Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / میانمار میں برسوں بعد صدر کا انتخاب

میانمار میں برسوں بعد صدر کا انتخاب

آنگ سان سوچی کے دیرینہ دوست اور بااعتماد ساتھی صدر منتخب ، وزیراعظم نریندر مودی کی مبارکباد
نے پی ڈا 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) میانمار کے ارکان پارلیمنٹ نے آنگ سان سوچی کے دیرینہ دوست اور قریبی بااعتماد ساتھی کو ملک کا اولین منتخبہ صدر برسوں بعد قرار دیا۔ یہ ایک تاریخی لمحہ تھا، ماضی میں فوج حکومت چلارہی تھی۔ 69 سالہ ہتن کیاؤ کی اِس  اعلیٰ عہدہ پر فائز ہونے کو ’’سوچی کی فتح‘‘ قرار دیا گیا۔ واضح طور پر اُن کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ نمائشی طور پر ایک شخص کو صدر بناکر حکومت پس پردہ رہتے ہوئے چلائیں گی کیوں کہ دستور کے تحت وہ صدر منتخب نہیں ہوسکتیں۔ ارکان پارلیمنٹ نے کامیابی کے اعلان کے بعد اُن کو مبارکباد پیش کرنی شروع کردی۔ قبل ازیں طویل وقت تک رائے شماری ہوئی تھی جس کے نتیجہ میں دارالحکومت نے پی ڈا میں ہتن کیاؤ نے 652 میں سے 360 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ میانمار حیرت انگیز عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ اب تک وہ الگ تھلگ تھا اور فوج کے جابرانہ دور حکومت سے گزر رہا تھا لیکن بڑی تیزی سے جمہوریت کے حامی اُبھر آئے۔ سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے نومبر میں منعقدہ انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی جس کے نتیجہ میں اُن کی پارٹی کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہوگئی۔

میانمار پوری دنیا سے الگ تھلگ اور فوجی آمریت کے تحت ملک تھا جس نے تیزی سے شفافیت اور جمہوریت اختیار کرلی۔ سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کو نومبر کو انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی جس کی وجہ سے اُن کی پارٹی کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں غلبہ حاصل ہوگیا لیکن فوج جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں طاقتور برقرار رہی اور اس نے فوجی دور کے دستور میں ترمیم کرنے سے انکار کردیا جس کے تحت سوچی ملک کے اعلیٰ ترین سیاسی عہدہ پر فائز نہیں ہوسکتیں۔ نامور کارکن نے عہد کیاکہ وہ آئندہ قائد پر بھی حکمران رہیں گی۔ اُنھوں نے ہتن کیاؤ کو اُن کی جگہ پر کام کرنے کے لئے منتخب کیا کیوں کہ اُنھیں اُن کی وفاداری پر مکمل اعتماد تھا۔ رائے دہی کے بعد منتخبہ صدر نے پریس کانفرنس کے دوران کہاکہ یہ بہن آنگ سان سوچی کی فتح ہے۔ بعدازاں اُنھوں نے اخباری نمائندوں سے اظہار تشکر کیا۔ ہتن کیاؤ یکم اپریل کو صدر کے عہدہ کا جائزہ حاصل کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT