Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / میانمار میں جوش اوراُمید کے ساتھ انتخابات کا انعقاد

میانمار میں جوش اوراُمید کے ساتھ انتخابات کا انعقاد

عوام تبدیلی کے خواہاں ‘ ایک خاتون رائے دہندے کی رائے ‘ 90پارٹیاں انتخابی مقابلہ میں
یانگون۔8نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) زبردست جوش و امید کے ساتھ آج لاکھوں شہریوں نے میانمار کی تاریخ کے اولین  عام انتخابات میں اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ یہ رائے دہی اس بات کا فیصلہ کردے گی کہ فوج کی دیرینہ اقتدار پر گرفت ڈھیلی ہوچکی ہے یا نہیں ۔ قائد اپوزیشن سوچی ایک مرکز رائے دہی پر جو ان کا قیامگاہ سے قریب تھا مسکراتے ہوئے پہنچی جہاں انہیں سینکڑوں صحافیوں نے گھیر لیا ۔ انہوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور اخباری نمائندوں سے بات چیت کئے بغیر فوری واپس چلی گئیں ۔ عوام بدھ مت کے مندروں ‘ اسکولس ‘ سرکاری عمارتوں پر اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کرنے کیلئے صبح کی اولین ساعتوں سے قطاروں میں منتظر کھڑے ہوئے تھے ۔ انتخابی مبصرین نے اسے ایک ’’قابل تذکرہ دن ‘‘ قرار دیا جس میں لوگوں نے پُرجوش انداز میں حصہ لیا ۔ میانمار کا آزاد تبصرہ نگار رچرڈ ہارسے نے کہا کہ یہ انتہائی اہم اور نمایاں دن ہے ۔ پہلی بار ہے جب کہ ملک کے بیشتر عوام کو اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کا موقع ملا ہے  اور وہ آزادی سے اپوزیشن کی بھی تائید کرسکتے ہیں ۔  حالانکہ 90سے زیادہ پارٹیاں انتخابی مقابلہ میں حصہ لے رہی ہے لیکن اصل مقابلہ سوچی کی نیشنل لیگ برائے جمہوریت پارٹی اور برسراقتدار مرکزی یکجہتی و ترقی پارٹی کے درمیان ہے جس میں کثیر تعداد میں سابق فوجی حکومت کے ارکان شامل ہیں ۔ دیگر کئی پارٹیاں بھی انتخابی مقابلہ میں ہیں جن کا تعلق نسلی اقلیتوں سے ہے اور جو ملک کی جملہ آبادی پانچ کرور 20لاکھ کا 40فیصد ہے ۔ ایک 38سالہ خاتون نے کہا کہ وہ رائے دہی کیلئے آنے پر انتہائی پُرجوش ہے اور رات پر سونہیں پائی ‘ اسی لئے وہ علی الصبح یہاں پہنچ گئی ہے ۔ ایک اور 38سالہ خاتون نے کہا کہ وہ اس لئے ووٹ دینے آئی ہے کیونکہ وہ اپنے ملک میں تبدیلی چاہتی ہے ۔انہوں نے امیدظاہر کی کہ درحقیقت آزادانہ ومنصفانہ انتخابات ہوں تو قائد اپوزیشن آنگ سانگ سوچی یقینی کامیابی حاصل کریں گی ‘حالانکہ انہیں یقین تھا کہ انتخابات سے ملک میں مکمل جمہوریت بحال نہیں ہوگی لیکن وہ بے رحم فوجی اقتدار کے تحت تقریباً گذشتہ 50سال ہے اور گذشتہ پانچ سال کے دوران نیم منتخبہ حکومت قائم تھی ۔ میانمار کا دستور طمانیت دیتا ہے کہ پارلیمنٹ کی 25فیصد نشستیں فوج کیلئے مخصوص رہیں گی اور سوچی چاہتی ہیں کہ اس دستور کو ازسرنو تحریر کیا جائے ۔ ملک کی انتہائی مقبول سیاستداں نے کہا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوجائیں تو نیا دستور مدون کروائیں گی ‘ تاہم اس بار امید ظاہر کی جارہی ہے کہ انتخابات سے میانمار جمہوریت سے مزید قریب ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT