد کے خوفناک واقعات اور انسانیت سوز جرائم پر جواب دینا ہوگا۔’یاد رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں بھی اقوام متحدہ نے روہنگیا اقلیت کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی بنا پر آنگ سان سوچی کی قیادت میں قائم میانمار حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔انسانی حقوق کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے ادارے کا کہنا تھا کہ اسے ہر روز ریپ، قتل اور دیگر زیادتیوں کے بارے میں رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں لیکن آزاد مبصرین کو ان جرائم کی تحقیقات سے روکا جا رہا ہے۔خیال رہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی زیادہ تر آبادی ریاست رخائن میں مقیم ہے اور فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ریاست میں انسدادِ دہشت گردی کی مہم شروع کی تھی تاہم اس کارروائی کے آغاز سے اب تک 75 ہزار افراد ملک چھوڑ کر بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT